سپریم کورٹ میں مرکز اور دہلی حکومت کو ممبئی سےسیکھنے کی تلقین

Updated: May 06, 2021, 7:26 AM IST | New Delhi

آکسیجن کی فراہمی کے بہتر انتظامات کیلئے بی ایم سی کی تعریف،اسی ماڈل کو دہلی میں بھی اپنانے کا مشورہ دیا گیا

Supreme Court of India.Picture:INN
سپریم کورٹ آف انڈیا تصویرئی این این

:ایسے وقت میں  جبکہ دہلی ،یوپی  اور ملک کے مختلف شہروں  میں  آکسیجن کیلئے ہاہاکار مچی ہوئی ہے، ممبئی  میں میونسپل کارپوریشن   نےآکسیجن کا انتظام جس طرح سنبھالا ہے،اس کی تعریف بدھ کو سپریم کورٹ نے بھی کی اور مرکزی نیز دہلی حکومت کو ممبئی سے سیکھنے کی تلقین کی۔ جسٹس ڈی وائی چندر چڈ اور ایم آر شاہ کی بنچ نے سوال کیا کہ کیا ممبئی کے ماڈل کو دہلی میں نہیں  اپنا یا جاسکتا۔
  بنچ نے بی ایم سی کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’میونسپل کارپوریشن آف گریٹر ممبئی  کے تجربے سے کچھ سیکھئے، وہ بہت عمدہ کام کررہے ہیں۔‘‘ کورٹ نےکہا ہے کہ ’’ہم دہلی کی توہین  نہیں کرنا چاہتے مگر ہمیں دیکھنا چاہئے کہ وہ کیا کررہے ہیں اور کیسے کررہے ہیں۔ہم ان سے سیکھ سکتے ہیں۔ ‘‘ اس کے ساتھ ہی جسٹس چندر چڈ نے اعتراف کیاکہ ’’ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ مہاراشٹر  آکسیجن پیدا کرتاہے جبکہ دہلی میں ایسا نہیں ہے۔‘‘
 سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بھی جسٹس چندر چڈ کی تائید کرتے ہوئے ممبئی میں آکسیجن کےبہترین مینجمنٹ کی تعریف کی  اور کہا کہ ’’ممبئی  ماڈل قابل تعریف ہے۔یہ کوئی سیاسی ماڈل نہیں  ہے۔ مرکز یا ریاست کا نمائندہ بنے بغیر کورٹ کے ایک افسر کے طور پر ہمیں مسئلے کا حل تلاش کرنا ہے۔لوگوں کو یوں دردر کی ٹھوکریں کھانے کیلئے نہیں چھوڑا جاسکتا۔ ‘‘انہوں نے نشاندہی کی کہ ممبئی میں کورونا کے معاملات بھی کم ہورہے ہیں۔اس کے ساتھ ہی انہوں   بتایا کہ ممبئی میں بھی کم وبیش اُتنے ہی کیس تھے جتنے دہلی میں ہیں مگر عروس البلاد میں آکسیجن کی ضرورت کم پڑی ہے۔ انہوں  نے بتایا کہ جب ممبئی میں  زیر علاج مریضوں کی تعداد ۹۲؍ ہزار  پہنچ گئی تھی تب بھی یہاں ۲۷۵؍ میٹرک ٹن آکسیجن سے بحسن وخوبی کام چلایاگیا۔ 
 تشار مہتا نے کہا ہے کہ ممبئی سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنے ماڈل کی تفصیلات بھیجیں تاکہ دیگر ریاستیں بھی اس سے کچھ سیکھ سکیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK