یہ موضوع کئی سال سے زیر بحث ہے اور علماء اس پر متفق بھی ہیں مگر ٹھوس منصوبہ بندی کے فقدا ن سے اب بھی اس پرعمل درآمد نہیں
EPAPER
Updated: February 18, 2026, 7:53 AM IST | Mumbai
یہ موضوع کئی سال سے زیر بحث ہے اور علماء اس پر متفق بھی ہیں مگر ٹھوس منصوبہ بندی کے فقدا ن سے اب بھی اس پرعمل درآمد نہیں
ایک ہی ترتیب سے تراویح میں کلام پاک سنانے کا سلسلہ اب بھی جاری نہیں ہوسکتا کیونکہ اس ترتیب پر ہم سب کا اتفاق ہے مگر کوئی ایسی صورت نہیںنکل سکی ہے کہ اسے بیک وقت تمام مساجدمیں روبہ عمل لایاجاسکے ۔ رمضان المبارک میں شہر ومضافات کی تمام مساجد میں یکساں ترتیب سے مصلیان کو کافی آسانی ہوگی اور وہ کسی بھی مسجد میں تراویح پڑھ سکیں گے، سفر میں بھی ان کی ترتیب قائم رہے گی۔ اسے سبھی مسالک کے علماء پسندیدہ عمل بتارہے ہیں مگر اس تعلق سےکوئی ٹھوس لائحۂ عمل مرتب نہیں ہوا ہے۔ بیشتر مساجد میں ۲۷؍ویں شب میںجبکہ کچھ مساجد میں ۲۹؍ویں شب میںقرآن کریم مکمل کیا جاتا ہے۔ علماء نے یکساں ترتیب قائم کئے جانے پر اتفاق کیا مگر اسی سال سے ایسا ہو یہ ممکن نہیں ۔
مومن پورہ بائیکلہ اہل حدیث مسجد کے ٹرسٹی مولانا عبدالجلیل انصاری نےنمائندۂ انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ’’ اہل حدیث مسلک کی بیشتر مساجد میں۲۹؍ویں شب میںقرآن کریم مکمل کیاجاتا ہے اوربعض مساجد میں۲۷؍ویں شب میں۔ اگرتمام مساجد میں یکساں ترتیب قائم کرلی جائے تومصلیان کا بڑا مسئلہ حل ہوجائے گا۔ وہ کہیں بھی ہوں گےان کو ترتیب چھوٹنے یا تراویح میں قرآن کریم کی سماعت ناقص رہنے کا اندیشہ نہیں رہے گا ۔‘‘ مولانا کے مطابق ’’ برسو ں قبل اس طرح کی بات سامنے آئی تھی مگرزیادہ توجہ نہیںدی گئی ۔ اس کانتیجہ یہ ہےکہ حفاظ اپنے طور پرپڑھاتے ہیں۔ اگر تمام مساجد میںیکساں ترتیب قائم ہوجائےتوبہت اچھا ہوگا ۔مگر اس کے لئے عین وقت پرنہیںبلکہ رمضان المبارک کی آمد سے کافی پہلے کوشش کرنی ہوگی تاکہ ذہن سازی ہو، اس تعلق سے عمومی اتفاق کی کیفیت پیدا ہو اور اس پرعمل کرنا آسان ہوسکے ۔‘‘
مفتی محمد اشفاق قاضی (ممبئی جامع مسجد دارالافتاء )نے کہاکہ’’ یقیناً، تراویح میںیکساں ترتیب سےمصلیان کو کافی آسانی ہوگی اورسب سے اہم یہ کہ ایسے مصلی جن کے لئے ایک جگہ نماز اداکرنا ا ور ۲۷؍ویں شب میں قرآن کریم مکمل ہونے تک ایک ہی مسجد میںتراویح پڑھنا مسئلہ ہوتا ہے، انہیں کافی سہولت ہوگی اوران کی ترتیب بھی برقرار رہے گی ۔ ‘‘
ان کایہ بھی کہنا تھا کہ ’’ جامع مسجدمیںچند برس تک ۲۹؍ویں شب میںقرآن مکمل کیا جاتا تھا مگر وہ ترتیب ختم کرکے ۲۷؍ویں شب میںقرآن مکمل کرنے والی ترتیب پھر سے شروع کردی گئی ہے ۔ جہاں تک ایک رائے ہونے کا معاملہ ہے تواگر پہلے سے اس جانب توجہ دلائی جائےتواس پرعمل کرنا آسان ہوگا ۔ اس وقت تو حفاظ اپنی اپنی ترتیب کے مطابق قرآن کریم پڑھتے ہیں،کہیں ۶؍روز میں تو کہیں ۱۰؍ روز میں توکہیں ۱۵؍ دن میںجبکہ بیشتر مساجد میں۲۷؍ویں شب اورکچھ مساجد میں۲۹؍ویں شب میں قرآن کریم مکمل کیا جاتا ہے۔‘‘
مولانا مقصو د علی خا ن نوری (سنّی بڑی مسجد وسنّی جمعیۃ العلماء) نے کہاکہ ’’ یہ مثبت فیصلہ ہوگا ، اگر ایسا نظم قائم ہوجائے کہ تمام حفاظ ایک ہی ترتیب سے پڑھائیں اورقرآن کریم مکمل کریں ۔ یہ زیادہ دشوار نہیں ہے مگر بالکل آسان بھی نہیں۔ اس لئے کہ جب تک اتفاق رائے نہیںہوگا ،عمل کرنامشکل ہوگا ۔ ‘‘
مولانا نوری کے مطابق’’ چندسال قبل اس تعلق سے کچھ باتیں سامنے آئی تھیں ،مگرمعاملہ زیادہ آگے نہ بڑھ سکا ۔ اگر رمضان المبارک سے قبل اس تعلق سے بات چیت کی جائے تو شاید زیادہ مشکل نہیںہوگی اور مصلیا ن کا ایک بڑا مسئلہ حل ہوجائے گا۔ اس لئے بھی کہ حفاظ توپڑھاتے ہی ہیں، بس ترتیب کے تعلق سے ایک رائے ہونے کی ضرورت ہے۔ ایسے میں سفر کرنے والوں کو کافی آسانی ہوگی اور کاروبار یا دیگر مصروفیات کے ساتھ ان کے لئے تراویح اورتراویح میںپورا قرآن پاک سننے کا عمل بھی مکمل ہوجائےگا ۔ اس سے قطع نظرکہ مختلف مقامات پرتاجر اپنی سہولت کے اعتبار سے تراویح کا اہتمام کرتے ہیں۔‘‘