شی جن پنگ کی طرف سے امریکہ کو سرد جنگ کی وارننگ

Updated: November 12, 2021, 11:18 AM IST | Agency | Mumbai

ایشیا پیسفک اکنامک کو آپریشن کے اجلاس سے قبل ایک پروگرام سے ریکارڈیڈ خطاب کرتے ہوئے چینی صدر نے خطے میں دفاعی سرگرمیاں بڑھانے پر امریکہ کو متنبہ کیا۔ شی جن پنگ کے مطابق ’’ ایشیا پیسفک میں تصادم اور تقسیم نہ تو ہوسکتی ہے اور نہ ہونا چاہئے۔‘‘ کواڈ گروپ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا

Chinese President Xi Jinping addressing the APEC program .Picture:Agency
چینی صدر شی جن پنگ ایپک کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے تصویر: ایجنسی

 امریکی صد ر جو بائیڈن سے ایک ورچوئل ملاقات سے ٹھیک پہلے چین کے صدر شی جن پنگ نے  امریکہ کو ایشیائی خطوں میں سرد جنگ جیسے حالات پیدا ہونے سے متعلق وارننگ دی ہے۔ شی جن پنگ ایشیا پیسفک اکنامک کو آپریشن کے اجلاس کے حاشئے پر ہونے والے ایک پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔   چینی صدر کا کہنا ہے کہ ایشیا پیسفک میں  جغرافیائی سطح پر نظریاتی خطوط کھینچنے یا  چھوٹے چھوٹے دائرے بنانے کی کوشش یقینی طور پر ناکام ہوگی۔ واضح رہے کہ ان کا اشارہ حال ہی میں امریکہ کے ایشیا پیسفک میں جاپان، آسٹریلیا  اور ہندوستان کے ساتھ ’کواڈ‘ نامی اتحا د قائم کرنے کی طرف تھا جو خصوصی طور پر خطے میں چین کی بڑھتی طاقت کا مقابلہ کرنے کیلئے بنایا گیا  ہے۔   اپنے ریکارڈیڈ خطاب میں شی جن پنگ نے کہا کہ ’’ ایشیا پیسفک  میں  تصادم یا تقسیم نہ تو ہو سکتی ہے اور نہ ہونی چاہئے۔‘‘  واضح رہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان یوں تو گزشتہ چند سال میں سیاسی اور کاروباری چپقلش جاری ہے لیکن شمالی بحیرہ چین میں دونوں ممالک دفاعی سطح پر بھی آمنے سامنے ہیں۔   چین نے یہاں سمندری علاقوں میں اپنی فوجی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں جس کی وجہ سے امریکہ ناراض ہے جبکہ اسی خطے میں واقع تائیوان سے امریکہ کی دوستی چین کیلئے تشویش اور ناراضی کا سبب  ہے۔ تائیوان  خود ایک آزاد ملک قرار دیتا ہے جبکہ چین اسے اپنے ملک کا حصہ تصور کرتا ہے۔ ایسی صورت میں تائیوان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات  دونوں ممالک  کے درمیان  زور آزمائی کا سبب بنے ہیں۔   اسی تصادم کو کم کرنے کیلئے جلد ہی بائیڈن اور شی جن پنگ کی ملاقات ہونے والی ہے۔ ایسی صورت میں شی جن پنگ کا یہ بیان ان کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ وہ اس کے ذریعے جو بائیڈن پر دبائو ڈالنا چاہتے ہیں۔  حالانکہ اس پروگرام کے دوران شی جن پنگ نے  ویکسی نیشن، ماحولیات کی تبدیلی اور  دیگر معاملات  پر بھی بات کی لیکن ان کا پورا زور بحیرہ  شمالی چین میں امریکہ کی دلچسپی اور یہاں ا س کی دیگر ممالک کے ساتھ مل کر شروع کی جانے والی سر گرمیوں  پر رہا۔  انہوں نے اپنے خطاب میں ہانگ کانگ کا بھی تذکرہ کیا جہاں کافی دنوں سے احتجاج جاری ہے اور چین اسے طاقت کے ذریعے کچلنے کی کوشش کرتا آیا ہے۔ لاک ڈائون کے سبب ہانگ کا نگ کا احتجاج کمزور پڑ گیا ورنہ اب تک یہ احتجاج چین کیلئے کئی مصیبتیں کھڑی کر چکا ہوتا۔  واضح رہے کہ ۲۱؍ ممالک کی شمولیت والی ایشیا پیسفک اکنامک کو آرڈی نیشن (اپیک)   کا اجلاس  جمعہ کو شروع ہوگا جس میں خصوصی طور پر ماحولیات کی تبدیلی اور ویکسین کے تعلق سے گفتگو ہوگی۔ اس سے قبل بدھ کو چین اور امریکہ نے ماحولیات کے تعلق سے ایک اہم معاہدہ کیا ہے جس میں چین نے کھلے طور پر کہا ہے کہ تمام تر اختلافات کے باوجود  وہ عالمی مسائل پر امریکہ کا ساتھ دینے کیلئے تیار ہے۔  اس پر ہر سمت سے خوشگوار حیرانی کا اظہار کیا گیا۔   ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی مسائل کا معاملہ ہو یا کاروباری اور دفاعی مقابلہ آرائی ، جو بائیڈن اور شی جن پنگ کی ملاقات کے بات کئی معاملات واضح ہو جائیں گے۔ حالانکہ ابھی یہ طے نہیں ہوا ہے کہ یہ دونوں کب ملاقات کریں گے لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ ان دونوں لیڈران کے درمیان آئندہ  پیر کو گفتگو  ہو سکتی ہے۔  یاد رہے کہ اس سے پہلے بائیڈن اور شی جن پنگ کے درمیان ۲؍ بار ٹیلی فون پر بات ہو چکی ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ  دونوں ہی بار جو بائیڈن نے خود ہو کر چینی صدر کو فون کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK