ٹیم انڈیا نے ۹؍وکٹوں سے میچ جیتا، پرسدھ کرشنا نے ۵؍وکٹیں حاصل کیں، جیسوال کی ناٹ آؤٹ سنچری۔
EPAPER
Updated: June 21, 2026, 12:02 PM IST | Chennai
ٹیم انڈیا نے ۹؍وکٹوں سے میچ جیتا، پرسدھ کرشنا نے ۵؍وکٹیں حاصل کیں، جیسوال کی ناٹ آؤٹ سنچری۔
پرسدھ کرشنا (۲۳؍رن پر۵؍وکٹ) کی کریئر کی بہترین کارکردگی کے بعد یشسوی جیسوال (*۱۱۰) اور روہت شرما (۷۹) کی طوفانی اننگز کی بدولت ہندوستان نے تیسرے اور آخری ون ڈے میں افغانستان کو ۹؍ وکٹوں سے شرمناک شکست دے دی۔ اس جیت کے ساتھ ہی ٹیم انڈیا نے ۳؍ میچوں کی سیریز تین صفرسے اپنے نام کر لی۔
۲۱۹؍ رنوں کا ہدف ہندوستانی بلے بازوں کیلئے کبھی چیلنج نہ بن سکا۔ ٹیم انڈیا نے صرف ۲۸ء۴؍ اوور میں ایک وکٹ کے نقصان پر میچ جیت لیا۔ اس جیت کے سائے میں افغانستان کے کپتان حشمت اللہ شاہدی کی ۱۰۲؍ رنوں کی جرأت مندانہ سنچری بھی پھیکی پڑ گئی۔
روہت اور جیسوال نے میچ کو یکطرفہ بنا دیا
روہت شرما اور یشسوی جیسوال دونوں کے لئے یہ اننگز خاص اہمیت رکھتی تھی۔ روہت کو اپنی جگہ کیلئے بڑھتے ہوئے مقابلے کے درمیان ایک بڑی اننگز کی ضرورت تھی جبکہ جیسوال کو مضبوط ٹاپ آرڈر میں اپنی دعویداری برقرار رکھنے کیلئے بڑے اسکور کی ضرورت تھی۔ دونوں نے پہلی وکٹ کے لئے صرف ۲۲ء۵؍ اوور میں ۱۷۰؍ رن جوڑ کر میچ کو یکطرفہ بنا دیا۔ روہت نے شروع میں تھوڑا وقت لیا لیکن جلد ہی وہ اپنے پرانے انداز میں نظر آئے۔ انہوں نے راشد خان کے خلاف لگاتار چوکا اور چھکا لگا کر دباؤ بڑھا دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان کی نظریں افغانستان کے خلاف سیریز میں ۰۔۳؍کی کلین سویپ پر
دوسری طرف جیسوال شروع ہی سے جارحانہ موڈ میں تھے۔ انہوں نے عظمت اللہ عمرزئی کی گیندوں پر ۳؍ چوکے لگائے اور ۳۸؍ گیندوں میں اپنی نصف سنچری مکمل کی۔ وہیں روہت نے ۴۷؍ گیندوں میں ۵۰؍ رن مکمل کئے۔ روہت شرما ۷۹؍ رن بنا کر محمد نبی کی گیند پر آؤٹ ہوئے لیکن جیسوال نے ۸۳؍ گیندوں میں اپنی دوسری ون ڈے سنچری مکمل کی اور محمد نبی کی گیند پر چھکا لگا کر ٹیم کو فتح دلائی۔
افغانستان کے بلے بازوں پر پرسدھ کرشنا بھاری پڑ گئے
پرسدھ کرشنا نے تباہ کن گیند بازی کرتے ہوئے افغانستان کے ٹاپ آرڈر کو تہس نہس کر دیا۔ انہوں نے اپنے ابتدائی اسپیل میں ۴؍ وکٹیں لے کر مہمان ٹیم کو ۳۶؍ رن پر ۴؍ وکٹوں کے بحران میں مبتلا کر دیا۔ رحمن اللہ گرباز، ابراہیم زدران اور رحمت شاہ سبھی پرسدھ کرشنا کی گیندوں پر سلپ میں روہت شرما کو کیچ تھما بیٹھے۔ اس کے بعد درویش رسولی بھی ان کا شکار بنے۔
پرسدھ کرشنا پہلے ۱۰؍ اوورز میں ۴؍ وکٹیں لینے والے چند چنیدہ ہندوستانی تیز گیند بازوں کی فہرست میں شامل ہو گئے۔ تاہم شاہدی (۱۰۲) اور عمرزئی (۵۰) نے پانچویں وکٹ کیلئے۱۰۵؍ رنوں کی شراکت داری قائم کر کے ٹیم کو سنبھالا۔ شاہدی نے ۱۳۱؍ گیندوں میں اپنی پہلی ون ڈے سنچری مکمل کی۔ انہوں نے محمد نبی کے ساتھ چھٹی وکٹ کیلئے۵۷؍ رن بھی جوڑے اور ٹیم کا اسکور ۲۰۰؍ سے پار پہنچایا۔ افغانستان کی مشکلات اس وقت مزید بڑھ گئیں جب ۳۹؍ویں اوور کی آخری گیند پر شاہدی کو پچ کے خطرناک حصے (ڈینجر ایریا) پر دوڑنے کا قصوروار پایا گیا جس کی وجہ سے ٹیم پر ۵؍ رنوں کا جرمانہ لگایا گیا اور افغانستان کی پوری ٹیم ۲۱۸؍ رنوں پر ڈھیر ہو گئی۔