امریکہ نے جمعہ کو افغان پاسپورٹ پر سفر کرنے والے افراد کے ویزا کے اجرا کو فوری طور پر روکنے اور پناہ گزینی سے متعلق تمام درخواستوں کو منجمد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
EPAPER
Updated: November 29, 2025, 2:04 PM IST | New York
امریکہ نے جمعہ کو افغان پاسپورٹ پر سفر کرنے والے افراد کے ویزا کے اجرا کو فوری طور پر روکنے اور پناہ گزینی سے متعلق تمام درخواستوں کو منجمد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
امریکہ نے جمعہ کو افغان پاسپورٹ پر سفر کرنے والے افراد کے ویزا کے اجرا کو فوری طور پر روکنے اور پناہ گزینی سے متعلق تمام درخواستوں کو منجمد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام واشنگٹن ڈی سی میں پیش آنے والے گولی باری کے ایک واقعے کے بعد کیا گیا جس میں ایک نیشنل گارڈ اہلکار ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوگیا تھا۔ امریکی سٹیزن شپ و امیگریشن سروسیز(یو ایس سی آئی ایس)نے کہا کہ یہ فیصلہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے کہ ہر درخواست گزار کی زیادہ سے زیادہ جانچ اور اسکریننگ ممکن ہو سکے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایکس پر کہا کہ وزارت خارجہ نے افغان پاسپورٹ پر سفر کرنے والوں کے لیے ویزوں کا اجرا فوری طور پر روک دیا ہے اور حکومت قومی سلامتی اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔ بدھ کو گھات لگا کر کی گئی فائرنگ میں ملوث مشتبہ شخص کی شناخت ایک افغان شہری کے طور پر ہونے کے بعد حکام کی جانب سے یہ سخت کارروائی کی گئی ہے۔ اس واقعے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے فوری طور پر امیگریشن پالیسیوں کو سخت کرنے کی ہدایت دی۔
یہ بھی پڑھئے:۵؍ سال کی قیدو بند کے بعد ۶؍ مسلم نوجوان دہلی فساد کے کیس سے بری
یو ایس سی آئی ایس نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ اس نے پناہ گزینی سے متعلق تمام درخواستوں پر فیصلے معطل کر دیے ہیں تاکہ اسکریننگ اور ویٹنگ کے بہتر اور سخت طریقۂ کار کو یقینی بنایا جا سکے۔یو ایس سی آئی ایس کے ڈائریکٹر جو ایڈلو نےایکس پر کہا کہ یو ایس سی آئی ایس نے ہر غیر ملکی کی مکمل جانچ یقینی بنانے تک پناہ گزینی سے متعلق تمام فیصلے روک دیئے ہیں۔ امریکی عوام کی سلامتی ہمیشہ اولین ترجیح کی حامل ہے۔
انتظامیہ نےان۱۹؍تشویش کے حامل ممالک جن میں افغانستان بھی شامل ہے، کے شہریوں کو جاری کیے گئے تمام گرین کارڈز کا ازسرِ نو جائزہ لینے کا بھی حکم دیا ہے اور وزارتِ داخلہ کو سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں منظور کی گئی درخواستوں کی دوبارہ جانچ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:رانچی میچ میںرو۔کو‘ کی جوڑی تاریخ رقم کرےگی
صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے حملے کے بعد سابق انتظامیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ملزم ، بائیڈن دور کی پالیسیوں کے تحت ملک میں داخل ہوا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ تیسری دنیا کے ممالک سے نقل مکانی کو مستقل طور پر روکنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاہم انہوں نے ان ممالک کی فہرست نہیں بتائی۔ یہ اقدامات موجودہ انتظامیہ کے امیگریشن سے متعلق اب تک کے سب سے بڑے اور سخت اقدامات میں شمار کیے جا رہے ہیں اور حکام نے اشارہ دیا ہے کہ ڈی سی فائرنگ کی تحقیقات کے پیش نظر مزید اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔