شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئر مین کی گستاخیوں کی مذمت کیلئے بھنڈی بازار کی مغل مسجد میں علمائے کرام کا اجلاس ، رضوی کے بائیکاٹ کا بھی اعلان
EPAPER
Updated: November 11, 2021, 10:39 AM IST | saeed Ahmed | Mumbai
شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئر مین کی گستاخیوں کی مذمت کیلئے بھنڈی بازار کی مغل مسجد میں علمائے کرام کا اجلاس ، رضوی کے بائیکاٹ کا بھی اعلان
قرآن کریم کی آیات مبارکہ کے بعد اب رسول اکرمؐکی ذات پاک کے تعلق سے اپنی دریدہ دہنی کاثبوت دینے والے وسیم رضوی کی بیہودگی کے خلاف شیعہ علماء اور ائمہ مساجد نےسخت برہمی کااظہار کیا اور انہوںنے اسے لعنت ملامت کرنے کے لئے بدھ ۱۰؍نومبر کومسجد ایرانیان (مغل مسجد، بھنڈی بازار) میں ایک احتجاجی جلسہ کیا۔ اس جلسے میںشہر اورمضافات کے شیعہ علماء اورائمہ نے شرکت کی ۔
سازش کوبھی سمجھنے کی ضرورت
مسجد ایرانیان کے امام مولانا کلب جعفر خان نے وسیم رضوی کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ’’ وہ جو کچھ کررہا ہے وہ بڑی سازش کا حصہ ہے ۔ان حالات میںہمیں سازش کوسمجھتے ہوئے اپنے اتحاد کوقائم رکھنا ہے،ہمت حوصلے اورحکمت سے کام لینا ہے۔‘‘ مولانانے یہ بھی کہا کہ ’’ وسیم رضوی اوراس جیسے لوگ جو فساداورانتشار پھیلا رہے ہیں ،حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان کوسخت سزا دے اورائمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ جمعہ کے خطاب میںاس پرروشنی ڈالیں تاکہ عوام الناس حقیقت سے آگاہ ہوسکیں ۔‘‘ مولانانے وسیم رضوی کے بائیکاٹ کا بھی اعلان کیا۔مولانا سید وقار مہدی رضوی نے کہا کہ ’’ وسیم رضوی نے رسول پاکؐکی شان میں گستاخی کی ہے ، اس سے قبل وہ کلامِ الہٰی کے تعلق سے بکواس کرچکاہے ،چنانچہ اس کانہ تو اسلام سے کوئی تعلق ہے اورنہ ہی شیعیت سے ۔ اس کی انہی حرکتوں کے سبب اس کے بائیکاٹ کا پہلے ہی اعلان کیاجاچکا ہے ۔‘‘ مولانا وقار مہدی نے یہ بھی کہا کہ ’’احتجاجی جلسے کی ضرورت اسی لئے پڑی کہ ا س کی بدتمیزی حد سے بڑھ گئی ہے۔ہمیںحکمت اور دانشمندی سے کام لیتے ہوئے ایسے شرم پسندوں کا جواب دینا ہے ۔‘‘
وسیم رضوی محض دلال ہے
مولانا شوکت عباس نقوی (ممبرا) نے کہا کہ ’’ وسیم نے رسول پاکؐکی شان میں گستاخی کی جس طرح جرأت کی ہے اس سے قوم کوآگاہ کرنا ضروری ہے۔ دراصل وسیم کی کسی طور پر بھی کوئی حیثیت نہیںہے ،وہ توبس دلالی کررہا ہےاوراس کے پیچھے آرایس ایس سے لےکریہودیوں کی پوری لابی ہے اوریہ لابی شیعوں میںبھی ٹکڑے کروانا چاہتی ہے۔‘‘ مولانا نےسخت ناراضگی کااظہارکرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’بھونکنے والے سے زیادہ ضروری ہے کہ ہم بھونکوانے والوں کو ذہن میں رکھیں۔اس کے ساتھ ہی ہمیںیہ بھی ذہن میں رکھنا ہوگا کہ آخر یہ کن طاقتوںکاآلۂ کار ہے اور اسے کن طاقتوں کی پشت پناہی حاصل ہے ۔تبھی اس گہری ساز ش سے صحیح معنو ںمیںآگاہ ہو سکیں گے۔ اس کےعلاوہ ہم سب وسیم کوہرگزکوئی اہمیت نہ دیں۔‘‘
مولانا عزیزحیدر (رحمت آبادقبرستان ) نے کہا کہ ’’ احتجاجی جلسے کااہتمام ہی اسی بناء پر کیاگیا ہے کہ ہم سب اتفاق رائے سے یہ وضاحت کر سکیںکہ وسیم جو بیہودگی اوربکواس کررہا ہے وہ قابل مذمت اورقابل ِلعنت ہے ،اس کی کوئی گنجائش نہیںہے اورنہ ہی کسی طور اسےبرداشت کیاجاسکتا ہے۔‘‘ مولانا وصی احمد(وڈالا) نے کہا کہ ’’ مولانا سید وقار مہدی سےتمام باتوں کی وضاحت کردی ہے ، ظاہر ہے کہ وسیم رضوی نے جو کچھ کیا ہے اورجس طرح وہ اپنی گھٹیا حرکتوں سے ہمارے مابین انتشار پیدا کررہا ہے ،اسے کس طرح گوارا کیاجاسکتاہے۔چنانچہ تمام ہی علماء نے اس کے خلاف برہمی کا اظہار کیا ۔‘‘ یاد رہے کہ وسیم رضوی ۲۰۱۴ء کے بعد سے مسلسل اسلام کے خلاف زہر اگل رہا ہے۔