امریکہ نے ہائپرسونک میزائل کے۳؍کامیاب تجربے کئے

Updated: October 25, 2021, 11:03 AM IST | Agency | Washington

پنٹا گن کا دعویٰ،کہا: امریکی بحریہ اور بری فوج نے پروٹوٹائپ اسلحے کے حامل ہائپر سونک کا تجربہ کیا،تینوں کو ایک سال میں ڈیزائن اور تیار کیا گیا تھا

US hypersonic missile.Picture:INN
امریکہ کا ہائرسونک میزائل۔ تصویر: آئی این این

امریکہ نے کہا ہے کہ بحری اور بری فوج نے ہائپر سونک میزائل کے ۳؍ کامیاب تجربے کیے۔خبر رساں ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق پنٹاگن نےبتایا کہ امریکی بحریہ اور بری فوج نے پروٹوٹائپ اسلحے کے حامل ہائپر سونک کا تجربہ کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ نئے ہتھیاروں کے حوالے پیش رفت سے آگاہ کیا جائے گا تاہم ۳؍ کامیاب تجربے کیے گئے ہیں۔ہائپر سونک میزائل تیار کرنے والی امریکی سینڈیا نیشنل لیبارٹریز نے بیان میں کہا کہ ایک سال میں ڈیزائن اور تیار کرکے ۳؍راکٹس کا تجربہ کیا گیا۔بیان میں کہا گیا کہ سینڈیا لیبارٹریز نے محکمہ دفاع کے لیے ناسا میں ۳؍راکٹس کا تجربہ کیا، جس میں بحریہ کا کنونشنل پرومپٹ اسٹرائیک اور فوج کا لانگ رینج ہائپرسونک ویپن پروگرام شامل ہے اور یہ ۲۳؍جدید ٹیکنالوجیز سے لیس ہے۔ امریکی لیبارٹری نے کہا کہ محکمہ دفاع کی فنڈنگ سے آپریشنل تیاریوں کے لیے ہایپر سونک راکٹس کا یہ پہلا تجربہ ہے۔اس سے قبل امریکہ نے چین کی جانب سے ہائپر سونک میزائل کے تجربے کی رپورٹس پر حیرانی کا اظہار کیا تھا۔ فنانشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ چینی فوج نے ہائپرسونک راکٹ لانچ کیا جس نے ’لو اوربٹ‘ میں دنیا کے گرد چکر لگایا اور اپنے ہدف سے ۴۰؍ کلومیٹر دور گرا۔رپورٹ میں عوام کو انٹیلی جنس کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ اس ٹیسٹ سے پتہ چلتا ہے کہ چین نے ہائپرسونک ہتھیاروں کے حوالے سے حیرت انگیز پیش رفت کی ہے اور امریکی حکام کے سمجھنے سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ ہائپرسونک میزائل لانگ مارچ راکٹ کے ذریعے چلایا گیا اور اس کا تجربہ خفیہ رکھا گیا۔بعد ازاں چین نے ہائپرسونک میزائل کے تجربے سےمتعلق رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے خلائی جہاز کا تجربہ کیا تھا تاکہ دوبارہ استعمال کے قابل ٹیکنالوجیز کا ٹرائل کیا جاسکے۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ ’’میری معلومات کے مطابق یہ تجریہ معمول کے خلائی طیارے کا تھا جس سے دوبارہ استعمال کے قابل خلائی طیاروں کی ٹیکنالوجی آزمائی جاتی ہے۔‘‘انہوں نے کہا تھا کہ ’’یہ عمل انسانوں کی جانب سے خلا کو پُرامن انسانی مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں آسانی فراہم کرے گا۔‘‘قبل ازیں ۲۰۱۹ءکی ایک پریڈ میں چین نے اپنے ہائپرسونک میزائل ’ڈی ایف ۱۷؍‘ سمیت جدید ہتھیاروں کی نمائش کی تھی۔واضح رہے کہ ہائپرسونک ہتھیاروں کا دفاع کرنا مشکل ہے کیونکہ وہ کم اونچائی پر اہداف کی طرف اڑتے ہیں لیکن آواز کی رفتار سے ۵؍ گنا زیادہ یا تقریباً۶؍ ہزار ۲۰۰؍کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار حاصل کر سکتے ہیں۔روس نے۲۰۱۸ءکے اوائل میں بین البراعظم ہائپر سپرسونک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ’ایونگارڈ‘ نامی ہائپرسانک میزائل کے کامیاب تجربے پر کہا تھا کہ’ ’ہائپر سپرسونک میزائل سے دفاعی نظام غیر معمولی مضبوط ہو گیا۔‘‘اس سے قبل مارچ ۲۰۱۷ءمیں روس نےکنزحال نامی ہائپرسونک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا تھا جو آواز کی رفتار سے ۱۰؍ گنا تیز سفر کی صلاحیت رکھتا ہے۔شمالی کوریا نے رواں برس ستمبر میں نئے ہائپرسونک گلائیڈنگ میزائل کا کامیاب تجربہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK