’ہندوستانی آئین میں انصاف کا تصور‘ کے موضوع پر منعقدہ’سر سید لیکچر‘ میںججوں کی سبکدوشی کے بعد تقرریوں ،آئینی حقوق ، شہریوں کی سیاسی شراکت داری وغیرہ پر جسٹس دھولیا کااظہار خیال۔
EPAPER
Updated: October 19, 2026, 12:35 PM IST | Agency | New Delhi
’ہندوستانی آئین میں انصاف کا تصور‘ کے موضوع پر منعقدہ’سر سید لیکچر‘ میںججوں کی سبکدوشی کے بعد تقرریوں ،آئینی حقوق ، شہریوں کی سیاسی شراکت داری وغیرہ پر جسٹس دھولیا کااظہار خیال۔
سپریم کورٹ کے سابق جج، جسٹس سدھانشو دھولیا نے دہلی فسادات کے معاملے میں جیل میں بند اسٹوڈنٹ لیڈر عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دئیے جانے کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ’’میری رائے میں دونوں کو آج نہیں بلکہ بہت پہلے ضمانت مل جانی چاہیے تھی۔‘‘ عمر خالد اور شرجیل امام دہلی فسادات کی مبینہ بڑی سازش کے معاملے میں ۶؍ سال سے زیادہ عرصے سے جیل میں بند ہیں اور ابھی تک مقدمے کی باقاعدہ سماعت بھی شروع نہیں ہوئی ہے۔ جسٹس سدھانشو دھولیا نے مذکورہ بات ’ہندوستانی آئین میں انصاف کا تصور‘ کے موضوع پر منعقدہ تیسرے سر سید لیکچر کے دوران کہی۔ پروگرام میں عدلیہ کی آزادی، ججوں کی سبکدوشی کے بعد ہونے والی تقرریوں، شہریوں کی سیاسی شراکت داری اور آئین میں دیے گئے حقوق سے متعلق سوالات و جوابات ہوئے۔ ’لائیو لاء‘ کی رپورٹ کے مطابق، ایک سامع نے سوال قائم کیا کہ’’ جب عمر خالد اور شرجیل امام جیسے لوگ طویل عرصے سے جیل میں بند ہیں اور کچھ سابق ججوں کو سبکدوشی کے بعد راجیہ سبھا یا گورنر جیسے عہدے دیے جاتے ہیں تو عدلیہ کی آزادی پر اعتماد کیسے برقرار رکھا جائے؟‘‘ اس کے جواب میں جسٹس دھولیا نے سبکدوشی کے بعد تقرریوں کی روایت کو کسی ایک حکومت تک محدود ماننے سے انکار کیا۔ جسٹس دھولیا نے کہا کہ سبکدوشی کے بعد سیاسی یا سرکاری عہدوں پر تقرریوں کیلئے کسی ایک حکومت کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے دورِ حکومت میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے اور جنتا پارٹی کے دور میں بھی ایسی تقرریاں ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق، جو پارٹی اقتدار میں ہوتی ہے، وہ اپنے لوگوں کو گورنر جیسے عہدوں پر مقرر کرتی ہے۔ جسٹس دھولیا نے کہا کہ اس معاملے میں کسی ایک سیاسی پارٹی کو الگ سے نشانہ بنانا درست نہیں ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں اس طرح کی تقرریاں شاید اس سے بھی زیادہ ہوتی رہی ہوں۔ دھیان رہے کہ عمر خالد اور شرجیل امام پر دہلی میں۲۰۲۰ء میں ہونے والے فسادات سے متعلق مبینہ بڑی سازش میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’اتراکھنڈ کی حکومت سرمایہ کاری کے نام پر لوگوں کو بے وقوف بنارہی‘‘
دونوں کو فروری۲۰۲۰ء میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات کی مبینہ بڑی سازش کے معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ چھ سال سے زیادہ عرصے سے جیل میں ہیں۔ اس معاملے میں ان پر غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے)،ہندوستانی تعزیراتِ ہند کی مختلف دفعات اور آرمز ایکٹ سمیت کئی الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ کے جنوری۲۰۲۶ء کے فیصلے میں بھی چارج شیٹ میں درج ان دفعات کا ذکر کیا گیا تھا۔ تاہم، ایک اہم حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک اس معاملے میں الزامات باقاعدہ طور پر طے نہیں کیے گئے ہیں۔ ’ ’لوگوں کو سیاست میں آنا چاہیے‘‘ ایک سامع نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی مخصوص طبقے کو انصاف نہیں مل رہا ہے تو آئین میں انصاف کے تصور کا کیا مطلب رہ جاتا ہے؟ اس پر جسٹس دھولیا نے کہا کہ آئین کے تحفظ کی ذمہ داری صرف عدالتوں یا حکومتوں کی نہیں ہے بلکہ شہریوں کو بھی بیدار رہنا چاہیے اور جمہوری عمل میں سرگرمی سے حصہ لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو بیدارہونا ہوگا ۔ ان کے الفاظ میں: ’’لوگ سیاست میں نہیں آ رہے ہیں۔ آپ کو سیاست میں آنا چاہیے اور جمہوری طریقے سے اقتدار تبدیل کرنا چاہیے۔‘‘ جسٹس دھولیا نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ معاشرہ کے کئی معزز خاندانوں کے لوگ فخر سے کہتے ہیں کہ وہ سیاست سے دور رہتے ہیں یا انہیں سیاست پسند نہیں ہے۔ان کے مطابق، ایسے لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ سیاست سے دور رہنے کا اثر عام زندگی پر بھی پڑتا ہے۔ غلط لوگ اقتدار تک پہنچتے ہیں۔‘‘