بھوک ہڑتال کرنے والے طلبہ کو کیمپس سے باہر نکالنے پر ہنگامہ، متعدد طلبہ حراست میں، کثیر تعداد میں پولیس فورس تعینات۔
EPAPER
Updated: October 19, 2026, 12:39 PM IST | Inquilab News Network | New Delhi
بھوک ہڑتال کرنے والے طلبہ کو کیمپس سے باہر نکالنے پر ہنگامہ، متعدد طلبہ حراست میں، کثیر تعداد میں پولیس فورس تعینات۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میںاتوار کو دن بھر ہنگامہ آرائی ہوتی رہی۔ طلبہ وقفے وقفے سے جامعہ انتظامیہ کے خلاف مظاہرہ کرتے رہے۔ طلبہ نے گیٹ نمبر ۷؍ کی زنجیر توڑ کر غالب کے مجسمے کے نیچے دھرنا دینے کی کوشش بھی کی۔ احتجاج میں اس وقت شدت پیدا ہوگئی جب علی الصباح جامعہ میں اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات کے لیے بھوک ہڑتال کرنے والے طلبہ کو سیکورٹی گارڈز نے کیمپس سے باہر کر دیا۔ اس کارروائی سے طلبہ میں زبردست غم و غصہ پایا گیا۔اگرچہ اتوار کو جامعہ میں ہفتہ واری چھٹی تھی، لیکن سیکڑوں طلبہ نے انتظامیہ کی کارروائی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بھوک ہڑتال کرنے والے طلبہ سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ حالات کے پیش نظر کیمپس میں بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ پولیس نے متعدد طلبہ کو حراست میں بھی لیا ہے۔ذرائع کے مطابق بھوک ہڑتال کے بعد جامعہ انتظامیہ کی حکمت عملی تھی کہ معاملے کو آگے بڑھنے سے روکا جائے اور بھوک ہڑتال کرنے والے طلبہ کو جلد از جلد ہٹا دیا جائے۔
یہ بھی پڑھئے:عمرخالد اور شرجیل امام کو بہت پہلے ضمانت مل جانی چاہیے تھی: جسٹس سُدھانشو دھولیا
عینی شاہد طلبہ کے مطابق صبح ساڑھے چار سے پانچ بجے کے درمیان تقریباً ۲۰۰ ؍سیکوریٹی اہلکاروں نے اچانک طلبہ کو زبردستی ہٹانا شروع کر دیا اور انہیں سڑک پر لے جا کر پھینک دیا۔ اس دوران سیکورٹی گارڈز اور طلبہ کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی۔ طلبہ نے اس کارروائی کے دوران زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔جامعہ کے ایک عہدیدار نے طلبہ کے تمام الزامات کو بے بنیاد اور غلط قرار دیا۔ مختلف طلبہ تنظیموں نے انتظامیہ کے اس قدم کو جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا اوراسٹوڈنٹس یونین کی بحالی کیلئے پرامن احتجاج کرنیوالے طلبہ سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
۲؍طلبہ پر کارروائی
ایک دیگر رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے تادیبی کارروائی کرتے ہوئے محمد جاسم کو ۶؍ ماہ کیلئے یونیورسٹی سے خارج کیا گیا ہے۔ ان پر۱۲؍ اکتوبر کو غیر قانونی طور پر کیمپس میں داخل ہونے، سیکوریٹی اہلکاروں کے ساتھ بدسلوکی، گالی گلوچ اور نظم و ضبط کی خلاف ورزی سمیت کئی الزامات عائد کیے گئے ہیں۔بی اے ایل ایل بی (آنرز) کے طالب علم ایبن کو ایک سال کیلئے یونیورسٹی سے خارج کیا گیا ہے۔