• Mon, 26 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

تھانے:میونسپل کارپوریشن کی رینٹل کالونیوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان، مکین بے حال

Updated: November 13, 2023, 11:54 PM IST | Thane

شکایت کرتے ہوئے کہا کہ `وہ جہنم جیسے ماحول میں رہ رہے ہیں ۔عمارتوں میں ہوا کا گزربسر ٹھیک نہ ہونے سے حبس رہتا ہے۔ تعمیراتی کا کام بھی معیاری نہیں ہے۔ ٹی ایم سی پرلاپروائی کا الزام

Mahesh Mishra, a resident of a rental colony in Khewra Circle, pointing at the dirt.
کھیورہ سرکل کی رینٹل کالونی کے مکین مہیش مشرا گندگی جانب اشارہ کرتے ہوئے۔

 تھانے اور کلوا کی جھوپڑپٹیوں کے بے گھر ہونے والے مکین اور تھانے میونسپل کارپوریشن (ٹی ایم سی) کے ذریعہ عارضی طور پر رینٹل کالونیوں میں منتقل کئے گئے لوگوں نے شکایت کی ہے کہ وہ جہنم جیسے ماحول میں رہ رہے ہیں۔ ٹی ایم سی کو کرایہ ادا کرنے کے باوجود اپنے ازسرنو تعمیر شدہ مکانات کا انتظار کر نے والے کرایہ داروں کو بڑے پیمانے پر رساؤ،   نالیاں بھرجانے ، صاف صفائی کا فقدان اور ناقص دیکھ ریکھ سے سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
 مہیش مشرا کو۶؍ سال قبل تھانے کے کھیورہ سرکل کی ایک عمارت میں ٹی ایم سی نے اس وقت رکھا تھا جب ہری داس نگر کی جھوپڑپٹی کو سڑک بنانے کیلئے توڑ   دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہاں دیکھ ریکھ صفر ہے۔۴؍ میں سے صرف ۲؍ لفٹ کام کر رہی ہیں۔ ہر منزل پر رساؤ ہے۔ یہ عمارت ۲۲؍ منزلوں کی ہے لیکن آگ بجھانے کا نظام ناکارہ ہے۔ ہم انتظار کر رہے ہیں کہ ہماری جھوپڑپٹی میں مکانات دوبارہ تیار ہو جائے تاکہ ہمیں مستقل مکان مل سکے۔ تب تک ہمیں یہاں رہنا ہوگا اور ٹی ایم سی کو کرایہ ادا کرنا ہوگا، اس کے باوجودشہری انتظامیہ عمارت کی دیکھ ریکھ نہیں کرتی ہے۔‘‘
 شیخ جلیل عبدل، جن کا تعلق ہری داس نگر سے ہے اور انہیں اسی عمارت میں منتقل کیا گیا ہے، نے کہاکہ ’’پینے کا پانی وقت پر فراہم نہیں کیا جاتا ہے اور گھریلو ضروریات کیلئے دو یا تین دن میں صرف ایک بار پانی دستیاب ہوتا ہے۔ چونکہ ہمارے پاس کوئی اور چارہ نہیں ہے اس لئے ہم یہاں پھنس گئے ہیں۔‘‘ مانپاڑہ میں ٹی ایم سی کے ایک کرایہ دار بندرا وشوکرما نے دعویٰ کیا کہ عمارت کا ماحول حبس زدہ  ہے۔  ٹی ایم سی کوسالیڈ ویسٹ مینجمنٹ اورصاف صفائی کو یقینی بنانا چاہئے۔ میں شاستری نگر میں رہتا تھا۔ میں یہاں اپنے خاندان کے ساتھ تقریباً ۶؍ سال پہلے آیا تھا۔ یہاں رہنا جہنم میں رہنے کے مترادف ہے۔
 کھیورہ سرکل میں عمارت کے دورے میں اس نمائندے نے دیکھاکہ۲۲؍منزلہ عمارت میں  ۲؍ لفٹ صرف گراؤنڈ فلور اور۱۸؍ویں منزل پر رکتی ہیں۔ لفٹ کے بغیر اونچی منزلوں پر بزرگ افراد عمارت کے اندر پھنس گئے۔ تمام منزلوں کے مشترکہ علاقے اور راستے اندھیرے میں ڈوبے ہوئےتھے کیونکہ اندرونی حصے میں روشنی نہیں تھی اور سورج کی روشنی اندر نہیں پہنچ پاتی تھی۔ ورتک نگر میں رینٹل ہاؤسنگ کالونی میں۱۲؍ منزلوں کی ۴؍ ونگ ہیں۔ ہر ونگ میں ہر فلور پر۲۲؍ مکانات ہیں۔ کریہ دار بھارتی گوالی نے بتایا کہ ’’ٹی ایم سی نے اس اتنی بڑی کالونی کیلئے صرف ایک صفائی کارکن مقرر کیا ہے۔ راستوں کو صاف رکھنے کیلئے کسی کی خدمات حاصل نہیں کی گئی ہیں۔‘‘  انہوں نے مزید کہا کہ ’’صفائی نہ ہونے کی وجہ سے نالے ہر وقت بند رہتے ہیں۔‘‘کالونی کے ایک اور کرایہ دار اسماعیل چیولکر کو کلوا سے منتقل کیاگیا کیونکہ ان کی عمارت خستہ حال تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ’’ہم ٹی ایم سی کو ہر ماہ۲۰۰؍ روپے کرایہ   ادا کرتے ہیں، اس کے باوجود ہمارے گھر میں ہر طرف سے پانی رستا ہے اورصاف صفائی کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ حکام نے ہمیں   یہاں لاکرپھینک دیا ہے۔‘‘
 مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کے رکن سوپنل مہندراکر نے ان کالونیوں کو ’انسانی ڈمپنگ گراؤنڈ‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’جس طرح کوڑاکرکٹ کو ڈمپنگ گراؤنڈ میں پھینکا جاتا ہے، اسی طرح یہاں لوگوں کو لاکر پھینکا جاتا ہے۔ عمارتیں رہنے کے لائق نہیں ہیں۔ یہاں ہوا کا گزربسر یا قدرتی روشنی نہیں ہے۔ یہ مکینوں کی صحت کیلئے خطرناک ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’مکانات ۱۶۰؍مربع فٹ سے ۱۸۰؍ مربع فٹ تک ہیں ۔ان گھروں میں دو یا تین لوگ بھی نہیں رہ سکتے، پھر بھی بعض صورتوں میں چار سے پانچ افراد ایک ساتھ رہ رہے ہیں۔ یہاں۱۰؍ کے قریب رینٹل ہاؤسنگ کالونیاں ہیں، ہر ایک کو یکساں مشکلات کا سامنا ہے۔ ٹی ایم سی کو انہیں بنیادی سہولیات جیسے سالیڈ ویسٹ مینجمنٹ اور صاف صفائی کا انتظام کرنا چاہئے۔‘‘
 رینٹل ہاؤسنگ کالونیوں کی شکایتوں کے بارے میں استفسار کرنے پر ٹی ایم سی کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ایڈیشنل میونسپل کمشنر پرشانت روڈے نے اس نمائندے کو بتایاکہ ’’میں صورتحال کا جائزہ لوں گا اور آپ کو اپ ڈیٹ دوں گا۔‘‘

thane Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK