تباہ حال غزہ کی تعمیرنو پرساڑھے ۴۸؍ کروڑڈالر کی لاگت آئے گی: عالمی بینک

Updated: July 10, 2021, 1:58 PM IST | Agency | New York

عمارتوں اور انفرااسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ ۳۸؍ کروڑ ڈالر،اس کے علاوہ جنگ کے سبب سے ۱۹؍ کروڑ ڈالر کا معاشی نقصان ہوا ہے

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

عالمی بینک نےغزہ میں اسرائیل کی  بمباری سے تباہ شدہ عمارتوں اور شہری ڈھانچے کی تعمیرنو پر ساڑھے  ۴۸؍کروڑ ڈالر لاگت آ نے تخمینہ  ظاہر کیا ہے۔  ذرائع  کے مطابق عالمی  بینک نے گزشتہ روز جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ  غزہ میں عمارتوں اور انفرااسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ ۳۸؍ کروڑ ڈالر ہے۔اس کے علاوہ  جنگ کے سبب سے غزہ میں ۱۹؍ کروڑ ڈالر کا معاشی نقصان ہوا ہے۔عالمی  بینک کے مطابق اس دوران  ۴؍ہزار سے زیادہ مکانات اور عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوگئی ہیں۔
  واضح رہے کہ ا سرائیلی فوج نے مئی میں ۱۱؍ روز تک مسلسل غزہ  کے علاقوں پر تباہ کن بمباری کی تھی۔ ان حملوں میں ۲۶۰؍ سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے تھے۔ان میں ۶۷؍ کم سن بچے  اور اور ۳۹؍خواتین  بھی شامل ہیں۔ عالمی  بینک  کے غزہ اور غربِ اردن میں ڈائریکٹر کانتان شنکرنے کہا ہے کہ غزہ میں فلسطینی عوام  کیلے یہ بدقسمتی تھی کہ وہ اس تنازع اور تباہی کے درمیان پھنس کررہ گئے تھے۔ عیاں رہے کہ غزہ میں  ۲۰؍لاکھ سے زیادہ فلسطینی آباد ہیں۔ اسرائیل نے اس کی زمینی اور بحری نا کہ بندی کررکھی ہے جبکہ مصر فلسطینی علاقے کے ساتھ واقع اپنی رفح بارڈر کراسنگ کو  بیشتر بند ہی رکھتا ہے۔اس کی وجہ سے غزہ کی پٹی کو دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل قرار دیا جاتا ہے۔گزشتہ تین عشروں کے دوران میں غزہ کے مکین اسرائیل کی مسلط کردہ جنگوں اور مظالم  کے نتیجے میں گوناگوں مسائل سے دوچار  ہیں،ا نہیں بنیادی شہری سہولیات دستیاب نہیں۔اسرائیلی بمباری میں  کئی اسکول اور اسپتال تباہ ہو چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK