Updated: October 19, 2026, 2:35 PM IST
| Mumbai
ممبئی کے جوہو علاقے میں بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کے ایک دن بعد پولیس نے راجستھان کے کوٹا ریلوے اسٹیشن سے ۳؍ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ اداکار محفوظ رہے، تاہم ان کے ڈرائیور اور ایک راہ گیر زخمی ہوگئے۔ پولیس حملے کی منصوبہ بندی، ملزمین کے فرار کے راستے اور لارنس بشنوئی گینگ کے نام سے سامنے آنے والے ذمہ داری کے دعوے کی حقیقت جانچ رہی ہے۔
ٹائیگر شروف۔ تصویر: آئی این این
بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کے معاملے میں ممبئی پولیس کو اہم کامیابی ملی ہے۔ ہندوستان ٹوڈے اور دیگر ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق، فائرنگ کے بعد ممبئی سے فرار ہونے والے ۳؍ مشتبہ افراد کو راجستھان کے کوٹا ریلوے اسٹیشن سے گرفتار کیا گیا۔ کارروائی راجستھان کی اینٹی گینگسٹر ٹاسک فورس، کوٹا سٹی پولیس اور ممبئی پولیس کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں انجام دی گئی۔ ملزمین کو ممبئی لانے اور ان سے پوچھ گچھ کے ذریعے حملے کی منصوبہ بندی اور ممکنہ سرپرستوں کا سراغ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بعض رپورٹوں میں ۲؍ بالغ ملزمین کی گرفتاری اور ایک نابالغ کو حراست میں لیے جانے کی تفصیل دی گئی ہے۔
یہ واقعہ اتوار ۱۸؍ اکتوبر کی شام ممبئی کے جوہو علاقے میں پیش آیا، جب ٹائیگر شروف فٹ بال کھیلنے کے بعد اپنی گاڑی سے واپس جارہے تھے۔ پولیس کے مطابق، موٹر سائیکل پر سوار ۳؍ افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ ان میں سے ۲؍ نے مبینہ طور پر فائرنگ کی، جبکہ تیسرا شخص موٹر سائیکل کے ساتھ موجود رہا تاکہ حملہ آور فرار ہوسکیں۔ ابتدائی اطلاعات میں فائرنگ کے دوران ۳؍ سے ۴؍ گولیاں چلنے کا ذکر کیا گیا، تاہم بعض رپورٹوں میں تعداد مختلف بتائی گئی ہے۔ ٹائیگر شروف اس حملے میں محفوظ رہے، لیکن ان کے ڈرائیور اور ایک راہ گیر کو گولی لگنے سے چوٹیں آئیں۔ اداکار کو شیشے کے ٹکڑوں اور بارود کے اثر سے معمولی زخم آنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی۔ واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد جمع کیے اور سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے مشتبہ افراد کی نقل و حرکت کا سراغ لگانے کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھئے:سی جے پی کا آشوتوش رانکا اور سورَو داس کی رہائی میں ’جان بوجھ کر تاخیر‘ کا الزام
تفتیش کاروں کو شبہ ہے کہ حملہ اچانک نہیں ہوا بلکہ ملزمین نے اداکار کی روزمرہ سرگرمیوں پر پہلے سے نظر رکھی تھی۔ پولیس ذرائع کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق، ملزمین کو معلوم تھا کہ ٹائیگر شروف اتوار کو جوہو کے فٹ بال گراؤنڈ جاتے ہیں۔ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ حملہ اسی وقت کیا گیا جب وہ گراؤنڈ سے نکل کر گاڑی میں سوار ہوئے۔ تاہم، حملے کی مکمل منصوبہ بندی اور اس کے پیچھے موجود افراد کے کردار کی تصدیق تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گی۔فائرنگ کے بعد مشتبہ افراد مبینہ طور پر موٹر سائیکل پر فرار ہوئے اور بعد میں اسے ممبئی کے اندھیری ویسٹ ریلوے اسٹیشن کے قریب چھوڑ دیا۔ اطلاعات کے مطابق، وہ ٹرین کے ذریعے شہر سے باہر نکلے اور بالآخر کوٹا پہنچے۔ ممبئی پولیس نے متعدد خصوصی ٹیمیں تشکیل دی تھیں، جنہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر معلومات کی بنیاد پر ان کی تلاش کی۔ کوٹا میں گرفتاری کے بعد اب تفتیش کا اہم مرحلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ حملہ آوروں نے کس کے کہنے پر فائرنگ کی اور آیا اس کارروائی میں مزید افراد بھی شامل تھے۔
اس معاملے نے اس وقت مزید حساس رخ اختیار کیا جب سوشل میڈیا پر ایک پیغام سامنے آیا جس میں لارنس بشنوئی گینگ کے نام پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ مختلف رپورٹوں میں انیل پنڈت اور ہرمَن سندھو کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔ مبینہ پیغام میں ٹائیگر شروف کو اداکار سلمان خان کے ساتھ کام کرنے کے معاملے پر دھمکی دیے جانے کا ذکر کیا گیا۔ تاہم، پولیس نے اس پیغام کی صداقت اور گینگ کے حملے میں براہِ راست ملوث ہونے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔ اس لیے اسے فی الحال ایک زیرِ تفتیش دعوے کے طور پر ہی دیکھا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ممبئی میں ٹائیگر شروف پر فائرنگ، اداکار محفوظ رہے، پولیس نے تحقیقات شروع کی
مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے واقعے کے بعد سخت کارروائی کی یقین دہانی کرائی، جبکہ نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے ٹائیگر شروف سے ملاقات کرکے انہیں حکومت کی جانب سے تعاون کا یقین دلایا۔ شندے نے منظم جرائم اور گینگ وار کے دوبارہ سر اٹھانے کے امکان پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ریاست میں ایسے عناصر کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ممبئی میں معروف شخصیات کو دھمکیوں اور فائرنگ کے واقعات کے پس منظر میں یہ حملہ پولیس کے لیے ایک اور بڑا امتحان بن گیا ہے۔ تفتیش کاروں کو نہ صرف فائرنگ میں ملوث افراد کے خلاف ثبوت جمع کرنے ہیں بلکہ یہ بھی طے کرنا ہے کہ آیا حملے کا تعلق کسی منظم جرائم پیشہ گروہ سے ہے، اس کا مقصد اداکار کو ڈرانا تھا یا اس کے پیچھے کوئی دوسرا تنازع موجود ہے۔ کوٹا سے مشتبہ افراد کی گرفتاری کے باوجود اس معاملے کے کئی اہم سوالات ابھی جواب طلب ہیں۔