Inquilab Logo

ایشیاکپ کے بعد ٹیم انڈیا مشن ورلڈ کپ کیلئے تیار

Updated: September 19, 2023, 11:01 AM IST | New Delhi

اس ٹورنامنٹ میں ٹیم مینجمنٹ کو ان سوالوں کے جواب ملے جو ٹیم کو کافی عرصے سے پریشان کر رہے تھے،ٹاپ آرڈر فارم میں ہے اور تمام تیز گیند باز بھی لَے میں آچکے ہیں

Overall, Team India has been in form and fans hope that this form will continue in the World Cup as well.
مجموعی طورپر ٹیم انڈیا فارم میں آچکی ہےاورمداحوں کو امید ہےکہ یہ فارم عالمی کپ میں بھی برقرار رہے گا

 ایشیا کپ میں فتح کے بعد ٹیم انڈیا مشن  ورلڈ کپ کیلئے تیار ہے۔ٹیم انڈیا  نے ایشیا کپ جیت کر کرکٹ کے سب سے بڑے ٹورنامنٹ کیلئےاپنے ارادے واضح کر دئیے ہیں۔اس ٹورنامنٹ میں ٹیم مینجمنٹ کو ان سوالوں کے جواب ملے جو ٹیم کو کافی عرصے سے پریشان کر رہے تھے۔ٹاپ آرڈر فارم میں ہے،  نمبر۴؍ اور مڈل آرڈر پوزیشن پر کے ایل راہل، ایشان کشن کے ساتھ شریاس ائیر بھی تیار ہیں۔ گیندباز پاور پلے کے ساتھ درمیانی اووَروں میں بھی وکٹیں لے رہے ہیں۔ ٹیم نے ناک آؤٹ مرحلے میں د باؤکا شکار ہونے کا سلسلہ بھی توڑ دیا ہے۔ یہاں وہ عوامل پیش کئے جارہے ہیں جو  ہندوستان کوعالمی چمپئن بننے کا سب سے مضبوط دعویدار بنا تے ہیں۔
 تمام تیز گیند باز آہنگ  میں ہیں
 ایشیا کپ سے پہلے بڑا سوال یہ تھا کہ جسپریت بمراہ  چوٹ کے بعد خود کو ثابت کر پائیں گے یا نہیں۔ محمد سراج کہیں اکیلے تو نہیں پڑ جائیں گے اور کیا محمدسمیع کی جگہ شاردل ٹھاکر کو  آخری ۱۱؍ کھلاڑیوں میں موقع دینا درست ہوگا؟بمراہ نے چوٹ کے بعد شاندار واپسی کی اور پاکستان کے خلاف سپر۴؍ مرحلے میں یکروزہ میچ میں پہلی بار گیند بازی کی۔ ٹیم کو شاندار آغاز فراہم کرتے ہوئے انہوں نے ایک وکٹ بھی حاصل کیا۔اس کے بعد انہوں نے سری لنکا کے خلاف سپر۴؍اور فائنل دونوں میچوں میں ہندوستان کے لیے پہلا وکٹ حاصل کیا۔سراج نے بمراہ کا بہت اچھا ساتھ دیا۔ ان کے ۶؍ وکٹوں نے فائنل میں سری لنکا کا صفایا کر دیا۔ انہوں نے مخالف ٹیم کے بلے بازوں پر دباؤ ڈالا اور انہیں رنز بنانے سے روکا۔ سراج نے ٹورنامنٹ میں ہندوستان کیلئے سب سے زیا دہ ۱۰؍ وکٹیں حاصل کیں۔ٹیم نے شاردل ٹھاکر کو تیسرے تیز گیند باز کے طور پر استعمال کیا۔ انہوں نے پاکستان اور نیپال کے خلاف ایک ایک وکٹ حاصل کیا۔ بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں۳؍ اہم وکٹیں لیں، انہوں نے ہر بار مشکل حالات میں وکٹیں لیں۔
درمیانی اوورز میں گیند باز  وکٹ لے رہے ہیں
 ٹیم انڈیا پہلے۱۰؍ اوور میں وکٹ لے کر دباؤ بنا رہی تھی، لیکن درمیانی اووروں میں گیند باز بہت زیادہ رن دے رہے تھے۔ ایشیا کپ میں یہ مسئلہ بھی کلدیپ یادو اور رویندر جڈیجہ کے ساتھ ہاردک پانڈیا کی بولنگ سے حل ہو گیا۔کلدیپ نے ایشیا کپ کے۴؍ میچوں میں گیند بازی کی۔ وہ نیپال کے خلاف کوئی وکٹ حاصل نہیں کر سکے تھے اور فائنل میں صرف ایک اوور کر سکے۔انہوں نے پاکستان اور سری لنکا کے خلاف بقیہ۲؍ میچوں میں۵؍ اور۴؍ وکٹیں حاصل کیں۔ وہ ایک بار پھر درمیانی اوورز میں ٹیم کے ٹرمپ کارڈ بن کر ابھرے۔جڈیجہ نے زیادہ تر اسپن پچوں کا فائدہ اٹھایا۔ نیپال کے خلاف انہوں نے۴۰؍ رن دے کر۳؍ وکٹیں حاصل کیں۔ سری لنکا کے خلاف سپر۴؍ کے اہم میچ میں انہوں نے۱۰؍ اوورز میں صرف۳۳؍ رن دیے اور۲؍ بڑی وکٹیں بھی لیں۔ہاردک نے فائنل میں صرف۳؍ رن دے کر۳؍ وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے سپر۴؍ مرحلے میں پاکستان اور سری لنکا کے خلاف بھی سخت گیند بازی کی۔ ہاردک نے بہت کفایتی پر گیند بازی کی جس کی وجہ سے مخالف ٹیم پر دباؤ بڑھتا چلا گیا۔
ٹاپ آرڈر بلے باز فارم میں آگئے ہیں
 شبھمن گل ویسٹ انڈیز کے دورے پر بری طرح فلاپ ہو گئے تھے۔ ایسے میں ان کی جگہ ایشان کشن کو ٹیم میں شامل کرنےکی  قیاس آرائیاں ہونے لگی تھیں۔ وراٹ کوہلی کافی عرصے سے ون ڈے نہیں کھیلے تھے جبکہ روہت شرما بھی آؤٹ آف فارم نظر آئے۔شبھمن نے ناقدین کو منہ توڑ جواب دیا اور پاکستان اور نیپال کے خلاف۲؍ نصف سنچریاں بنائیں۔ روہت شرما کے ساتھ دوسری سنچری کی شراکت بنانے کے بعدانہوں نے بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے سنچری بنائی۔حالانکہ شبھمن ٹیم  جیت دلانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔
روہت اور وراٹ کوہلی کا بہترین فارم
  روہت نے نیپال کے خلاف۷۴؍ اور پاکستان کے خلاف ۵۸؍ رن بنائے۔ سری لنکا کے خلاف سپر۴؍ مرحلے کے میچ میں انہوں نے مشکل پچ پر لگاتار تیسری نصف سنچری بنائی اور۵۳؍ رن بنا کر ٹیم کو اچھا آغاز فراہم کیا۔ روہت نے بھی کپتانی میں پہلے سے زیادہ پرسکون اور حکمت عملی کا مظاہرہ کرنا شروع کر دیا ہے۔وراٹ نے پاکستان کے خلاف ۱۲۲؍ رن بنا کر ایک بار پھر سب کو اپنے بہترین فارمیٹ کی یاد دلا دی۔ کوہلی نے بنگلہ دیش کے خلاف نہیں کھیلا جبکہ انہیں فائنل میں اور نیپال کے خلاف بلے بازی کا موقع نہیں ملا۔ٹیم انڈیا طویل عرصے سے آل راؤنڈر رکھنے پر زور دے رہی ہے۔ اس وجہ سے ہاردک اور  جڈیجہ دونوں آخری ۱۱؍کھلاڑیوں کا حصہ ہیں اور ٹیم اس گیند باز کو ترجیح دیتی ہے جو نمبر۸؍ پر  بلے بازی بھی کر سکے۔ ایشیا کپ میں اس سوال کا جواب شاردل کے ساتھ اکشر پٹیل سے بھی مل گیا۔

asia cup Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK