• Thu, 15 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گکیبیرہا ٹیسٹ: اسٹبس باہر، ریکلٹن وکٹ کیپنگ کریں گے

Updated: October 15, 2026, 7:04 PM IST | Johansburg

جنوبی افریقہ نے آسٹریلیا کے خلاف گکیبیرھا میں ہونے والے دوسرے ٹیسٹ کے لیے ٹرسٹان اسٹبس کو ٹیم سے باہر کر دیا ہے۔ ان کی جگہ میتھیو بریٹزکے کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔

South Africa`s  Player.Photo:X
جنوبی افریقہ کے کھلاڑی۔ تصویر:ایکس

جنوبی افریقہ نے آسٹریلیا کے خلاف گکیبیرھا میں ہونے والے دوسرے ٹیسٹ کے لیے ٹرسٹان اسٹبس کو ٹیم سے باہر کر دیا ہے۔ ان کی جگہ میتھیو بریٹزکے کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ بریٹزکے نے جنوبی افریقہ کے لیے اب تک دو ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں - اکتوبر ۲۰۲۴ء میں بنگلہ دیش کے خلاف اور جولائی ۲۰۲۵ء میں زمبابوے کے خلاف۔ ان میچوں میں انہوں نے کل  ۱۴؍رنز بنائے ہیں، جبکہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں ان کا اوسط  ۰۳ء۳۷؍ ہے۔ انہوں نے اپنا آخری فرسٹ کلاس میچ فروری میں کھیلا تھا۔ اس سیزن کے گھریلو میچوں میں وہ نہیں کھیل پائے، کیونکہ وہ نامیبیا اور پھر آسٹریلیا کے خلاف جنوبی افریقہ کی لمیٹڈ اوورز (ون ڈے اور ٹی ۲۰) ٹیموں کا حصہ تھے۔ ڈربن میں کھیلے گئے پہلے ون ڈے میچ میں انہوں نے سنچری لگائی تھی، اور جنوبی افریقہ کے مینجمنٹ کو امید ہے کہ ان کی یہ شاندار فارم ٹیسٹ کرکٹ میں بھی دیکھنے کو ملے گی۔

یہ بھی پڑھئے:پابندی کی دھمکی کے باوجود عزیز الشاعر کا ایک اور فلسطینی بچی کو خراجِ عقیدتس


جنوبی افریقہ کے ہیڈ کوچ شکری کونراڈ نے کہا’’میٹ پہلے بھی ٹیم کا حصہ رہے ہیں۔ ون ڈے کرکٹ میں ان کی فارم بہت شاندار ہے، جس سے انہیں ٹیم میں جگہ بنانے میں مدد ملی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ میٹ کا رویہ اور ان کی شخصیت بہت عمدہ ہے۔‘‘ بریٹزکے کے آنے سے بیٹنگ لائن اپ میں تبدیلی ہونا طے ہے۔ کونراڈ نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ ریان ریکلٹن وکٹ کیپنگ کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کائل ویرینے، جنہوں نے اپنی پچھلی ۱۳؍ ٹیسٹ اننگز میں ایک بھی نصف سنچری نہیں لگائی ہے، ان کے ابتدائی ۱۱؍ کھلاڑیوں (پلینگ الیون) میں شامل ہونے کا امکان کم ہے، حالانکہ وہ ابھی بھی ٹیم کے ساتھ بنے رہیں گے۔ جنوبی افریقہ کو ابھی یہ طے کرنا ہے کہ کیا ریکلٹن بیٹنگ آرڈر میں نیچے آئیں گے (جس صورتحال میں انہیں ایڈین مارکرم کے ساتھ اوپننگ کرنے کے لیے کسی اور کھلاڑی کو تلاش کرنا ہوگا)، یا پھر وہ وکٹ کیپنگ کے ساتھ ساتھ اوپننگ بھی جاری رکھیں گے۔کونراڈ نے کہا چونکہ رکس وکٹ کیپنگ کی ذمہ داری سنبھال رہے ہیں، اس لیے یہ طے کرنا ہوگا کہ کیا وہ بیٹنگ آرڈر میں نیچے آئیں گے یا پھر پہلے کی طرح اوپننگ کرنا جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آخری ۱۱؍ کھلاڑیوں کو منتخب کرنے سے پہلے ہمیں کچھ باتوں پر غور کرنا ہوگا، لیکن ہم اسے لے کر بہت پرجوش ہیں۔ ہمارے پاس اپنی پچھلی کمیوں کو سدھارنے اور ٹیم کو صحیح سمت میں لے جانے کا موقع ہے۔
۱۷؍ کھلاڑیوں والی اس ٹیم میں وہی کھلاڑی شامل ہیں جو ڈربن ٹیسٹ میں کھیلے تھے۔ کاگیسو ربادا، جو ہیمسٹرنگ کی ہلکی چوٹ کی وجہ سے پچھلا ٹیسٹ نہیں کھیل پائے تھے، اب فٹ ہو گئے ہیں اور ان کے کھیلنے کی امید ہے۔ ربادا ٹیم میں شامل سات تیز گیند بازوں میں سے ایک ہیں۔ ان تمام گیند بازوں کے ورک لوڈ (گیندبازی کے بوجھ) پر نظر رکھی جائے گی۔ جنوبی افریقہ کے پاس اینرک نورٹجے، مارکوجانسن، ویان مولڈر، جیرالڈ کوئٹزی، ڈین پیٹرسن اور کوربن بوش میں سے منتخب کرنے کا متبادل ہے۔

یہ بھی پڑھئے:’’کافی وِد کرن‘‘ سیزن ۹: سلمان خان اور کرشمہ کپور نے ۹۰ءکی دہائی کی یاد تازہ کردی

کونراڈ نے اشارہ دیا کہ آخری انتخاب میں موسم کا کردار ہو سکتا ہے۔ اتوار کو میچ کے پہلے دن بھاری بارش کا امکان ہے، جس سے کھیل کا وقت کم ہو سکتا ہے۔ جنوبی افریقہ نے کیشو مہاراج، سائمن ہارمر اور سینورن متھوسامی کے طور پر تین اسپنروں کو بھی ٹیم میں برقرار رکھا ہے، لیکن امکان یہی ہے کہ ان میں سے صرف ایک ہی کھلاڑی کو موقع ملے گا۔ ڈربن ٹیسٹ میں مہاراج اور ہارمر دونوں کھیلے تھے۔ آسٹریلیا کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے لیے جنوبی افریقہ کی ٹیم: ٹیمبا باؤما(کپتان)،مارکیس ایکرمین، ڈیوڈ بیڈنگہیم، میتھیو بریٹزکے، کوربن بوش،جیرالڈ کوئٹزی، سائمن ہارمر،مارکو جانسن، کیشو مہاراج، ایڈین مارکرم، ویانمولڈر، سینورن متھوسامی، اینرک نورٹجے، ڈین پیٹرسن ، کگیسو ربادا، ریان ریکلٹن اور کائل ویرینے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK