• Tue, 13 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

چیٹ جی پی ٹی استعمال کرنا چھوڑ دیا: سیم آلٹمین کا کردار نبھانے کے بعد اینڈریو گارفیلڈ

Updated: October 12, 2026, 9:59 PM IST | London

اسپائیڈر مین اداکار کا کہنا ہے کہ اوپن اے آئی کے سربراہ پر فلم بنانے کے دوران مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں اور اسے فروغ دینے والوں کے علم پر سوالات پیدا ہوئے؛ فلم ’آرٹی فیشل‘ میں ۲۰۲۳ء کی اس کشمکش کو بھی دکھایا گیا ہے جس میں آلٹمین کو کمپنی سے نکال کر ۵؍ دن بعد واپس لایا گیا تھا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ہالی ووڈ اداکار اینڈریو گارفیلڈ نے اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین کا کردار ادا کرنے کے بعد چیٹ جی پی ٹی کا استعمال ترک کردیا ہے۔ گارفیلڈ کے مطابق، فلم ’آرٹی فیشل‘ کی تیاری کے دوران مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے بارے میں ان کی تشویش بڑھی اور انہیں اس پر پہلے جیسا اعتماد محسوس نہیں ہوا۔ لوکا گواڈانینو کی ہدایت کاری میں بننے والی یہ فلم اوپن اے آئی کے قیام، اس کی ترقی اور کمپنی میں آلٹمین کی مختصر برطرفی اور واپسی کے گرد گھومتی ہے۔ گارفیلڈ نے یہ بات فلم کے بارے میں ورائٹی کو دیے گئے انٹرویو میں کہی۔ گارفیلڈ نے کہا کہ ’’مجھے تھوڑا خوف محسوس ہوا۔ ٹیکنالوجی پر میرا اعتماد کچھ کم ہوگیا۔ ایسا لگتا ہے کہ جو لوگ ہمیں یہ ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں، وہ خود بھی اس کی صلاحیتوں کو پوری طرح نہیں جانتے۔ ذاتی طور پر مجھے یہ غیر ذمہ دارانہ محسوس ہوتا ہے۔‘‘ اداکار نے بتایا کہ وہ پہلے چیٹ جی پی ٹی کو تحقیق کے لیے یا ’’گوگل کے ایک جدید متبادل‘‘ کے طور پر استعمال کرتے تھے، لیکن فلم پر کام کرنے کے بعد انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اداکاری کے پیشے میں انہیں اس ٹیکنالوجی پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں، جیسی ضرورت بعض دوسرے شعبوں سے وابستہ افراد کو ہوسکتی ہے۔

گارفیلڈ نے لندن فلم فیسٹیول میں ۱۱؍ اکتوبر کو ہونے والی فلم کی نمائش کے موقع پر رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ وہ تجسس اور خوف کے امتزاج کے باعث اس کردار کی طرف متوجہ ہوئے۔ ان کے مطابق، وہ یہ سمجھنا چاہتے تھے کہ وہ لوگ کس طرح سوچتے ہیں جو دنیا کو ایک نئے دور میں لے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہوں کو شدید تنقید اور مسلسل عوامی نگرانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ طاقت کس کے پاس ہے اور وہ لوگ کس طرح ہماری نئی دنیا تشکیل دے رہے ہیں۔ ’آرٹی فیشل‘ میں آلٹمین کی کہانی کے ساتھ اوپن اے آئی کے اندر مصنوعی ذہانت کی حفاظت اور کمپنی کے مستقبل پر اختلافات کو بھی پیش کیا گیا ہے۔ فلم میں یورا بوریسوف نے کمپنی کے شریک بانی اور سابق چیف سائنس دان الیا سوتسکیور، مونیکا باربارو نے سابق ٹیکنالوجی سربراہ میرا موراتی، آئیک بارن ہولٹز نے ایلون مسک اور مارک رائلنس نے مصنوعی ذہانت کے معروف محقق جیفری ہنٹن کا کردار ادا کیا ہے۔ فلم میں ۲۰۲۳ء کے اس واقعے کو بھی شامل کیا گیا ہے جب اوپن اے آئی کے بورڈ نے آلٹمین کو عہدے سے ہٹا دیا تھا، لیکن صرف 5 دن بعد انہیں دوبارہ کمپنی کی قیادت سونپ دی گئی۔

گارفیلڈ نے واضح کیا کہ انہوں نے کردار کی تیاری کے لیے آلٹمین سے ملاقات یا رابطہ نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ فلم میں دکھایا گیا کردار حقیقی آلٹمین کی مکمل تصویر نہیں، بلکہ ان کی زندگی اور واقعات کی ایک تخلیقی تعبیر ہے۔ آلٹمین نے بھی فلم کے بارے میں تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ بزنس انسائیڈر کے مطابق، انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ فلم پوری طرح درست عکاسی نہیں کرے گی، تاہم امید ہے کہ یہ دیکھنے والوں کے لیے دلچسپ اور تفریحی ثابت ہوگی۔ یہ پہلا موقع نہیں جب کسی ٹیکنالوجی کمپنی سے متعلق کردار نے گارفیلڈ کے ذاتی استعمال پر اثر ڈالا ہو۔ ۲۰۱۰ء کی فلم ’دی سوشل نیٹ ورک‘ میں انہوں نے فیس بک کے شریک بانی ایڈورڈو سیورین کا کردار ادا کیا تھا۔ گارفیلڈ نے بعد میں بتایا کہ اس فلم کے بعد انہوں نے فیس بک بھی استعمال کرنا چھوڑ دیا تھا۔ اب اوپن اے آئی پر بننے والی فلم کے بعد چیٹ جی پی ٹی سے دوری نے ایک بار پھر ان کے کرداروں اور حقیقی زندگی کے انتخاب کے درمیان دلچسپ مماثلت پیدا کردی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نوبیل انعام برائے معاشیات ۲۰۲۶ء کا اعلان، رابرٹ ہال اور مائیکل ووڈ فورڈ فاتح

فلم کی کہانی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی، اس کے ممکنہ خطرات اور اسے بنانے والی کمپنیوں کی جواب دہی پر بحث جاری ہے۔ تاہم، گارفیلڈ کا ذاتی تجربہ ان کی تشویش اور رائے کی عکاسی کرتا ہے؛ یہ بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ مصنوعی ذہانت کے تخلیق کار اپنی ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں سے ناواقف ہیں۔ ’آرٹی فیشل‘ کی منتخب امریکی سینما گھروں میں ریلیز ۲۵؍ دسمبر کے لیے مقرر ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK