Inquilab Logo Happiest Places to Work

جموں کشمیر نے تاریخ رقم کردی، پہلی بار رنجی ٹرافی خطاب جیت لیا

Updated: March 01, 2026, 11:03 AM IST | New Delhi

۸؍بار کی چمپئن کرناٹک کو کھیل کے ہر شعبہ میں مات دی، ۶۷؍سال کا انتظار ختم، عاقب نبی نے مین آف دی ٹورنامنٹ کا اعزاز حاصل کیا۔

Players of the Jammu and Kashmir team, which won the Ranji Trophy for the first time by defeating Karnataka in the final, can be seen with the trophy. PTI
رنجی ٹرافی کے فائنل میں کرناٹک کو شکست دے کر پہلی بار خطاب جیتنے والی جموں کشمیر کی ٹیم کے کھلاڑیوں کو ٹرافی کیساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ پی ٹی آئی

جموں کشمیر کرکٹ کے لئے سنیچر۲۸؍ فروری کا دن انتہائی خاص اور تاریخی رہا۔ جموں کشمیر نے پہلی بار رنجی ٹرافی کا خطاب جیت کر ۶۷؍سال کا طویل انتظار ختم کر دیا۔ کرناٹک کے ہبلی میں کھیلا گیا رنجی ٹرافی کا فائنل مقابلہ ڈرا رہا لیکن پہلی اننگز کی برتری کی بنیاد پر جموں کشمیر کو فاتح قرار دیا گیا۔ یہ کامیابی اس لئےبھی یادگار رہی کیونکہ کہ ریاست کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اس تاریخی لمحے کے گواہ بننے کے لئےاسٹیڈیم میں موجود تھے۔ 
جموں کشمیر کو یہ تاریخی کامیابی حاصل کرنے میں ۶۷؍برس لگ گئے۔ پہلی بار فائنل کھیلنا، وہ بھی ۸؍ مرتبہ کی چمپئن ٹیم کرناٹک کے خلاف ایک بہت بڑا کارنامہ تھا۔ تاہم ٹیم نے بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے کرناٹک کو قابو میں رکھا۔ 
پہلی اننگز میں سنچری بنانے والے شبھم پنڈیر کو پلیئر آف دی میچ اور پورےٹورنامنٹ میں ۲۴۵؍ رن بنانے کے ساتھ ساتھ ۶۰؍ وکٹیں لینے والے عاقب نبی کو پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کا ایوارڈ دیا گیا۔ 
واضح رہے کہ رنجی ٹرافی کے فائنل مقابلے میں جموں کشمیر کی ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ کپتان کے اس فیصلے کو صحیح ثابت کرتے ہوئے ٹیم نے پہلی اننگز میں ۵۸۴؍ رن بنائے۔ بلے بازوں نے صبر اور تحمل کے ساتھ کھیلتے ہوئے کرناٹک کے گیند بازوں پر دباؤ برقرار رکھا۔ اس کے جواب میں کرناٹک کی ٹیم پہلی اننگز میں صرف ۲۹۳؍رن ہی بنا سکی۔ اس طرح جموں کشمیر کو ۲۹۱؍ رنوں کی بڑی برتری حاصل ہو گئی۔ 
عام طور پر اتنی بڑی برتری ملنے پر ٹیمیں دوسری ٹیم کو فالو آن دیتی ہیں لیکن جموں کشمیر کی ٹیم نے ایسا نہیں کیا۔ ٹیم نے دوسری اننگز کھیلنے کا فیصلہ کیا اور اپنی بلے بازی کو مضبوطی سے جاری رکھا۔ پانچویں اور آخری دن جموں کشمیر نے ۴؍ وکٹوں کے نقصان پر ۳۴۲؍ رن بنا لئے تھے۔ جموں کی جانب سے کامران اقبال اور ساحل لتھرا نے سنچریاں بنائیں۔ اقبال نے ۱۶۰؍رنوں کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی جبکہ ساحل۱۰۱؍ رن بنا کر کریز پر ڈٹے رہے۔ دونوں بلے بازوں نے آخری دن کرناٹک کو ایک بھی وکٹ حاصل نہیں کرنے دیا۔ 
جب جموں کشمیر کی مجموعی برتری ۶۳۳؍ رنوں تک پہنچ گئی تو دونوں ٹیموں کے کپتانوں نے باہمی رضامندی سے میچ ڈرا کرنے کا فیصلہ کیا۔ پہلی اننگز کی برتری کی بنیاد پر جموں کشمیر کو فاتح قرار دیا گیا۔ یہ جیت جموں و کشمیر کرکٹ کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ پہلی بار رنجی ٹرافی جیت کر ٹیم نے ثابت کر دیا کہ محنت، صبر اور درست حکمتِ عملی سے کسی بھی بڑے ہدف کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ 
جیت کی خوشی کوبیان کرنے کیلئے الفاظ نہیں ہیں: پارس ڈوگرا
جموں کشمیر کے پہلی بار رنجی چمپئن بننے پر ٹیم کے کپتان پارس ڈوگرا بے حد خوش نظر آ ئے اور ان کا کہنا تھاکہ ان کے پاس اس جیت کو بیان کرنے کے لئے الفاظ نہیں ہیں۔ ڈوگرا نے سنیچر کو کرناٹک کے خلاف فائنل ڈرا ہونے کے بعد کہا’’سچ کہوں تو میں سمجھا نہیں سکتا۔ میرے پاس ابھی کوئی الفاظ نہیں ہیں۔ اس وقت، یہ میری زندگی کی سب سے بڑی چیز ہے اور میں اس کے لئے بہت شکر گزار ہوں۔ سچ کہوں تو، میں جموں کشمیر کرکٹ اسوسی ایشن کے ساتھ وابستہ ہونے پر خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں اور وہاں کے لوگ زبردست رہے ہیں۔ وہ بہت اچھے رہے ہیں ۔ یہ صرف کھلاڑیوں یا سپورٹ اسٹاف کی جیت نہیں بلکہ پوری ریاست کے عوام کی جیت ہے۔ 
کامران اقبال نے سب کا دل جیت لیا
جموں کشمیر کے بلے باز کامران اقبال نے فائنل میں میچ جتوانے والی سنچری بنا کر اپنی کارکردگی کو تاریخی بنا دیا۔ انہوں نے میچ سے محض ۲۴؍گھنٹے قبل لگی چوٹ کی تشویش کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے شاندار عزم کا مظاہرہ کیا میچ۔ قابل ذکر ہے کہ انہیں میچ سے ایک دن قبل ہی ٹیم میں شامل ہونے کیلئے کہا گیا تھا ۔ انہوں نے اپنی شاندار کارکردگی سے سب کا دل جیت لیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK