• Wed, 14 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آذربائیجان: اسکولوں میں حجاب پر پابندی کیخلاف مظاہرے، ۳۷؍ افراد گرفتار

Updated: October 14, 2026, 11:51 AM IST | Agency | Baku

طالبات کے ساتھ اساتذہ کو بھی دوپٹہ اتارنے کی ہدایت۔ حکومت پرمذہبی رجحانات رکھنے والے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا الزام۔

Female students are protesting against the ban on the hijab. Photo: INN
حجاب پر پابندی کے خلاف طالبات احتجاج کررہی ہیں۔ تصویر: آئی این این

آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پہننے پر پابندی نافذ  ہونے کے بعد یونیفارم قواعد کے خلاف احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے۔خبروں کے مطابق اسکولوں میں حجاب پہننے پر پابندی کے باعث طالبات کو کلاسوں میں داخلے سے روکنے، خاتون اساتذہ سے دوپٹہ اتارنے کے مطالبات اور احتجاجی مظاہرے کئے گئے ہیں۔آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں اسکولوں کے نئے یونیفارم قواعد کے خلاف احتجاج کے دوران حکام نے ۳۷؍افراد کو گرفتار کرلیا۔  باکو کے ضلع قرہ داغ میں مظاہرین نے ایک اسکول کے ڈائریکٹر کی گاڑی کو آگ لگا دی  جبکہ ضلع یاسامال میں ایک اسکول کو آگ لگانے کی کوشش کی گئی۔ دونوں واقعات میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔

انسٹاگرام اور ٹک ٹاک استعمال کرنے والوں نے شکایت کی کہ ویڈیوز لوڈ نہیں ہو رہیں اور فیڈز اپ ڈیٹ نہیں ہو رہی ہیں۔ بعض صارفین کا کہنا تھا کہ وہ ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) کے ذریعے ہی ان پلیٹ فارمز تک رسائی حاصل کر پا رہے ہیں۔کچھ صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ سوشل میڈیا تک رسائی میں پیدا ہونے والی یہ رکاوٹیں اسکولوں میں احتجاج کی ویڈیوز کی گردش کے تناظر میں ہو سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: روپے میں اتار چڑھاؤ کم کرنے کے لیے آر بی آئی مسلسل اقدامات کرتا رہے گا

حکام کا کہنا ہے کہ انتہا پسندی کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششوں کے تحت مذہبی علامات ظاہر کرنے والے لباس پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور شدت پسندوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ تاہم  ناقدین کا الزام ہے کہ حکومت مذہبی رجحانات رکھنے والے مسلمانوں کو نشانہ بناتی ہے۔

واضح رہے کہ آذربائیجان کی حکومت نے۲۱؍ ستمبر کو اسکول یونیفارم سے متعلق نئے قواعد کی منظوری دی تھیجس کے تحت طلبہ کو ایسے لباس میں کلاسوں میں شرکت سے روک دیا گیا ہے جو تعلیم کی سیکولر نوعیت سے متصادم ہو یا اسکولوں کے لباس سے متعلق ضابطے کی یکسانیت کو متاثر کرے۔۶؍اکتوبر سے یہی تقاضے اساتذہ کے لباس پر بھی لاگو کر دیئے گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK