• Thu, 22 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

تہران: چوراہے پر ’ٹرمپ‘ قید، شہری ہلاکتوں کے خلاف سیاسی پیغام

Updated: October 22, 2026, 5:01 PM IST | Tehran

ایران کے دارالحکومت تہران کے تجریش اسکوائر میں نصب ایک غیر معمولی بل بورڈ پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دکھایا گیا، مگر یہ محض تصویر نہیں تھی: ٹرمپ کا ماسک پہنے ایک اداکار باقاعدہ اس فرضی کوٹھڑی میں حرکت کرتا، بیٹھتا اور راہ گیروں کی توجہ حاصل کرتا رہا۔ تنصیب پر درج نعرہ تھا: ’’اس منظر کو نہ دیکھنا ایک جرم ہے۔‘‘ اس کا پیغام امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی اور ایران میں شہری مقامات پر حملوں سے متعلق الزامات کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی کو عوامی جگہ پر ایک علامتی منظر کے ذریعے پیش کیا ہے، جہاں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا روپ دھارے ایک اداکار کو جیل نما کوٹھڑی میں قید دکھایا گیا۔ یہ تنصیب بدھ ۲۱؍ اکتوبر کو تہران کے شمالی حصے میں واقع مصروف تجریش اسکوائر میں سامنے آئی۔ اشتہاری بورڈ سے باہر نکلی ہوئی جیل جیسی ساخت کے اندر اداکار سیاہ سوٹ، سرخ ٹائی اور ٹرمپ سے مشابہ ماسک پہنے چلتا پھرتا رہا۔ اس منظر کو دیکھنے کے لیے راہ گیر رکے، تصاویر بنائیں اور اپنے موبائل فون سے ویڈیوز ریکارڈ کیں۔ اس تنصیب کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں سیاسی طنز کو جامد تصویر کے بجائے زندہ اداکاری کے ذریعے پیش کیا گیا۔ ٹرمپ کو سلاخوں کے پیچھے دکھانے والا منظر ایک ایسے چوراہے پر نصب کیا گیا جہاں روزانہ بڑی تعداد میں لوگ گزرتے ہیں۔ اس کے ساتھ درج نعرہ، ’’اس منظر کو نہ دیکھنا ایک جرم ہے‘‘، لوگوں کو رک کر اسے دیکھنے کی دعوت دیتا تھا۔ یوں یہ بل بورڈ محض کسی سیاسی رہنما کی تصویر نہیں رہا بلکہ ایک ایسا عوامی منظر بن گیا جس میں راہ گیر خود بھی تماشے کا حصہ بن رہے تھے۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Inquilab - انقلاب (@theinquilab.in)

اس تنصیب کا سیاسی پس منظر امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ اور ناکام مذاکرات سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل نے ۲۸؍ فروری ۲۰۲۶ء کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی، جس کے بعد تہران نے اسرائیل اور خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے۔ جون میں دونوں ملکوں کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط ہوئے، لیکن آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی اور سلامتی سے متعلق اختلافات کے باعث مذاکرات بعد میں تعطل کا شکار ہوگئے۔ اس صورتِ حال میں تہران کی سڑکوں پر امریکی صدر کو فرضی جیل میں دکھانا سیاسی پیغام رسانی کی ایک نمایاں مثال بن کر سامنے آیا ہے۔ تنصیب کے اطراف موجود پیغامات میں ایران کے اندر شہری مقامات پر حملوں کا حوالہ بھی دیا گیا۔ خبر رساں ادارے انادولو ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ان پیغامات میں میناب کے ایک اسکول اور سیریک میں شادی کی تقریب سے متعلق امریکی فوجی کارروائیوں کا ذکر تھا۔ ان حوالوں کے ذریعے تنصیب نے جنگ کے دوران شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کو اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، بل بورڈ پر پیش کیے گئے الزامات اور ان سے متعلق ہر واقعے کی تفصیلات کو الگ الگ جانچنا ضروری ہے؛ تنصیب خود ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کرتی۔

اس منظر پر مقامی لوگوں کے ردِعمل کی کچھ جھلکیاں بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔ الجزیرہ کی ویڈیو رپورٹ نے اسے تجریش اسکوائر میں پیش کیا جانے والا علامتی مظاہرہ قرار دیا، جب کہ سی این این برازیل کی رائٹرز پر مبنی رپورٹ کے مطابق، وہاں موجود ایک ایرانی خاتون نے اسے ’’بہت حوصلہ افزا‘‘ قرار دیا۔ راہ گیروں کی جانب سے تصاویر اور ویڈیوز بنانا اس بات کا اشارہ ہے کہ اس تنصیب نے عوامی توجہ حاصل کی، لیکن چند افراد کے ردِعمل سے پورے ایرانی معاشرے کی رائے اخذ نہیں کی جاسکتی۔ تہران میں یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکی صدر کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے بل بورڈز اور علامتی تصاویر استعمال کی گئی ہوں۔ اکتوبر کے اوائل میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق، شہر میں نصب دیگر بل بورڈز میں ٹرمپ کو مختلف علامتی صورتوں میں دکھایا گیا تھا، جب کہ بعض پر امریکی فوجی کارروائیوں اور آبنائے ہرمز کے تنازع کا حوالہ دیا گیا تھا۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ایسے کئی بل بورڈز حکومت سے وابستہ اداروں کے لیے کام کرنے والے ڈیزائنروں کی ٹیمیں تیار کرتی ہیں اور ان کا مقصد بڑے عوامی مقامات پر ایران کا سیاسی مؤقف پہنچانا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کی دھمکی: اگر نئی جنگ چھڑی تو امریکی سیاسی اثاثے، انفراسٹرکچر نشانہ

اس تناظر میں ٹرمپ کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دکھانے والی تنصیب ایران کی عوامی سیاسی ابلاغی حکمتِ عملی کی ایک نئی شکل ہے، جس میں تصویر، اداکاری، طنز اور موجودہ جنگ کے حوالے ایک ہی منظر میں جمع ہوگئے ہیں۔ یہ محض کسی رہنما کا مذاق اڑانے کا طریقہ نہیں، بلکہ ایسا سیاسی پیغام ہے جو مصروف چوراہے سے گزرنے والے افراد کی توجہ حاصل کرکے انہیں جنگ اور اس کے نتائج کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ تاہم، آیا یہ منظر ایرانی عوام کے سیاسی خیالات میں کسی وسیع تر تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے یا حکومتی پیغام رسانی کی ایک علامتی مہم ہے، اس کا تعین صرف اس تنصیب کی مقبولیت یا چند راہ گیروں کے ردِعمل سے نہیں کیا جاسکتا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK