عراق میں امریکی فوج کی ضرورت نہیں ہے

Updated: July 26, 2021, 1:30 PM IST | Agency | Bagdadh

عراقی وزیر اعظم مصطفیٰ الخادمی نے کہا کہ اب ہم کسی بھی غیرملکی فوجی دستوں کی مدد کے بغیر اپنے ملک کا دفاع خود کرسکتے ہیں

Iraqi Prime Minister Mustafa alKhadimi .Picture:INN
عراق کے وزیر اعظم مصطفیٰ الخادمی ۔۔تصویر: آئی این این

عراق کے وزیر اعظم مصطفیٰ الخادمی نے کہا ہے کہ ہم  داعش کے خلاف جنگ اب خود لڑ سکتے ہیں اس  لئے اب ملک کو امریکی فوج کی ضرورت نہیں رہی ہے۔ گزشتہ دنوں’اے پی‘ کو دیئے گئے  ایک انٹرویو میں عراقی وزير اعظم نے ملک کی اہم پالیسیوں اور امر یکہ سے تعلقات کے حوالے سے اہم گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی فوجیوں نے داعش کے خلاف جنگ میں ہمارا ساتھ دیا جس پر ہم ان  کے شکر گزار ہیں۔ عراقی وزیر اعظم نے کہا کہ عراق کی سیکوریٹی فورسیز اور فوج امر یکہ کے زیر قیادت اتحادی فوج کے بغیر ہی ملک کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ داعش کے خلاف لڑائی میں کامیابی حاصل کرلی گئی ہے اور انتہا پسند سکڑ کر ایک مختصر علاقے تک محدود ہوگئے ہیں اس  لئے عراق میں اب امریکی فوجی دستوں کی ضرورت نہیں ہے۔  وزیر اعظم نےامریکی اور دیگر غیر ملکی  فوج کے انخلا سے متعلق کوئی حتمی تاریخ   کے متعلق  کوئی واضح اشارہ نہیں دیا لیکن یہ  کہا کہ عراقی سرزمین پر کسی بھی غیر ملکی فوج کی ضرورت نہیں ہے۔ عراق کی فوج نےداعش کے خلاف آپریشن میں اپنی قابلیت کا بھرپور اظہار کیا ہے۔
 عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے ٹائم فریم سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے بتایا کہ آئندہ ہفتے امریکی صدر سے ملاقات میں امریکی دستوں کی کسی اور ملک منتقلی یا وطن واپسی کےطریقے کار اور ٹائم فریم کا فیصلہ کیا جائے گا اورسے متعلق کوئی بھی شیڈول عراقی افواج کی ضروریات پر مبنی ہوگا۔  واضح رہے کہ  عراق کےوزیر اعظم  کابیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب وہ دورہ  امر یکہ میں صدر جوبائیڈن سے ملاقات کریں گے۔ ذرائع کے مطابق دونوں لیڈروں کی ملاقات میں امریکی فوج کےانخلا کے  وقت کو حتمی شکل دینے کی توقع کی جارہی ہے۔
ع راق کے ایک اعلی سطحی وفد  نےبھی  امیدظاہر کی ہے کہ عراق میں امریکہ کا جنگی مشن ختم کرنے  کیلئے عراق اور بائیڈن انتظامیہ کے درمیان معاہدہ طے ہو جائے گا۔عراق کے وزیر خارجہ فواد حسین نے بھی ایک خبر رساں ادارے کو دیئے گئے انٹر ویو میں کہا کہ معاہدہ طے پانے کے بعد یہ اعلان کیا جائے گا کہ امریکی   فورسیز   کا انخلا کب ہو گا اور اگر وہ مستقبل میں وہاں رہیں گی تو  ان کی ذمہ داریاں کیا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام اموردونوں ملکوں کے درمیان طے پانے تکنیکی معاملات اور سیکوریٹی سے منسلک دوسرے مسائل پر  منحصر ہے۔ذرائع کے مطابق فواد حسین  امریکہ کے وزیر خارجہ بھی اس سلسلے میںملاقات کریں گے   وہیں اس کے برعکس وہائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین ساکی  کے مطابق  صدر بائیڈن اور عراقی وزیر اعظم الکاظمی کی ملاقات میںامریکی امداد کے جاری رکھے جانے پرزیادہ  توجہ تر  مرکوز ر ہنے کی امیدہے۔ساکی کا کہنا تھا کہ عراق حکومت ہم سے امداد جاری رکھنے کی درخواست کر رہی ہے اور وہ سیکوریٹی  ، لاجسٹک اور انٹیلی جنس شیئرنگ میں تعاون کے خواہش مند ہیں۔
  واضح رہے کہ اپریل میں امریکہ اور عراق کے درمیان امریکی فورسیز کے مشن میں تبدیلی پر سمجھوتہ ہوا تھا،  اس  کے تحت  تربیت اور مشاورتی  مشن پر اتفاق کیا گیا تھا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا  اس سجھوتے مطلب ہی  یہ  ہے کہ عنقریب عراق میں امریکی  فوج کا جنگی مشن ختم ہوجائے گا۔ تجزیہ نگاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ عراق میں امریکی فوجی اڈوں اور دیگر مقامات پر حملوں کے معاملوں میں اضافہ ہوا ہے۔  ان حملوں کے تناظر عراقی فورسیز کو امریکہ کی ضرورت ہو گی۔   قابلِ غور ہے کہ ۲۰۱۴ء  میں داعش  کے شمالی عراق اور شام کے بڑے حصے پر قبضے کے بعد اُس وقت کے امریکی صدر بارک اوباما نے عراق میں ا مر یکہ کی قیادت میں غیر ملکی افواج کے اتحاد ذریعے  عراقی فورسیز کو تعاون فراہم کیا تھا۔   گزشتہ برس ہی سابق  امریکی صدر  ڈونالڈ ٹرمپ نے افغانستان، عراق، شام اور صومالیہ سے امریکی فوجیوں کو بلانے کا عندیہ دیا تھا۔ اس  کے تحت عراق سے۳؍ ہزار امریکی فوجیوں کو واپس بلالیا گیا تھا  لیکن  اب بھی ڈھائی؍ ہزار امریکی فوجی عراق میں موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق عراق میں امریکی فوجی مشن کے اختتام کااعلان  اکتوبر تک ہوسکتا ہے۔

iraq Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK