• Thu, 15 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی پولیس کے تشدد کا شکار افراد میڈیا میں پیش

Updated: October 15, 2026, 11:01 AM IST | Agency | New Delhi

راہل گاندھی نے مظاہرین کو ’شیر‘کہہ کر متعارف کرایا، متاثرین نے ٹارچر کی تفصیل بتائی مگر خوفزدہ نہیں، ایک طالبہ قوت سماعت سے محروم ہوگئی۔

Rahul Gandhi speaking to the media; standing behind him are the students who were subjected to violence by the police. Photo: INN
راہل گاندھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے،پیچھے  وہ طلبہ و طالبات کھڑے ہیںجنہیں پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ تصویر: آئی این این

لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بدھ کو کانگریس کی طلبہ تنظیم ’این ایس یو آئی ‘ کے ان کارکنوں کو میڈیا کے سامنے پیش کیا جنہیں پولیس نے تحویل میں لینے کے بعد بری طرح زدوکوب کیا۔  ان  میں سے ایک طالبہ جس کا تعلق کیرالا سے ہے،  پولیس کی مارپیٹ کی وجہ بنا پرایک کان سے قوت سماعت سے محروم ہوگئی ہے۔ طلبہ اور طالبات  نے پولیس کے ناقابل یقین مظالم کو بیان کرنے کے بعد بھی اس کا جواب ’’محبت سے ہی دینے‘‘ کا اعلان کیا مگر کہا کہ وہ خوفزد ہ نہیں ہیں ۔ دوسری طرف راہل گاندھی  نے امیت شاہ کو للکارتے ہوئے کہا کہ اِن مظاہرین کے مدمقابل نہ کھڑے ہوں۔انہوں نے ثبوت محفوظ رکھنے اوروقت آنے پر ذمہ دار پولیس اہلکاروں   کے خلاف بھی اعلان کیا۔ 

پولیس کانسٹیبل چنچل یادو  پر سنگین الزامات

منگل کو این ایس یو آئی کے کارکنوں نے کناٹ پلیس میں راجیو چوک میٹرو اسٹیشن کے گیٹ نمبر۷؍کے قریب احتجاج کیا تھا۔ اس دوران کئی مظاہرین کو حراست میں لیاگیاتھا۔سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی گردش کررہا ہےجس میں ایک خاتون پولیس اہلکار ایک طالبہ کو کو بال پکڑ کر گھسیٹ رہی ہے۔ یہ طالبہ بھی میڈیا کے سامنے پیش کی گئی۔  راہل گاندھی نے   اسے ’’ہماری شیرنی‘‘ کہہ کر متعارف کرایا۔ طالبہ  نے دہلی پولیس کانسٹیبل چنچل یادو کا نام لے کر بتایا کہ اس نے گردن دبائی، سیٹ پر پھینکا، لاتوں سے مارا،چہرے پر نوچا اور پولیس اسٹیشن کے بیسمنٹ میں جہاں سی سی ٹی وی نہیں تھا، لے کر کر جانوروں کی طرح  پیٹا۔  طالبہ نے بتایا کہ مارپیٹ کے دوران اس کی بالی کان  میں  دھنس گئی، جس سے شدید چوٹیں آئیں۔ اس نے مزید الزام لگایا کہ سادہ لباس میں موجود اہلکاروں نے کناٹ پلیس پولیس اسٹیشن کے کمرہ نمبر۱۰۷؍میں بھی اس پر تشدد جاری رکھا۔

یہ بھی پڑھئے: آٹھ ماہ کی محنت ضائع، اجنارندی میں دوبارہ کچرا جمع، بٹو تباہی پھر صفائی میں مصروف

اتیرہ قوت سماعت سے محروم ہوگئی مگر ہمت نہیں ہاری

کیرالا سے تعلق رکھنے والی دہلی یونیورسٹی کی طالبہ اتیرہ نے   بتایا  کہ  اسے پولیس کی ایک بس میں حراست میں رکھا گیا، جس میں کوئی خاتون پولیس اہلکار موجود نہیں تھی۔  جب اس نے اعتراض کیاتو  بس کو کناٹ پلیس پولیس اسٹیشن کے باہر روکا گیا، جہاں پولیس  اہلکاروں نے  بے شمار طمانچے مارے۔ راہل گاندھی نےبتایا کہ ’’ اتیرہ کی  ایک کان سے سننے کی صلاحیت ختم ہوگئی ہے۔ ضرب لگنے کی وجہ سے وہ ایک کان سے بہری ہوگئی ہے۔ پچھلی بار میں نے آپ کو ایک لڑکا دکھایا تھا جس کی بینائی چلی گئی تھی۔ اب یہ لڑکی ایک کان سے سن نہیں سکتی۔‘‘

 نوجوانوں نے بھی مار پیٹ کی تفصیل بتائی

ایک نوجوان طالب علم نے الزام لگایا کہ پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن کے اندر۱۵؍ سے۲۰؍پولیس اہلکاروں نے اس کی اور اس کے ایک ساتھی کی پٹائی کی۔ اس نے انکت کاسانا نامی ایک کانسٹیبل  کا بطور خاص نام لیا اور بتایا کہ دہلی کے مضافات کی طرف لے جاتے وقت اس نے ان دونوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔دیگر مظاہرین نے الزام لگایا کہ پولیس اہلکاروں نے انہیں لاٹھیوں سے مارا، ان کے حساس اعضا پر لاتیں ماریں اور ان کا سامان چھین ۔ 

  راہل گاندھی نے کیا کہا؟
 ’’یہ ہندوستان ہے۔ امیت شاہ جی، اسے غور سے دیکھیے۔ یہاں ایک آواز ہے، ایک احتجاج ہے۔ یہ ہندوستان کی آواز ہے اور آپ اس آواز کے خلاف کھڑے ہیں۔طلبہ اور مظاہرین سے میں نے کہا ہے کہ تمام طلبہ ویڈیو ریکارڈنگ کریں اور ثبوت ہمیں بھیجیں۔ جب یہ پورا معاملہ ختم ہوگا تو ہم ان تمام ثبوتوں کا استعمال کریں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ جسے سزا ملنی چاہیے، اسے سزا ملے۔ چاہے وہ وزیر اعظم نریندر مودی ہوں، گیانیش کمار ہوں، امیت شاہ ہوں یا وہ کانسٹیبل جس نے ہمارے بچوں پر ہاتھ اٹھایا ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK