• Wed, 07 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بینک ڈپازٹس میں کمی؛ ایکویٹی، میوچوئل فنڈ کی جانب غیر معمولی جھکاؤ: آر بی آئی

Updated: January 05, 2026, 7:02 PM IST | New Delhi

ریزرو بینک آف انڈیا کی تازہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالی سال ۲۰۲۵ء میں گھریلو بینک ڈپازٹس میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جو گزشتہ دو برسوں کے رجحان کے برعکس ہے۔ گھرانے اب محفوظ بچت کے روایتی ذرائع چھوڑ کر ایکویٹی، میوچوئل فنڈز اور نقد رقم کی طرف تیزی سے منتقل ہو رہے ہیں۔ اس تبدیلی نے نہ صرف بینکاری نظام پر دباؤ بڑھا دیا ہے بلکہ مستقبل کی مالی استحکام اور قرض کی معیشت کیلئے بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

ہندوستان میں گھریلو مالی رویوں میں ایک بنیادی اور دور رس تبدیلی سامنے آ رہی ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی تازہ رپورٹ کے مطابق مالی سال ۲۰۲۵ء میں گھریلو بینک ڈپازٹس میں ۹۷ء۸؍ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد یہ گھٹ کر ۵۴ء۱۲؍ لاکھ کروڑ روپے رہ گئے۔ یہ کمی اس لئے تشویشناک سمجھی جا رہی ہے کہ اس سے قبل دو برسوں تک گھریلو ڈپازٹس میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا تھا۔ معاشی ماہرین کے مطابق یہ محض ایک عددی کمی نہیں بلکہ ہندوستانی متوسط طبقے اور شہری گھرانوں کی مالی سوچ میں ایک واضح تبدیلی کی علامت ہے۔ وہ گھرانے جو ماضی میں بینک فکسڈ ڈپازٹس اور سیونگ اکاؤنٹس کو سب سے محفوظ اور ترجیحی ذریعہ سمجھتے تھے، اب زیادہ منافع کی تلاش میں نسبتاً زیادہ خطرے والے مالی آلات کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:ڈیزرٹ وائپرز کی تاریخی کامیابی، پہلی بار آئی ایل ٹی ۲۰؍ چیمپئن

رپورٹ کے مطابق جہاں ایک طرف بینک ڈپازٹس کم ہوئے، وہیں لائف انشورنس فنڈز میں سرمایہ کاری ۳ء۱۷؍ فیصد گھٹ کر ۳ء۵؍  لاکھ کروڑ روپے رہ گئی، اور چھوٹی بچت اسکیمیں (پی پی ایف اور پنشن فنڈز کے علاوہ) تقریباً ۲۴؍ فیصد کم ہوئیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ گھریلو شعبہ طویل مدتی محفوظ بچت کے بجائے قلیل مدتی لیکویڈیٹی اور تیز منافع کو ترجیح دے رہا ہے۔ اس کے برعکس، ایکویٹی مارکیٹ میں سرمایہ کاری میں ۱۵۳؍ فیصد کا زبردست اضافہ ہوا، جبکہ میوچوئل فنڈ میں ۹۵؍ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ گھریلو سطح پر نقد رقم رکھنے کا رجحان بھی ۶ء۷۷؍ فیصد بڑھا ہے، جسے ماہرین بڑھتی ہوئی مہنگائی، غیر یقینی معاشی ماحول اور زیادہ کھپت سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ مجموعی گھریلو مالی بچت میں بینک ڈپازٹس کا حصہ مالی سال ۲۰۲۱ء میں ۹ء۴۰؍ فیصد سے کم ہو کر ۲۰۲۵ء میں ۲ء۳۵؍ فیصد رہ گیا جبکہ میوچوئل فنڈز کا حصہ اسی عرصے میں ۱ء۲؍ فیصد سے بڑھ کر ۱ء۱۳؍ فیصد تک جا پہنچا۔ یہ تبدیلی ہندوستانی مالی نظام کیلئے ایک اسٹرکچرل شفٹ تصور کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:وینزویلا: کارگزار صدر ڈیلسی روڈریگز کی امریکہ کو تعاون کی دعوت

منٹ کے مطابق اس بدلتے رجحان کا سب سے بڑا اثر بینکوں کے قرض کے ڈھانچے پر پڑ رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انکریمنٹل کریڈٹ ڈپازٹ ریشو ۱۰۲؍ فیصد تک پہنچ گیا ہے جبکہ ایک سال قبل یہ شرح ۷۹؍ فیصد تھی۔ ۱۰۰؍ فیصد سے زیادہ تناسب کا مطلب یہ ہے کہ بینک جتنا نیا قرض دے رہے ہیں، اتنا نیا سرمایہ ان کے پاس جمع نہیں ہو رہا۔ یہ صورتحال بینکوں کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ مارکیٹ سے قرض حاصل کریں، اضافی اسٹیٹیوٹری لیکویڈیٹی ریشو ہولڈنگز فروخت کریں اور اپنے بیلنس شیٹ بفرز استعمال کریں۔ اکنامک ٹائمز نے بینکنگ شعبے کے سینئر ایگزیکٹوز کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو بینکوں کے لیے قرض کی لاگت مزید بڑھ سکتی ہے، جس کا بوجھ بالآخر صارفین پر پڑے گا۔
معاشی تجزیہ کار اس صورتحال کو دو زاویوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ایک طرف یہ رجحان اس بات کی علامت ہے کہ ملکی گھرانے اب زیادہ مالی شعور اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع سے واقف ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف، بینکنگ نظام کیلئے یہ ایک خطرے کی گھنٹی ہے کیونکہ مستحکم ڈپازٹس کسی بھی مضبوط مالی نظام کی بنیاد ہوتے ہیں۔ آر بی آئی اور پالیسی سازوں کیلئے اب بڑا سوال یہ ہے کہ کس طرح بینک ڈپازٹس کو دوبارہ پرکشش بنایا جائے، بغیر اس کے کہ سرمایہ کاری کی آزادی یا مالی منڈیوں کی ترقی کو نقصان پہنچے۔ شرح سود، ٹیکس مراعات اور بچت اسکیموں کی نئی تشکیل جیسے اقدامات آنے والے مہینوں میں بحث کا مرکز رہنے کا امکان ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK