ہندوستان نے چین اور دیگر ہمسایہ ممالک کے لیے ایف ڈی آئی قوانین میں نرمی کر دی ، جن میں چین بھی شامل ہے، یہ قدم۲۰۲۰ء میں متعارف کرائے گئے ایک اصول میں تبدیلیوں کی منظوری کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: March 11, 2026, 10:35 PM IST | New Delhi
ہندوستان نے چین اور دیگر ہمسایہ ممالک کے لیے ایف ڈی آئی قوانین میں نرمی کر دی ، جن میں چین بھی شامل ہے، یہ قدم۲۰۲۰ء میں متعارف کرائے گئے ایک اصول میں تبدیلیوں کی منظوری کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
مرکزی کابینہ نے منگل کو ان ممالک سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں کے لیے براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کے قوانین میں نرمی کر دی ہے جو ہندوستان کے ساتھ زمینی سرحدیں رکھتے ہیں، جن میں چین بھی شامل ہے۔واضح رہے کہ یہ قدم۲۰۲۰ء میں متعارف کرائے گئے ایک اصول میں تبدیلیوں کی منظوری کے بعد اٹھایا گیا ہے۔دراصل ۲۰۲۰ءکے اصول کے تحت، چین، بنگلہ دیش، پاکستان، نیپال، بھوٹان، میانمار اور افغانستان کے شیئر ہولڈرز والی کمپنیوں کو ہندوستان میں کسی بھی شعبے میں سرمایہ کاری سے پہلے حکومتی منظوری لینا لازمی تھا۔حکومتِ ہند کے مطابق، منگل کو منظور شدہ تبدیلیوں کے ساتھ، اب ایسی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کو خودکار منظوری دے دی جائے گی بشرطیکہ ان کی فائدہ مند ملکیت۱۰؍ فیصد سے تجاوز نہ کرے اور قابل اطلاق شعبہ جاتی حدود اور دیگر قوانین کا خیال رکھا جائے۔اس کے علاوہ، سرمایہ کاری حاصل کرنے والی ہندوستانی کمپنی کو تجارت و صنعت کی وزارت کے تحت کام کرنے والے محکمہ فروغِ صنعت و داخلی تجارت (ڈی پی آئی آئی ٹی) کو تفصیلات سے آگاہ کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: گیس سلنڈر کا بحران ، اپوزیشن حکومت پر حملہ آور
بعد ازاں نئی پالیسی میں مخصوص شعبوں، بشمول کیپیٹل گڈز اور الیکٹرانک پرزہ جات کی تیاری، میں سرمایہ کاری کے لیے۶۰؍ دنوں کے اندر وقتِ پابند کلیئرنس فراہم کرنے کی سہولت دی گئی ہے۔ حکومت نے کہا کہ کیبنٹ سیکرٹری کی سربراہی میں سیکرٹریوں کی ایک کمیٹی ان شعبوں کی فہرست میں نظرثانی کر سکتی ہے۔یہ بھی شرط رکھی گئی ہے کہ سرمایہ کاری حاصل کرنے والی ہندوستانی کمپنی کی اکثریتی حصص داری اور کنٹرول ہر وقت ہندوستانی شہریوں یا ہندوستانی کنٹرول والے اداروں کے پاس رہنا چاہیے۔یہ فیصلہ تقریباً چھ سال بعد سامنے آیا ہے جب نئی دہلی نےکرونا وبا کے باعث ہندوستانی کمپنیوں کےتسلط کوبرقرار رکھنے کے لیے ایف ڈی آئی کو ریگولیٹ کیا تھا۔حالانکہ یہ اصول ایسے وقت میں آیا تھا جب گَلوان وادی میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر دونوں ممالک کی فوجوں کے درمیان جھڑپ کے بعد ہندوستان اور چین کے تعلقات کشیدہ تھے۔
یہ بھی پڑھئے: انڈین ایئر لائن کمپنیوں کی طرف سے ریاض کے لیے پروازیں دوبارہ شروع ہوں گی
ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سال کے اقتصادی جائزے (اکنامک سروے) میں کہا گیا تھا کہ چین سے سرمایہ کاری ہندوستان کی ترقی کو فروغ دے سکتی ہے، جس کے بعد حکومت نے پابندیوں کا جائزہ لینا شروع کیا۔حکومت نے کہا کہ۲۰۲۰ء کی پابندیوں نے، جو اس وقت بھی نافذہوتی تھیں جب ہمسایہ ممالک کے سرمایہ کاروں کے آزادانہ مفادات بھی ہوتے تھے، سرمایہ کاری کے بہاؤ پر منفی اثر ڈالا تھا، جس میں پرائیویٹ ایکویٹی یا وینچر کیپیٹل فنڈز جیسے عالمی فنڈز بھی شامل ہیں۔تاہم حکومت کا مزید کہنا تھا، ’’توقع ہے کہ نئے رہنما اصول ہندوستان میں کاروبار کرنے میں وضاحت اور آسانی فراہم کریں گے، اور ایسی سرمایہ کاری کو فروغ دیں گے جو ایف ڈی آئی کے بہاؤ میں اضافہ، نئی ٹیکنالوجی تک رسائی، مقامی ویلیو ایڈیشن، مقامی فرموں کی توسیع اور عالمی سپلائی چین کے ساتھ انضمام میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔‘‘