EPAPER
نیپال اور تبت کی سرحد پر گلیشیئر کے اچانک انہدام کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ آفت کے نتیجے میں ہلاکتیں ۶۰۰؍ سے تجاوز کر گئی ہیں، جبکہ ۲؍ ہزار سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں اور مزید سیلاب کا خطرہ بھی برقرار ہے۔
August 29, 2026, 10:07 AM IST
نیپال میں ۲۶؍ اگست کو آنے والے تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، سیلاب اور ملبے کے باعث ہلاکتوں کی تعداد ۴۶۹؍ تک پہنچ گئی جبکہ تقریباً ایک ہزار افراد اب بھی لاپتہ ہیں، ریسکیو ٹیموں نے ایک ہزار ۵۴۵؍ افراد کو بچا لیا ہے اور متاثرہ علاقوں میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔
August 28, 2026, 11:51 AM IST
نیپال اور تبت کی سرحد پر گلیشیئر کے انہدام سے آنے والے تباہ کن سیلاب میں ہلاکتوں کی تعداد کم از کم ۳۵۳؍ ہوگئی ہے، جبکہ نیپال اور تبت میں مجموعی طور پر تقریباً ۱۵۰۰؍ افراد لاپتہ ہیں۔ سیلاب نے گھر، سڑکیں، پل، بجلی کے منصوبے اور سرحدی تنصیبات بہا دیں۔ نیپال میں سیکڑوں غیر ملکی سیاح اور یاتری بھی لاپتہ افراد میں شامل ہیں۔ ہندوستان کے کم از کم ۱۳۳؍ شہریوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔ ابتدائی طور پر زلزلے کو سیلاب کا ممکنہ سبب سمجھا گیا تھا، تاہم امریکی جیولوجیکل سروے نے بعد میں واضح کیا کہ ریکارڈ ہونے والی زلزلہ نما سرگرمی خود گلیشیئر اور چٹانوں کے انہدام سے پیدا ہوئی تھی۔ ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں۔
August 27, 2026, 2:37 PM IST
نیپال میں تباہ کن سیلاب کی ابتدائی وجہ سامنے آگئی ہے۔ ہندوستانی خلائی تحقیقی ادارے (ISRO) کے نیشنل ریموٹ سینسنگ سینٹر (NRSC) کے سیٹیلائٹ تجزیے کے مطابق نیپال-تبت سرحد کے قریب ایک گلیشیئر کا تقریباً دو تہائی حصہ ٹوٹ کر نیچے آ گرا، جس کے بعد برف، چٹان اور ملبے نے دریا کا راستہ عارضی طور پر روک دیا۔ پانی کا اچانک اخراج بڑے سیلابی ریلے اور ملبے کے بہاؤ کا سبب بنا۔
August 27, 2026, 1:30 PM IST
