• Sun, 25 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آسام میں بنگالی مسلمانوں کے ساتھ امتیاز پر اقوام متحدہ فکرمند

Updated: January 24, 2026, 11:40 PM IST | New Delhi

کمیٹی برائے انسدادِ نسلی امتیاز نےہیمنت بسواشرما کی ریاست میں نشانہ بنائے جانے کی مثالیں پیش کیں، جنیوا میں ہندوستان کے مستقل نمائندہ سے وضاحت طلب کی

Bengali-speaking Muslims are being targeted at every level in the northeastern state of Assam.
شمال مشرقی ریاست آسام میں بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو ہر سطح پر نشانہ بنایا جارہا ہے

 اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے انسدادِ نسلی امتیاز (سی ا ی آر ڈی) نے آسام میں بنگالی زبان بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نسلی امتیاز  پر شدید تشویش کااظہار کیا ہے۔ کمیٹی نے نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) کے دوران ان کے  اخراج،   جبری بے دخلی  ، نفرت انگیز تقاریر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سےان کے خلاف حد سے زیادہ طاقت کے استعمال کی نشاندہی کی ہے۔
 متحدہ میں  ہندوستان کے مستقل نمائندے کو۱۹؍ جنوری ۲۰۲۶ء  کو  بھیجے گئے مکتوب میں سی ای آر ڈی نے ۱۲؍ مئی ۲۰۱۵ء  کو بھیجے گئے  سابقہ مکتوب کے جواب میں حکومت ِ ہند  کی جانب سے ’’معلومات کے فقدان‘‘ پر  افسوس کااظہار کرتے ہوئے پھر سے جواب مانگا ہے۔مذکورہ خط میں  آسام میں بنگالی مسلمانوں   کےحقوق کی خلاف ورزیوں پر حکومت ہند سے وضاحت طلب کی گئی تھی۔کمیٹی نے شہریت (ترمیمی) ایکٹ ۲۰۱۹ء اور  اس کے لئے ۲۰۲۴ء میں جاری کئے گئے   ضوابط سے متعلق  ہندوستان کے جواب کا نوٹس  ہے لیا اور حکومت کے اس دعوے کا حوالہ دیا کہ یہ قانونی ضابطہ اہل غیر ملکیوں کو رجسٹریشن یا قدرتی  عمل کے تحت شہریت کے حصول کیلئے درخواست دینے سے نہیں روکتا۔حکومت کے اس جواب پر سوال اٹھاتے ہوئے کمیٹی نے نشاندہی کی ہے کہ  اس  میں  این آر سی  اَپ ڈیٹ کے دوران  امتیازی طرزِ عمل سے متعلق بنیادی الزامات کا جواب نہیں دیا گیا۔ 
 سی ای آر ڈی نے ان رپورٹوں پر تشویش کا اظہار کیا ہےکہ آسام کی حتمی این آر سی  سے بنگالی زبان بولنے والے مسلمانوں کو غیر متناسب طور پر خارج کیا گیا ہے اوراس کی وجہ  اکثر ’’طریقۂ کار کی بے قاعدگیاں‘‘ اور’’ انتظامی خامیاں‘‘ رہی ہیں۔ ان میں وراثت سے متعلق دستاویزات کے حصول میں دشواریاں، جانچ پڑتال کے معیار کی غیر معمولی سختی اور بہت سے باشندوں کو’’غیر اصل باشندے‘‘  کے زمرے میں ڈال دیناشامل ہے۔ کمیٹی نے بطور خاص ’’غیر اصل باشندے‘‘ کے اصطلاح پر سوال اٹھایا ہے اور کہا ہے   اس کی کوئی واضح قانونی تعریف موجود نہیں ہے۔کمیٹی نے یہ بھی نشاندہی کی  ہے کہ  این آر سی کے اَپ ڈیٹ کے عمل کے  دوران فارینرس  ٹریبونلز کی کارروائی اچانک معطل کردی گئی جس  کی وجہ سے وہ افراد جنہیں ’’ مشکوک ووٹرس‘‘  قرار دے دیا گیاتھا وہ  اسے چیلنج  اوراپنی شہریت ثابت نہیں کرسکے اور یوں وہ عملاً شہریت کے رجسٹر میں شامل نہیں  ہوسکے ۔ کمیٹی نے ’این آر سی‘ رجسٹر میں ان کی عدم شمولیت کو ’’شامل نہ ہونے دینا‘‘ قرار دیا ہے۔ 
 شہری حقوق کی تنظیمیں طویل عرصے سے  یہ نشاندہی کررہی ہیں کہ  بنگالی  مسلمانوں پر خود کو ہندوستانی ثابت کرنے کا بوجھ دیگر کے مقابلے میں زیادہ ہے  حالانکہ یہ لوگ  معاشی طور پر انتہائی  کمزور  طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور  دریائے برہم پتر کے کنارے سیلاب اور کٹاؤ کے باعث  بار بار بے گھر ہوتے رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کیلئے دستاویز سنبھال کر رکھنا بھی مشکل عمل ہے۔
 اقوامِ متحدہ کے ادارے نے  اس بات پر بھی تشویش کااظہار کیا ہے کہ  آسام حکومت نے متعدد اضلاع میں بنگالی زبان بولنے والے مسلم خاندانوں کو نشانہ بناتے ہوئے منظم انداز میں  انہیں زبردستی  بے گھر یا ملک بدر کیا ہے ۔ گزشتہ چند برسوں میں آسام میں  بنگالی بولنے والے  مسلمانوں کی بستیوں پر’’غیر قانونی تجاوزات‘‘ کے نام پر کی گئی بلڈوزر کارروائیوں کا بھی رپورٹ میں حوالہ دیاگیا اور فکرمندی کااظہار کیاگیا ہے۔ حقوقِ انسانی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان اقدامات نے غیر متناسب طور پر مسلم برادریوں کو متاثر کیا اور یہ سب کچھ  انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی  معیار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیاگیاہے۔ 
 اقوام متحدہ کی ذیلی کمیٹی  نے اقوام متحدہ میں   حکومت ہند کے مستقل نمائندہ سے  بنگالی  بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور تشدد پر اکسانے کے الزامات  بالخصوص آسام میں ۲۰۲۴ء کے قومی انتخابات کے دوران جو کچھ ہوا  اس تعلق سے بھی معلومات فراہم  نہ کرنے پر تشویش کااظہار کیا ہے۔کمیٹی نے  قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعہ بنگالی مسلمانوں  کے خلاف طاقت  کے  ضرورت سے زیادہ استعمال پر بھی تشویش ظاہر کیا ہے  جس کے نتیجے میں بار بار ہلاکت اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے۔ ہر طرح کے نسلی امتیاز کے خاتمے  کے تعلق سے  بین الاقوامی کنونشن کے آرٹیکل۹(۱) کا حوالہ دیتے ہوئے، کمیٹی نے ہندوستان  سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان الزامات سے نمٹنے کیلئے  اٹھائے گئے اقدامات سے متعلق تفصیلی معلومات اپنی۲۰؍ ویں اور۲۱؍ رپورٹس  میں پیش کرے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK