کمیٹی کو ۱۰؍ ماہ کے اندراپنی رپورٹ پیش کرنی ہوگی۔
EPAPER
Updated: October 13, 2026, 11:50 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai
کمیٹی کو ۱۰؍ ماہ کے اندراپنی رپورٹ پیش کرنی ہوگی۔
ایس آر اے کے تحت شروع کئے جانے والے پروجیکٹوں سے متعلق بڑی تعداد میں معاملات عدالت پہنچنے کی وجہ سے سپریم کورٹ کے حکم پر ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو ایس آر اے ایکٹ میں بہتری لانے کیلئے تجاویز پیش کرے گی۔ ریاستی ہاؤسنگ محکمہ نے جو کمیٹی تشکیل دی ہے اسے مہاراشٹر سلم ایریاس امپرومینٹس، کلیئرنس اینڈ ری ڈیولپمنٹ ایکٹ ۱۹۷۱ء میں بہتری لانے کیلئے اس ایکٹ میں مناسب ترامیم کی تجاویز پیش کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ممبئی کا ایس آر اے (سلم ری ہیبیلیٹیشن اتھارٹی) اسی ایکٹ کے تحت کام کرتا ہے۔ متذکرہ کمیٹی کے سربراہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ہاؤسنگ) اسیم گپتا ہیں اور دیگر ممبران میں ایس آر اے کے سی ای او مہندرا کلیانکر، ایم ایل اے پراگ الوانی، سابق ممبر پارلیمنٹ راہل شیوالے، بی ایم سی کے ڈیولپمنٹ پلان کے چیف انجینئر سنیل راٹھوڑ اور اربن پلاننگ کے ڈائیریکٹر جتیندر بھوپالے شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مظاہرین پر جارحانہ کارروائی کے اگلے دن شیواجی پارک میں پر امن احتجاج
افسران کے مطابق سپریم کورٹ نے اس بات کا نوٹس لیا تھا کہ بہت بڑی تعداد میں ایس آر اے پروجیکٹوں سے متعلق معاملات عدالت پہنچتے ہیں۔ اس مشاہدے کے ساتھ سپریم کورٹ نے متذکرہ ایکٹ میں سدھار لانے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا تھا۔ اس حکم کی بنیاد پر ہائی کورٹ نے ڈیویلپروں، لینڈ لارڈ، کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور وکلاء کی رائے جاننے کے بعد متذکرہ کمیٹی تشکیل دی۔ایک جی آر (گورنمنٹ ریزولوشن) کے مطابق اس کمیٹی کو جھوپڑوں سے پاک ممبئی کے ہدف کے ساتھ مشورے دینا ہے تاکہ جھوپڑ پٹیوں کی باز آبادکاری تیزی سے ہوسکے۔ کمیٹی کو تمام مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ۱۰؍مہینوں میں اپنی رپورٹ پیش کرنی ہے۔ چونکہ کمیٹی کو جامع پالیسی کی تجاویز پیش کرنی ہے اور متعینہ وقت میں رپورٹ دینی ہے اس لئے ایس آر اے کے سی ای او کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایس آر اے کے انجینیرنگ، تعاون، معاشی، جھوپڑا واسیوں کی تصدیق، زمین کے حصول اور ٹاؤن پلاننگ محکموںکے افسران کی ضمنی کمیٹی تشکیل دیں جو اس کام میں ماہرین کی کمیٹی کی مدد کریں گے۔ ایس آر اے کے سی ای او کلیانکر کے مطابق ایس آر اے کا ہدف ہے کہ ۲۰۳۰ء تک جھوپڑوں کی بازآبادکاری کے تحت ۵؍لاکھ مکانات فراہم کرے گا جبکہ دسمبر ۲۰۲۶ء تک ۹۰؍ہزار سے زائد مکانات فراہم کرنے ہیں۔