• Tue, 03 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایپسٹین فائلز: ٹرمپ کی ایپسٹین آئی لینڈ پر جانے کی تردید، کلنٹن جوڑا مجرم سے تعلق پر گواہی دے گا

Updated: February 03, 2026, 7:05 PM IST | Washington

ایپسٹین فائلز میں شامل ایک ویڈیو میں جنسی مجرم نے اپنے کرتوتوں پر ذرا بھی ندامت کا اظہار نہیں کیا اور خود کو ’اعلیٰ درجہ کا‘ مجرم قرار دیتے ہوئے اپنے جرائم کی سنگینی کو کم کرنے کی کوشش کی۔

Photo: X
تصویر: ایکس

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے خود کو جوڑنے والے الزامات کی پرزور تردید کی ہے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ انہوں نے کبھی ایپسٹین کے نجی جزیرے کا دورہ نہیں کیا۔ ٹرمپ نے ہی انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین پر اپنے خلاف من گھڑت دعوے تیار کرنے کا الزام بھی لگایا۔ محکمہ انصاف کی جانب سے ایپسٹین فائلز کی تقریباً ۳۰ لاکھ صفحات پر مشتمل نئی قسط ۳۰ جنوری کو جاری کئے جانے کے بعد اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک طویل پوسٹ میں ٹرمپ نے ایپسٹین کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں ہونے والی گفتگو کو ”فضول باتیں“ قرار دے کر مسترد کر دیا۔ انہوں نے لکھا کہ جاری کردہ تازہ دستاویزات درحقیقت انہیں ملوث کرنے کے بجائے الزامات سے بَری کرتی ہیں۔ 

ٹرمپ نے کہا کہ ”میری جیفری ایپسٹین کے ساتھ کوئی دوستی نہیں تھی۔ دراصل محکمہ انصاف کی جانب سے ابھی جاری کی گئی معلومات کی بنیاد پر، ایپسٹین اور بدقماش، جھوٹے ’مصنف‘ مائیکل وولف نے مجھے اور/یا میری صدارت کو نقصان پہنچانے کے لیے سازش کی ہے۔“ انہوں نے ڈیموکریٹس اور ان کے عطیہ دہندگان پر کہانیاں گھڑنے کا الزام لگایا اور دعویٰ کیا کہ ڈیموکریٹس خود ایپسٹین کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھے ہوئے تھے۔ ٹرمپ نے خاص طور پر صحافی مائیکل وولف پر حملہ کیا اور دعویٰ کیا کہ وولف نے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے جھوٹے الزامات پھیلائے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایپسٹین فائلز: ٹرمپ کا اسرائیل سے سمجھوتہ کرنے کا انکشاف؛ ایپسٹین کو غلاف کعبہ کے ٹکڑے بھیجے گئے

ایپسٹین سے متعلقہ دستاویزات کے حال ہی میں جاری کردہ نئے ذخیرے میں ایپسٹین کی ایک انٹرویو ویڈیو بھی شامل تھی، جس میں بدنامِ زمانہ سرمایہ کار نے اپنے کرتوتوں پر ذرا بھی ندامت کا اظہار نہیں کیا۔ اس نے اپنی دولت پر تنقید کو ”گندا پیسہ“ کہہ کر مسترد کیا اور خود کو ’ٹیئر ون (اعلیٰ درجہ کا)‘ کا مجرم قرار دیتے ہوئے اپنے جرائم کی سنگینی کو کم کرنے کی کوشش کی۔ واضح رہے کہ کچھ فائلوں میں ٹرمپ کا حوالہ دیا گیا ہے، لیکن ان پر ایپسٹین سے متعلق کسی مجرمانہ غلط کام کا باضابطہ الزام نہیں لگایا گیا ہے۔

بل اور ہلیری کلنٹن ایپسٹین کے ساتھ تعلق پر گواہی دینے کیلئے راضی

سابق امریکی صدر بل کلنٹن اور سابق وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن، ایپسٹین کے ساتھ اپنے روابط کے بارے میں امریکی ایوان کی تحقیقات کے سامنے گواہی دینے پر راضی ہو گئے ہیں۔ یہ کانگریس کی اس تحقیقات میں ایک بڑی پیش رفت ہے۔ بل کلنٹن کے ترجمان، اینجل یورینا نے ’ایکس‘ پر تصدیق کی کہ بل اور ہلیری کلنٹن قانون سازوں کے سامنے پیش ہوگے۔ انہوں نے کہا کہ ”سابق صدر اور سابق وزیرِ خارجہ وہاں موجود ہوگے۔ وہ ایسی مثال قائم کرنا چاہتے ہیں جس کا اطلاق ہر ایک پر ہو۔“

یہ فیصلہ ہاؤس اوور سائیٹ کمیٹی کی جانب سے کلنٹن جوڑے کے خلاف ماضی میں سمن کی تعمیل کرنے سے انکار اور اس سلسلے میں توہینِ عدالت کی مجرمانہ کارروائی پر غور کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اب اس عمل کو روک دیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر کلنٹن جوڑے نے ذاتی طور پر گواہی دینے سے انکار کیا تھا۔ انہوں نے دلیل دی تھی کہ ان سمن کا کوئی واضح قانون سازی کا مقصد نہیں ہے۔ اس کے بجائے انہوں نے حلفیہ تحریری بیانات جمع کرائے تھے۔

بل کلنٹن نے اعتراف کیا کہ انہوں نے کلنٹن فاؤنڈیشن سے متعلق انسانی ہمدردی کے کاموں کے لیے ایپسٹین کے نجی طیارے میں سفر کیا لیکن انہوں نے کبھی ایپسٹین کے جزیرے کا دورہ نہیں کیا۔ ہلیری کلنٹن نے بیان دیا کہ ان کا ایپسٹین کے ساتھ کوئی بامعنی رابطہ نہیں رہا اور نہ ہی انہوں نے کبھی اس کے جہاز پر سفر کیا۔

اگرچہ حال ہی میں جاری کردہ اپسٹین فائلز میں بل کلنٹن کا ذکر سیکڑوں بار آیا ہے، لیکن کسی متاثرہ فرد نے ان پر غیر قانونی طرزِ عمل کا الزام نہیں لگایا۔ اس ریلیز میں شامل ایک متنازع تصویر میں کلنٹن ایک نامعلوم شخص جس کا چہرہ چھپا دیا گیا ہے، کے ساتھ ’ہاٹ ٹب‘ میں بغیر قمیض کے نظر آرہے ہیں۔ ڈیموکریٹس نے اس تحقیقات کو سیاسی طور پر محرک قرار دے کر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسے ٹرمپ کے مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایپسٹین کے نئے فائلز میں صومالی لینڈ اور روتھ شائلڈ معاہدے کا انکشاف

دلائی لامہ ۲۰۱۲ء میں ایپسٹین سے ملے تھے، جنسی مجرم کے ای میلز میں ۱۶۹؍ مرتبہ تذکرہ

رپورٹس کے مطابق، بدنام زمانہ مجرم ایپسٹین نے اپنے ای میلز میں دلائی لامہ کا کم از کم ۱۶۹؍ مرتبہ حوالہ دیا ہے، جس کے بعد بدنامِ زمانہ سرمایہ کار کے ساتھ ان کے مبینہ روابط کے تنازع کو دوبارہ چھیڑ دیا ہے۔ اکتوبر ۲۰۱۲ء کی کئی ای میلز بتاتی ہیں کہ تبتی روحانی پیشوا نے ایپسٹین سے ملاقات کی تھی اور ان سے ایک تقریب میں شرکت کی توقع تھی۔ کچھ پیغامات یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ دلائی لامہ کے پیروکاروں نے ایپسٹین کے ساتھ روابط رکھے ہوگے۔

گزشتہ سال صحافی مائیکل وولف نے ’ڈیلی بیسٹ‘ کے پوڈ کاسٹ پر دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ایپسٹین کے مین ہٹن ٹاؤن ہاؤس میں اشرافیہ کی ایک محفل کے دوران دلائی لامہ کو دیکھا تھا۔ وولف نے اشارہ دیا کہ یہ دورہ ممکنہ طور پر مالیاتی مفاد کے لیے تھا، کیونکہ بہت سی بااثر شخصیات فلاحی کاموں کے لیے ایپسٹین سے عطیات کی خواہاں تھیں۔

آزاد صحافی جیکب سلورمین نے بعد میں ان دعوؤں کا تجزیہ کیا اور نوٹ کیا کہ دلائی لامہ کے دفتر نے کبھی ان سوالات کا جواب نہیں دیا کہ آیا انہیں ایپسٹین سے فنڈنگ ملی تھی۔ سلورمین نے یہ بھی اجاگر کیا کہ دلائی لامہ اس سے قبل ’NXIVM‘ سے منسلک ایک تقریب میں نظر آئے تھے۔ NXIVM ایک بدنامِ زمانہ فرقہ ہے جو جنسی جرائم میں ملوث پایا گیا تھا۔ اس کے سربراہ کیتھ رینیر کو بعد میں جرم ثابت ہونے پر ۱۲۰ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ دلائی لامہ کو اس تقریب میں خطاب کرنے کے لیے ۱۰ لاکھ ڈالر ملے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: ایپسٹین فائلز: محکمہ انصاف نے ۳۰؍ لاکھ صفحات جاری کئے، ٹرمپ، مسک، گیٹس سمیت کئی طاقتور افراد شامل

یو این ایچ سی آر کیلئے سویڈن کی چیئر پرسن جوانا روبین اسٹائن عہدے سے مستعفی

حال ہی میں ریلیز کی گئی ایپسٹین فائلز میں اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کی سویڈش شاخ کی چیئر پرسن، جوانا روبین اسٹائن کا نام بھی شامل ہے جنہوں نے اس انکشاف کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ دستاویزات سے پتہ چلا ہے کہ انہوں نے ۲۰۱۲ء میں جیفری اپسٹین کے نجی جزیرے کا دورہ کیا تھا۔ یو این ایچ سی آر سویڈن کے پریس آفیسر، ڈینیئل ایکسیلسن نے ان کے استعفیٰ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ”جوانا نے ہفتے کے آخر میں میڈیا میں آنے والی خبروں کے بعد اپنی ذمہ داری چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ تنظیم یا بورڈ ان کے اس دورے سے ناواقف تھا۔“

روبین اسٹائن نے اعتراف کیا کہ انہوں نے اپنے خاندان کے ساتھ ایپسٹین کے جزیرے کا دورہ کیا اور بعد میں اس قیام کے لیے ایپسٹین کو شکریہ کی ای میل بھیجی۔ اس دورے کے وقت، اپسٹین کو پہلے ہی جنسی جرائم میں سزا ہو چکی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ سزا سے واقف تھیں لیکن اس وقت ان کے مظالم کی مکمل تفصیلات سے بے خبر تھیں۔ انہوں نے سویڈش میڈیا کو بتایا کہ ”بعد میں جنسی زیادتیوں کی جو تفصیلات سامنے آئی ہے وہ ہولناک ہے اور میں خود کو اس سے سختی سے الگ کرتی ہوں۔“

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK