• Mon, 19 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کنیڈا: فوجی اڈے میں بھیانک آتشزدگی، ۷؍افراد ہلاک اورمتعدد زخمی

Updated: October 19, 2026, 1:49 PM IST | Agency | Ottawa

تیز ہواؤں کے باعث آگ کنیڈین فورسیز بیس وین رائٹ سے نکل کر اردگرد کے دیہی علاقوں تک پھیل گئی۔

A person injured in a fire is being taken to the hospital. Photo: INN
آتشزدگی میں زخمی ہونے والے شخص کو اسپتال لے جایا جارہا ہے۔ تصویر: آئی این این

کنیڈا کے صوبہ البرٹا میں واقع وین رائٹ فوجی اڈے پرگزشتہ روز بھیانک آگ لگ گئی اور تیز ہواؤں کے باعث  وہ  پھیل گئی جس سے حالات مزید سنگین ہو گئے۔ حکام نے نے بتایا کہ اس واقعے میں کچھ فوجی   ہلاک اور متعدد افراد   زخمی ہوگئے۔  ذرائع کے مطابق ۷؍ افراد کی موت ہوئی ہے۔ تاہم اب تک ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی صحیح تعداد واضح نہیں ہے۔ وزیر دفاع ڈیوڈ میک گنٹی نے حالات کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں ایسی بھیانک آگ کبھی نہیں دیکھی۔ وہ اس واقعے سے حیران نظر آئے لیکن انہوں نے اب تک کوئی اعداد و شمار جاری نہیں کئے ہیں۔ تیز ہواؤں کے باعث آگ کنیڈین فورسیز بیس (سی ایف بی) وین رائٹ سے نکل کر اردگرد کے دیہی علاقوں تک پھیل گئی۔ فائر بریگیڈ کی ٹیمیں رات گئے تک آگ بجھانے میں مصروف رہیں جبکہ بڑی تعداد میں زخمیوں کو اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

فوجی اڈے سے تقریباً ۱۸۰؍ کلومیٹر شمال مغرب میں واقع شہر ایڈمنٹن کے رائل الیگزینڈرا اسپتال کے ایمرجنسی ڈاکٹر وارن تھرسک نے کنیڈین نشریاتی ادارے سی بی سی کو بتایا کہ فوجی اڈے کے آس پاس طبی مراکز زخمیوں کی بڑی تعداد کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں جس کے بعد مریضوں کو ایڈمنٹن کے مختلف اسپتالوں میں لایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق مریضوں کی اتنی بڑی تعداد ایڈمنٹن کے طبی نظام کی گنجائش سے بھی بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے اسے ایک بڑا سانحہ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھئے:دہلی’لہرا دو ترنگا‘ مارچ: پرکاش راج نے جمہوری حقوق اور پُرامن احتجاج کی حمایت کی

وزیر دفاع نے بتایا کہ رائل کنیڈین ماؤنٹڈ پولیس واقعے کی تحقیقات میں شامل ہے۔ انہوں نے صورتحال کو انتہائی  نازک قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکام ابھی یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ واقعہ کیسے پیش آیا۔ پولیس کے مطابق سنیچر کی سہ پہر ۴؍ بجے کے کچھ دیر بعد فوجی اڈے کے ایک تربیتی علاقے میں آگ لگنے کی اطلاع ملی تھی۔

یہ بات اہم ہے کہ البرٹا کے بڑے حصوں میں اسی روز آندھی کے دوران ہواؤں کی رفتار ایک سو کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی تھی۔ تیز ہواؤں نے بعض درخت گرا دیئے، سائن بورڈ اڑا دیئے اور کوڑے دان سڑکوں پر لڑھکنے لگے  جس سے آگ بجھانے کا کام مزید مشکل ہو گیا۔

رات ۱۱؍ بجے وین رائٹ کی ضلعی انتظامیہ نے بتایا کہ آگ کو مزید پھیلنے سے روک لیا گیا ہے، املاک اور اہم بنیادی تنصیبات محفوظ ہیں۔ قریب واقع تقریباً ۷؍ ہزار آبادی والے قصبے وین رائٹ کےمکینوں کیلئے انخلاء کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔

ساسکیچیوان کے وزیر اعلیٰ اسکاٹ مو نے البرٹا کو امداد بھیجنے کا اعلان کیا۔ وزیر اعظم مارک کارنی نے متاثرین سے یکجہتی ظاہر کی  جبکہ البرٹا کی وزیر اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے آگ کو شدید اور المناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بڑی تعداد میں فوجی اہلکار اس سے متاثر ہوئے ہیں۔

وین رائٹ کنیڈا کے مصروف ترین فوجی تربیتی اڈوں میں شامل ہے  جہاں فوجیوں کو جنگی کارروائیوں کیلئے تیار کیا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK