• Thu, 15 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

شامی حجام نے کرسٹیانو رونالڈو سے اچانک ملاقات کی دلچسپ کہانی سنادی

Updated: October 15, 2026, 4:02 PM IST | Riyadh

پرتگال کے عالمی شہرت یافتہ فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو سے ملاقات کا خواب دنیا بھر میں ان کے لاکھوں مداح دیکھتے ہیں، لیکن سویڈن میں مقیم شامی حجام ربیع الحسین کے لیے یہ خواب اچانک حقیقت بن گیا۔

Ronaldo And Rabih Al Hussein.Photo:X
ربیع الحسین اور رونالڈو۔ تصویر:ایکس

پرتگال کے عالمی شہرت یافتہ فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو سے ملاقات کا خواب دنیا بھر میں ان کے لاکھوں مداح دیکھتے ہیں، لیکن سویڈن میں مقیم شامی حجام ربیع الحسین کے لیے یہ خواب اچانک حقیقت بن گیا۔ حجام نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں رونالڈو سے اپنی غیر متوقع ملاقات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ ایک ہوٹل کے کمرے میں بال کاٹنے کے لیے داخل ہوئے تو سامنے فٹبال کے عالمی ستارے کو بیٹھا دیکھ کر حیران رہ گئے اور کچھ لمحوں کے لیے دروازے پر ہی ساکت ہوگئے۔ انہیں پہلے سے یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ کس کھلاڑی کے بال کاٹنے جا رہے ہیں۔ ربیع الحسین کے مطابق  اس واقعہ کی ابتدا اس وقت ہوئی جب ایک شخص ان کی حجام کی دکان پر آیا اور ان کے ساتھ کافی پینے کے دوران کسی فٹبال کھلاڑی کے بال کاٹنے کے لیے وقت طے کرنے کا امکان ظاہر کیا۔ اس شخص نے دوپہر تقریباً دو بجے دوبارہ فون کیا اور پھر رات آٹھ بجے کے قریب رابطہ کرکے انہیں شناختی کارڈ یا پاسپورٹ ساتھ لانے کی ہدایت دی، تاکہ ہوٹل میں داخلے کے لیے حفاظتی جانچ مکمل کی جاسکے۔ تاہم، اس وقت تک کھلاڑی کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی تھی۔


حجام کو رات ۹؍ بج کر ۱۵؍ منٹ پر ہوٹل پہنچنے کے لیے کہا گیا۔ وہ اپنے حجامت کے آلات اور ضروری دستاویزات لے کر ہوٹل پہنچے، جہاں حفاظتی عملے کی نگرانی میں انہیں دوسری منزل پر لے جایا گیا۔ جیسے ہی کمرے کا دروازہ کھلا اور انہوں نے کرسٹیانو رونالڈو کو سامنے بیٹھے دیکھا، وہ حیرت سے کچھ دیر کے لیے وہیں رک گئے۔ 
 ربیع الحسین نے بتایا کہ رونالڈو نے ان کی گھبراہٹ محسوس کرلی تھی۔ پرتگالی اسٹار نے خود آگے بڑھ کر ان سے مصافحہ کیا اور گلے ملتے ہوئے دوستانہ انداز میں کہا، ’’ہیلو میرے دوست، کیسے ہو؟‘‘ حجام کے مطابق، رونالڈو کا یہ سادہ اور خوش اخلاق رویہ ان کے لیے سب سے زیادہ یادگار رہا اور اس سے ان کی ابتدائی گھبراہٹ بھی کم ہوگئی۔ بال کٹوانے کے انداز پر گفتگو کے دوران رونالڈو نے ابتدا میں ہائی فیڈ ہیئر کٹ کی خواہش ظاہر کی، لیکن ان کے پرتگالی ساتھی ڈیوگو ڈالوٹ نے میڈیم فیڈ کا مشورہ دیا، جسے رونالڈو نے قبول کرلیا۔ حجام نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے بال کاٹنے سے پہلے رونالڈو کے ساتھ تصویر لینے کی خواہش ظاہر کی، لیکن اسٹار فٹبالر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ پہلے حجامت مکمل کرلی جائے اور اگر انہیں نتیجہ پسند آیا تو اس کے بعد تصویر بنائی جائے گی۔  

یہ بھی پڑھئے:اللو ارجن کی فلم ’’راکا‘‘ میں دپیکا پڈوکون مرکزی اداکارہ

اس ملاقات کا ایک اور قابلِ ذکر لمحہ اس وقت آیا جب رونالڈو نے حجام سے ان کے ملک کے بارے میں پوچھا۔ ربیع الحسین نے بتایا کہ جب انہوں نے اپنے شامی ہونے کا ذکر کیا تو رونالڈو نے جواب دیا ’’اوہ، شام! پھر میں تم پر بھروسہ کرسکتا ہوں!‘‘ حجام کے مطابق، یہ جملہ ان کے لیے خاص اہمیت رکھتا تھا اور ملاقات کی یادوں میں شامل ہوگیا۔ ربیع الحسین نے اپنے بچوں کے لیے پرتگال کی قومی ٹیم کی دو شرٹس بھی ساتھ رکھی تھیں، جن میں سے ایک ان کے بیٹے کی تھی جس پر ساتویں نمبر کی شرٹ تھی، جبکہ دوسری ان کی بیٹی وکٹوریہ کے لیے تھی۔ انہوں نے رونالڈو سے ان شرٹس پر دستخط کرنے کی درخواست کی، جسے فٹبالر نے قبول کرلیا۔ بعد میں رونالڈو نے ان سے پوچھا کہ کیا ان کے پاس اپنی کوئی شرٹ بھی ہے؛ حجام نے اپنی شرٹ دکھائی تو رونالڈو نے اس پر بھی دستخط کردیے۔

یہ بھی پڑھئے:سری لنکا نے ٹی۲۰؍ سیریز کا آخری میچ جیتا، فرحان نے ابھیشیک کا ریکارڈ توڑ دیا

ربیع الحسین کے مطابق، بال کاٹنے کے بعد رونالڈو نے ان کے کام کی تعریف کی اور تصویر لینے کا وعدہ پورا کیا۔ دونوں نے طے کیا تھا کہ تصویر پرتگال اور ڈنمارک کے میچ سے پہلے شائع نہیں کی جائے گی، اور حجام نے اس معاہدے کی پابندی کی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ رونالڈو کی حجامت کرنے کے عوض انہیں کوئی رقم نہیں ملی، لیکن ان کے نزدیک دنیا کے مشہور ترین فٹبالرز میں سے ایک سے ملاقات اور ان کے بال کاٹنے کا موقع کسی مالی معاوضے سے زیادہ قیمتی تھا۔   شامی حجام کی یہ کہانی سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کر رہی ہے۔ اس واقعے میں رونالڈو کی عالمی شہرت کے ساتھ ان کے دوستانہ رویے، مداحوں کے ساتھ تعلق اور ایک عام پیشہ ور شخص کے لیے اس غیر معمولی لمحے کی اہمیت نمایاں ہوتی ہے۔ ربیع الحسین کے لیے یہ محض ایک حجامت کا کام نہیں تھا، بلکہ اپنے پسندیدہ فٹبالر سے ملاقات کا ایسا تجربہ تھا جسے وہ طویل عرصے تک یاد رکھیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK