مودی حکومت ملک کی سرحدوں کو محفوظ رکھنے میں بری طرح سے ناکام

Updated: June 27, 2020, 10:13 AM IST | Mumbai

کانگریس کی جانب سے ’شہیدوں کو سلام دیوس ‘ منایا گیا اور سرحد پر شہید ہونے والے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیاگیا۔

Bala Sahab Thorat. Photo: INN
بالا صاحب تھورات۔ تصویر: آئی این این

چین کی جانب سے ایل اے سی کی مسلسل خلاف ورزی کرنے اور سرحد پر شہید کئے گئے ۲۰؍  جوانوں سے ناراض جمعہ کو کانگریس کی جانب سے مودی حکومت کیخلاف ریاست گیر احتجاج کیا گیااور ’شہیدوں کو سلام دیوس ‘ کا انعقاکیا گیا ۔ اس موقع پر مہاراشٹر کے کانگریس کے صدر اور ریاست کے وزیر برائے محصول بالا صاحب تھورات نے کہا کہ ’’ مودی حکومت ملک کی سرحد کی حفاظت کرنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے۔ اسی دوران سابق وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان نے مطالبہ کیاکہ وزیر اعظم کے متنازعہ بیان پر حکومت کو وضاحت جاری کرنا چاہئے۔ وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ لداخ میں چینی فوج ہندوستان کی سرحد میں داخل نہیں ہوئی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس نے اپنے ہتھیار بھی ذخیرہ کر لئے ہیں ۔ریاست میں وسیع احتجاج کے ساتھ ہی آن لائن مہم ’اسپیک اپ فار اور جوانس‘ بھی شروع کی گئی ۔
 کانگریس کے لیڈران نے جمعہ کومنتر الیہ کے قریب واقع مہاتما گاندھی کے مجسمے کے قریب شہید ہونے والے ۲۰؍ جوانوں کو خراج عقیدت بھی پیش کیا۔اس موقع پر کانگریس کے مہاراشٹر کے صدر بالا صاحب تھورات کے علاوہ ممبئی کانگریس کے صدر ایکناتھ گائیکواڑ ، خواتین و اطفال بہبود کی وزیر یشومتی ٹھاکر ، اسکولی تعلیم کی وزیر ورشا گائیکواڑ ، ممبئی کے نگراں وزیر اسلم شیخ ، اراکین امین پٹیل، ذیشان صدیقی، بھائی جگتاپ ، چرنجیت سنگھ سپرا ، مدھو چوان، مہاراشٹرپردیش کانگریس کے جنرل سیکریٹری سچن ساونت موجود تھے۔ اس تقریب کے بعد سابق وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان اور بالا صاحب تھورات نے پریس کانفرنس بھی کی ۔ 
 پریس کانفرنس میں پرتھوی راج چوہان نے کہا کہ چین کی جانب سے ایل اے سی کی خلاف ورزی کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔مودی حکومت ان کا جواب دینے میں بری طرح سے ناکام ثابت ہوئی ہے اور اس نے بڑی حد تک چین کے سامنے اپنےگھٹنے ٹیک دیئے ہیں ۔ سیٹیلائٹ تصویرو ں سے یہ واضح ہوتا ہےکہ چینی فوج گلوان سرحد سے نہ صرف اندر داخل ہو گئی ہے بلکہ انہوں نے اپنا پوسٹ بھی قائم کر لیا ہے جہاں بڑی تعداد میں اسلحہ بھی ذخیرہ کر لیا ہے۔ سرحد پر ہونے والی ان حرکتوں سے ہماری خارجہ پالیسی غلط معلوم ہوتی ہے۔ اب تک ہم چین کو نظر انداز کرتے رہے تھےلیکن آج صورت حال مختلف ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK