افغانستان سے فوج کی واپسی مشروط ہوگی: نیٹو کی میٹنگ میں عندیہ

Updated: February 19, 2021, 8:17 AM IST | Agency | Washington

نیٹو ممالک کی ۲؍ روزہ ورچوئل میٹنگ میں افغانستان پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں، البتہ تمام خدشات پر غور

NATO SG - Pic : INN
نیٹو کے سیکریٹری جنرل ۔ تصویر : آئی این این

نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ افغانستان سے اتحادی فوج کی واپسی ’شرائط کی بنیاد پر‘ ہوگی۔ نیٹو لیڈران کے ساتھ ایک ورچوئل میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئےا سٹولٹن برگ نے کہا کہ ’طالبان کو تشدد میں کمی لانے اور القاعدہ جیسے دہشت گرد گروپوں کی حمایت ترک کرنے کی شرائط پوری کرنی ہوں گی۔نیٹو ممالک کے دو روزہ ورچوئل اجلاس میں  ان ملکوں کے وزرائے دفاع افغانستان میں موجود ڈھائی ہزار امریکی اور ۷؍ ہزار اتحادی افواج کی موجودگی سے متعلق معاملات پر گفتگو کی۔طالبان نے گزشتہ دنوں ایک  بیان میں نیٹو کو خبردار کیا تھا کہ افغانستان میں جنگ جاری رکھنا ۲۰؍سال سے جاری اس تنازع میں شامل کسی فریق کے مفاد میں نہیں۔
 مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی وزیردفاع لائیڈ آسٹن کی کوشش ہوگی کہ نیٹو اتحاد کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کو بہتر بنایا جائے، جو سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کےدور میں متاثر ہوئے تھے۔ نیٹو اتحادیو ں سے اندازِ گفتگو میں یہ تبدیلی ایک ایسے وقت میں رونما ہو رہی ہے جب امریکہ اور اس کے نیٹو حلیف ممالک کو ایک طرف تو افغانستان میں فوجوں کی تعداد کے متعلق فیصلہ کرنا ہے اور دوسری طرف روس اور چین سے نمٹنا ہے جو موجودہ عالمی نظام کا اپنے مفادات کی طرف جھکاؤ چاہتے ہیں۔
 بائیڈن انتظامیہ کو افغانستان میں تعینات فوجوں کے معاملے پر اس وقت فوری اہمیت کا مسئلہ درپیش ہے کیونکہ امریکہ کو ملک سے مئی کے مہینے تک فوج کےانخلا کا سامنا ہے۔دفاع کے ایک اعلی اہلکار نے کہا ہے کہ اب تک افغانستان میں افواج کی تعداد کے معاملے پر کوئی بات نہیں ہوئی۔اہلکار کے مطابق اب امریکہ کیلئے موقعہ ہے کہ وہ اپنے نیٹو اتحادیوں سے افغانستاں میں فوجوں کے تعداد کے مسئلے پر مشاورت کرے۔  اہلکار نےنیٹو سیکرٹری جنرل کی بات دہراتے ہوئے کہا کہ نیٹو اور امریکہ افغانستان میں ایک ساتھ گئے تھےاور اب وہ ایک ساتھ اس سلسلے میں ردو بدل کریں گے۔ اگر وقت سازگار ہو ا تو ہم مل کر ہی یہاں سے نکلیں گے۔
 افغانستان کے حوالے سے یہ خدشات بڑھتے جارہے ہیں کہ امریکہ کا طالبان کے ساتھ کیا گیا معاہدہ جاری رہ سکے گا یا نہیں؟امریکہ کے دفاعی عہدیداروں نے بارہا اس بات پر خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں تشدد کی کارروائیاں بڑی سطح پر جاری ہیں، جس سے یہ سوالات جنم لے رہے ہیں کہ آیا طالبان اس معاہدے کے تحت کئے گئے اپنے وعدے پر قائم ہیں۔امریکہ کے کچھ سرکاری عہدیدار اس بارے میں پر امید نظر آتے ہیں۔ دفاع کے ایک اعلی اہلکار نے کہا کہ طالبان کے اپنے وعدے پر قائم رہنے کی تمام تر وجوہات موجود ہیں۔ یاد رہے کہ طالبان نے انتباہ دیا ہے کہ معاہدے کے مطابق اگر مئی میں افواج واپس نہ گئیں تو ان پر حملہ کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK