• Sun, 25 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بالی ووڈ: اب ’لڑکی ہونا‘ کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہے

Updated: January 25, 2026, 12:32 PM IST | Mumbai

ہندی سنیما میں ایک وقت تھا جب ’لڑکی ہونا‘ حدود اور سمجھوتوں سے جوڑ کر دیکھا جاتا تھا، لیکن حالیہ برسوں میں کچھ ایسی اداکارائیں سامنے آئیں جنہوں نے اپنے کرداروں، سوچ اور بے باکی سے اس تصور کو بدل دیا۔

Deepika Padukone, Anushka Sharma and Priyanka Chopra. Photo: INN
دپیکا پڈوکون، انوشکا شرما اور پرینکا چوپڑہ۔ تصویر: آئی این این

ہندی سنیما میں ایک وقت تھا جب ’لڑکی ہونا‘ حدود اور سمجھوتوں سے جوڑ کر دیکھا جاتا تھا، لیکن حالیہ برسوں میں کچھ ایسی اداکارائیں سامنے آئیں جنہوں نے اپنے کرداروں، سوچ اور بے باکی سے اس تصور کو بدل دیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ حساسیت کمزوری نہیں بلکہ خود اعتمادی، فیصلہ سازی اور حوصلے کی ایک اور شکل ہے۔ 
ودیا بالن کا شمار انہیں اداکاراؤں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو توڑنے میں نمایاں کامیابی حاصل کی کہ ہیروئن بننے کیلئے کسی مخصوص سانچے میں ڈھلنا ضروری ہے۔ کہانی، دی ڈرٹی پکچر اورشیرنی جیسی فلموں میں انہوں نے خودمختار، مضبوط اور باشعور عورت کو بغیر کسی سمجھوتے کے مرکزی حیثیت دی۔ 
ان سے قبل کاجول نے ۹۰ء کی دہائی میں بااختیار خواتین کرداروں کو مرکزی دھارے میں جگہ دلائی۔ دشمن اورفنا جیسی فلموں میں ان کی جذباتی طاقت اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت نے یہ دکھایا کہ ماں، محبوبہ یا بیوی...ہر روپ میں عورت مضبوط ہو سکتی ہے۔ اسی طرح رانی مکھرجی نے بلیک، مردانی اورہچکی جیسی فلموں میں نسوانی طاقت کو نئی تعریف دی۔ ان کے کردار قیادت، ہمدردی اور عزم کی علامت بنے، جہاں ’لڑکی ہونا‘ خود ایک طاقت کے طور پر ابھرا۔ 

یہ بھی پڑھئے: کویتا کرشنا مورتی نے فلمی ہی نہیں ہر طرح کے گیت گائے

’کوئین‘ سے لے کر’تنو ویڈز منو‘ تک، کنگنا راناوت نے بھی اسکرین پر ایسی خواتین کو جینے کی کوشش کی جو اپنی زندگی کی سمت خود طے کرتی ہیں۔ ان کی بے باکی نے’لڑکی ہونا‘ کو نڈر پن اور خودانحصاری کی شناخت دی۔ اسی طرح فلم ’دھڑک‘ سے’گنجن سکسینہ: دی کارگل گرل‘ اور’ملی‘ تک جھانوی کپور نے بھی ایسے کردار منتخب کئے جو جذباتی طور پر مضبوط ہیں، خوف سے لڑتے ہیں اور حالات کے آگے جھکتے نہیں۔ ’گنجن سکسینہ‘ میں انہوں نے دکھایا کہ ایک لڑکی کا خواب آسمان چھو سکتا ہے، جبکہ ’ملی‘ میں بقا اور ذہنی مضبوطی کو سادگی سے پیش کیا۔ انہیں فنکاروں کے درمیان ایک نام عالیہ بھٹ کا بھی ہے۔ انہوں نےکم عمری ہی میں ثابت کر دیا کہ جذباتی گہرائی بھی بڑی طاقت ہوتی ہے۔ ’ہائی وے، رازی اورگنگوبائی کاٹھیا واڑی‘ میں ان کے کردار حساس ہونے کے ساتھ نہایت مضبوط بھی نظر آتے ہیں۔ 
دپیکا پڈوکون نے ’چھپاک‘ اور’پدماوت‘ جیسی فلموں کے ذریعے حوصلے، وقار اور خودداری کی مثال قائم کی۔ ذہنی صحت پر کھل کر بات کر کے وہ حقیقی زندگی میں بھی لاکھوں لڑکیوں کیلئے بااختیار آواز بنیں۔ پرینکا چوپڑا نے ہندوستانی سنیما کی سرحدوں سے باہر نکل کر عالمی سطح پر اپنی مضبوط شناخت قائم کی۔ ساتھ ہی’میری کوم‘ جیسی فلم کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ ایک لڑکی کو خواب دیکھنے اور انہیں پورا کرنے کا پورا حق ہے...اور وہ چاہے تو کچھ بھی کر سکتی ہے۔ ’پنک‘ اور’تھپڑ‘جیسی فلموں میں تاپسی پنّو نے اس عورت کو آواز دی جو خاموش نہیں رہتی، سوال اٹھاتی ہے اور اپنے وقار کیلئے ڈٹ کر کھڑی ہوتی ہے۔ 
ان تمام اداکاراؤں نے اپنے اپنے دور میں یہ ثابت کیا کہ عورت کو اس کا صحیح مقام دلانے کا حق صرف اسی کا ہے۔ آج ہندی سنیما میں عورت محض کہانی کا حصہ نہیں بلکہ کہانی کی سمت طے کرنے والی طاقت ہے، کیونکہ اب’لڑکی ہونا‘کمزوری نہیں بلکہ طاقت کہلاتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK