شام کے صدر احمد الشرع نے تردید کی اور کہا کہ سرحدی امور کے حل کیلئےیہ وقت موزوں نہیں ہے۔
شام کے صدر الشرع ایک پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے-تصویر:آئی این این
شام کے صدر احمد الشرع نے لبنان میں شامی افواج کی ممکنہ مداخلت سے متعلق گردش کرنے والی خبروں اور افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے پھیلائی جانے والی باتیں بے بنیاد ہیں۔شامی خبر رساں ایجنسی ’سانا‘ کے مطابق احمد الشرع نے دمشق کے نواحی علاقوں کے عمائدین اور معززین کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کہا کہ شام کے لبنان میں داخل ہونے سے متعلق افواہوں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ لبنان کے ساتھ سرحدوں کے تعین کا مسئلہ بھی اس وقت ترجیحات میں شامل نہیں، کیونکہ لبنان کو اس وقت متعدد بحرانوں اور بڑے پیمانے پر داخلی نقل مکانی کا سامنا ہے، جس سے تقریباً پندرہ لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔صدر الشرع نے کہا کہ سرحدی امور کے حل کے لیے مستقبل میں مختلف راستے اور مواقع موجود ہوں گے، تاہم موجودہ حالات میں یہ معاملہ اولین ترجیح نہیں۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک سفارتی ذرائع نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا تھا کہ امریکہ شام پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کردار ادا کرے۔ادھر لبنان میں جنگ بندی کے اعلانات کے باوجود اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، جبکہ لبنانی حکام اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست مذاکرات بھی جاری ہیں، جن کی حزب اللہ مخالفت کر رہی ہے۔
حال ہی میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی اشارہ دیا تھا کہ حزب اللہ کے خلاف شام سے کسی کردار کی درخواست کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ لبنان میں استحکام دیکھنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے امریکہ شام کے ساتھ مشاورت کر سکتا ہے۔دوسری جانب شامی وزارت داخلہ کے ترجمان نور الدین البابا نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ دمشق لبنان کے صدر جوزف عون کی قیادت میں لبنانی ریاست کی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شام اور لبنان کے درمیان ہم آہنگی اور باہمی قبولیت کسی بھی ممکنہ تعاون کی بنیاد ہے، اور دونوں ممالک مشترکہ عرب وژن کے تحت اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرنے کے اہل ہیں۔واضح ہو کہ شام اور لبنان کے تعلقات اب بھی ۲۰۰۵ء میں لبنان سے شامی افواج کے انخلاء کے بعد پیدا ہونے والے تاریخی اور سیاسی مسائل سے متاثر ہیں۔ سرحدوں کے تعین، سیکورٹی تعاون اور شامی پناہ گزینوں سمیت متعدد معاملات اب بھی دونوں ممالک کے درمیان زیربحث ہیں۔