عراق میں نئی پارلیمنٹ کا پہلا اجلاس ہنگاموں کی نذر

Updated: January 11, 2022, 8:16 AM IST | Baghdad

بھگدڑ اور افراتفری کے درمیان اسپیکر کا انتخاب ، جلد وزیراعظم کا انتخاب متوقع لیکن کسی بھی پارٹی کے پاس اقتدار حاصل کرنے لائق اکثریت نہیں ہے۔ مقتدیٰ الصدر کی پارٹی کے پاس سب سے زیادہ سیٹیں ہیں لیکن انہیں دیگر کئی پارٹیوں کی حمایت حاصل کرنی ہوگی جو فی الحال انتہائی مشکل نظرآ رہا ہے

Muhammad al-Halbousi, newly elected speaker of the Iraqi parliament (center) with others (Photo: Agency)
عراقی پارلیمنٹ کے نومنتخب اسپیکر محمدالحلبوسی( درمیان) دیگر کے ساتھ (تصویر: ایجنسی)

 عراق میں  خداخدا کرکے نئی پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہوئی لیکن اس کے پہلے اجلاس کا پہلا ہی دن ہنگاموں کی نذر ہو گیا۔ اس دوران  ایوان میں بھگدڑ جیسا ماحول تھا۔ اسی افراتفر ی کے دوران نئے اسپیکر کا انتخاب عمل میں آیا۔  یاد رہے کہ عراق میں عام انتخابات کو ۳؍ ماہ ہو چکے ہیں۔ لیکن نئے عوامی نمائندوں کو ایوان پہنچ کر  اپنے آئینی فرائض انجام دینے کی راہ میں کئی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بالآخر اتوار کو اس کا پہلا اجلاس منعقد کیا گیا۔   
   پہلے اجلاس میں اسپیکر کا انتخاب ہونا تھا جس کیلئے ووٹنگ کی جانی تھی۔ لیکن اجلاس کے شروع ہوتے ہی ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی  اور بھگدڑ  جیسا ماحول پیدا ہو گیا۔اور اسی افراتفری کے دوران  محمدالحلبوسی کو ایوان کا اسپیکر منتخب کیا گیا۔ حالانکہ اس کیلئے باقاعدہ ووٹنگ ہوئی  لیکن ہنگاموں کے درمیان ۔محمدالحلبوسی اور محمود المشہدانی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کیلئے پارلیمان کے ۲۲۸؍ اراکین نے ووٹنگ  میں حصہ لیا۔ایوان نمائندگان (پارلیمان) کے میڈیا ڈپارٹمنٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ الحلبوسی کو ان کے حریف مشہدانی کے ۱۴؍کے مقابلے میں ۲۰۰؍ ووٹ ملے ہیں جبکہ ۱۴؍ووٹ مسترد کردیئے گئے ہیں۔اس افتتاحی اجلاس کی صدارت  پہلے محمود المشہدانی  کرنے والے تھے کیونکہ وہ ایوا ن میں سب سے عمررسیدہ ہیں، لیکن ان کی طبیعت  اچانک صحت بگڑ جانے کی وجہ سے سب سے  ان کے بعدسب سےعمررسیدہ رکن پارلیمان خالد الدراجی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ۔ ایوان کی صدارت ہی کے معاملے میں بات بگڑگئی اور ایوان میں  افراتفری مچ گئی۔ خالد الدراجی نے افراتفری اور بھگدڑ کے بعد ا جلاس کو  عا رضی طورپرملتوی کر دیا۔ بعض میڈیا اطلاعات کے مطابق محمود مشہدانی پر بعض اراکین  نے مبیّنہ طور پرحملہ کیا تھا جس کی وجہ سے ان کی حالت بگڑی تھی۔
 اب پارلیمنٹ نئے وزیراعظم کا انتخاب کرے گی۔  یاد رہے کہ عراقی پارلیمنٹ میں کسی بھی  پارٹی کو اتنی اکثریت حاصل نہیں ہے جو کہ  اپنے دم پر وزیراعظم منتخب کر سکے۔ ۳۲۹؍ اراکین والی پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ سیٹیں  مذہبی پیشوا مقتدیٰ الصدرکی پارٹی کے پاس ہے۔ انہیں ۷۳؍ سیٹٰں حاصل ہوئی ہیں۔اور امکان ہے کہ  انہیں دیگر کئی گروہوں کی حمایت حاصل ہو جائے گی۔ لیکن اس کیلئے انہیں کافی جدوجہد کرنی پڑے گی۔ کیونکہ ان میں سے کئی پارٹیاں انتخابی نتائج کو مسترد کرچکی ہیں اور اب جبکہ وہ کسی طرح ایوان کی کارروائی  میں شامل ہوئی ہیں تو  حکومت سازی کے عمل میں اپنی بات منوانے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔عراق کے سب سے بااثر سیاسی رہنماؤں میں سے ایک مقتدیٰ الصدر ۱۰؍اکتوبر کو منعقدہ انتخابات میں سب سے بڑے فاتح رہے تھے۔ واضح رہے کہ  مقتدیٰ الصدر کا شمار امریکہ مخالف لیڈروں میں ہوتا ہے ساتھ ہی وہ عراق کے سابق صدر صدام حسین کے بھی خلاف تھے۔ امریکی  فوجیوں پر حملوں میں ان کی تنظیم کے ملوث ہونے کے الزام لگتے رہے ہیں۔ 
 ان کے حریف ایران کے حامی  گروہ ہیں جو اپنی دو تہائی نشستوں سے محروم ہو گئے تھے اور یہ ان کیلئے ایک بڑا دھچکا ہے۔ یا د رہے کہ اکتوبر میں انتخابات کے نتائج آنے کے بعد  مسلح گروہوں کے حامیوں نے دو ماہ سے زیادہ عرصے تک بغداد کے گرین زون کے ارد گرد خیمے لگائے اور دھرنا دیا تھا۔انھوں نے عراق کی اعلیٰ عدالت میں انتخابی نتائج کے خلاف اپیل بھی دائرکی تھی۔لیکن عراق کی عدالتِ عظمیٰ نے ایران کے حمایت یافتہ گروہوں  کی جانب سے دائر کردہ اس اپیل کو مسترد کردیا تھا اور گزشتہ ماہ کے آخر میں انتخابی نتائج کی توثیق کرتے ہوئے حکومت کی تشکیل کا راستہ صاف کردیا تھا۔
  اس کے بعد ان سیاسی پارٹیوں کے درمیان  میٹنگوں کا ایک طویل دور چلا جس کے بعد پارلیمنٹ کی کارروائی شروع کرنے پر اتفاق  ہوا۔  کسی طرح اتوار کو یہ کارروائی شروع ہوئی۔ یاد رہے کہ ۲۰۰۳ء  میں امریکہ کے حملے کے بعد سے عراق انتشار کا شکار ہے۔  یہاں اب تک جتنی حکومتیں آئیں انہیں امریکہ کی کٹھ پتلی قرار دیا گیا۔ گزشتہ ۲؍ سال سے عراق میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہو رہے تھے جس میں امریکی فوجوں کی واپسی اور کٹھ پتلی حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ بالآخر یہ حکام نے ان مطالبوں پر کان دھرے اور  دونوں  ہی باتوں کو تسلیم کیا گیا۔ امریکہ نے اپنی فوجیں  واپس بلانے کا اعلان کیا تو دوسری طرف   الیکشن بھی کروائے گئے لیکن ان انتخابات میں صرف ۴۴؍ فیصد ووٹروں نے حصہ لیا۔ 

iraq Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK