امسال ہندوستان کی شرح نمو۷ء۵؍ متوقع،بڑی معیشتوں میں سب سےزیادہ

Updated: June 24, 2022, 12:07 PM IST | Agency | New Delhi

آن لائن برکس بزنس فورم۲۰۲۲ء کے افتتاحی اجلاس سے وزیراعظم مودی کا خطاب ، یہ بھی کہا کہ ہر میدان میں معنی خیز تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں

Narendra Modi. Picture:INN
وزیراعظم نریندر مودی۔ تصویر: آئی این این

 وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ رواں مالی سال میں ہندوستان کی شرح نمو۷ء۵؍ فیصد رہنے کا امکان ہے اور اس طرح یہ ملک بڑی معیشتوں میں سب سے زیادہ ترقی درج کرے گا۔  وزیراعظم  مودی آن لائن برکس بزنس فورم۲۰۲۲ء کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ برکس میں ہندوستان کے علاوہ برازیل، روس، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے ہندوستان میں ہر میدان میں تبدیلی کی معنی خیز تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔  مودی نے کہا کہ برکس کا قیام اس یقین کے ساتھ کیا گیا تھا کہ گروپ کی ابھرتی ہوئی معیشتیں عالمی اقتصادی ترقی کے انجن کا کردار ادا کریں گی۔ وزیر اعظم نے کہا،’’آج دنیا کووڈ کے بعد اقتصادی سرگرمیوں کو تیز کرنے پر مرکوز ہے۔ اس صورتحال میں بھی برکس ممالک کا کردار اہم رہے گا۔‘‘ وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان نے اپنی معیشت کو وبائی امراض سے پیدا ہونے والے مسائل سے بحال کرنے کیلئے ’’اصلاح، کارکردگی اور تبدیلی‘‘ (اصلاح، عمل درآمد اور تبدیلی) کے منتر کے ساتھ کام کیا ہے، جس کے نتیجے میں ہندوستانی معیشت کی اچھی کارکردگی سامنے آتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اس سال ہم۷ء۵؍ فیصد کی ترقی کی توقع کر رہے ہیں جو ہمیں بڑی معیشتوں میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت بنا دے گی۔وزیر اعظم نے کہا کہ نئے ہندوستان میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اقتصادی ترقی، کاروبار کرنے میں آسانی، قومی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی فہرست پر کام کرنے اور بھی اس ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ایک بے مثال ڈجیٹل انقلاب سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم ٹیکنالوجی کی قیادت میں ترقی کو فروغ دینے  کیلئے ہر شعبے میں جدت کو فروغ دے رہے ہیں۔ اس تناظر میں، انہوں نے حکومت کی جانب سے خلائی، سمندری معیشت، گرین ہائیڈروجن، صاف توانائی، ڈرون ٹیکنالوجی، جیو اسپیشل ڈیٹا جیسے شعبوں کیلئے شروع کی گئی کاروبار دوست پالیسیوں کا ذکر کیا۔
   مودی نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان آج اسٹارٹ اپس کے میدان میں دنیا کے سب سے بڑے ماحولیاتی نظام والے ممالک میں شامل ہوگیا ہے۔ ہندوستان میں اسٹارٹ اپ یونٹس کی تعداد ۷۰۰۰؍ سے زیادہ ہے اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ایک بلین  ڈالر کی مجموعی مالیت کے ساتھ ملک میں اسٹارٹ اپ یونٹس کی تعداد ۱۰۰؍ سے تجاوز کر گئی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وبا کے دوران بھی ہندوستان میں کاروبار کرنے میں آسانی کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ تاجروں پر قواعد کا بوجھ کم کرنے کیلئے  ہزاروں قوانین تبدیل کئے گئے ہیں۔ انفراسٹرکچر کی ترقی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس کیلئے قومی جامع منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ ۱ء۵؍ ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے مواقع کے ساتھ مجوزہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی قومی فہرست تیار کی گئی ہے۔ہندوستان میں ڈیجیٹل معیشت کی کوششوں کا تذکرہ کرتے ہوئے   مودی نے کہا کہ ہندوستان میں اس وقت ڈیجیٹل انقلاب جس پیمانے پر ہورہا ہے وہ دنیا میں کہیں نہیں دیکھا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا’’ ۲۰۲۵ء تک ہندوستان کی ڈیجیٹل معیشت ایک ٹریلین ڈالر کی ہو جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبےمیں ۴۴؍ لاکھ پیشہ ور افراد کام کرتے ہیں جن میں سے ۳۶؍ فیصد خواتین ہیں۔مودی نے مشورہ دیا کہ برکس خواتین کی صنعت کار تنظیم کو اس وقت ہندوستان میں ہونے والی تبدیلی کی تبدیلیوں کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ برکس ممالک کی معاشی حالت بہتر بنانے کیلئے ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی کی کوششوں پر بھی نتیجہ خیز گفتگوہو سکتی ہے۔انہوں نے برکس بزنس فورم کو باقاعدہ گفتگو کیلئے مستقل پلیٹ فارم بنانے کی تجویز بھی  پیش کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK