مجھے خود نہیں پتہ کہ مجھ پر پابندی کیوں عائد کی گئی تھی: محمداظہر الدین

Updated: July 31, 2020, 11:28 AM IST | Agency | New Delhi

ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق  کپتان  محمد  اظہرالدین نے خود   پر عائد  پابندی کے۲۰؍ سال بعد کہا کہ وہ خود نہیں جانتے کہ ان پر پابندی عائد کرنے کی کیا وجوہات تھیں ۔  واـضح رہے کہ میچ فکسنگ میں ملوث ہونے پر دسمبر ۲۰۰۰ءمیں ان پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔اس کے بعد اظہرالدین نے ایک طویل قانونی جنگ لڑی جس میں انہیں ۲۰۱۲ء میں کامیابی ملی تھی۔ اس پابندی کو اس سال آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے ختم کیا تھا۔ عدالت نے اس پابندی کو غیر قانونی قرار دیا۔

Mohammed Azharuddin - Pic : INN
محمد اظہرالدین ۔ تصویر : آئی این این

ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق  کپتان  محمد  اظہرالدین نے خود   پر عائد  پابندی کے۲۰؍ سال بعد کہا کہ وہ خود نہیں جانتے کہ ان پر پابندی عائد کرنے کی کیا وجوہات تھیں ۔  واـضح رہے کہ میچ فکسنگ میں ملوث ہونے پر دسمبر ۲۰۰۰ءمیں ان پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔اس کے بعد اظہرالدین نے ایک طویل قانونی جنگ لڑی جس میں انہیں ۲۰۱۲ء میں کامیابی ملی تھی۔ اس پابندی کو اس سال آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے ختم کیا تھا۔ عدالت نے اس پابندی کو غیر قانونی قرار دیا۔
  اس بارے میں انہوں نے کہا کہ میں اس کے لئے کسی پر الزام نہیں لگانا چاہتا ہوں۔ میں واقعتا نہیں جانتا کہ یہ پابندی مجھ پر کس وجہ سے عائد کی گئی تھی۔ اس کے بعد میں نے لڑنے کا فیصلہ کیا اور مجھے خوشی ہے کہ ۱۲؍سال بعد میں بے قصور ثابت ہوا ۔ میں حیدرآباد کرکٹ اسوسی ایشن کا صدر منتخب ہوا  اور بی سی سی آئی کے اجلاسوں میں بھی شرکت کرتا ہوں ۔ اس سب سے مجھے خوشی ملی ہے۔  یاد رہے کہ پچھلے سال ہی حیدرآباد کے راجیو گاندھی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں ایک اسٹینڈ کا نام اظہر کے نام پر رکھا گیا تھا۔ 
ظہیر عباس کا مشورہ کام آیا
 ہندوستانی کرکٹ تاریخ کے سب سے زیادہ بااثر کپتان محمد اظہرالدین نے  ایک انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستانی عظیم بلے باز ظہیر عباس کے ایک قیمتی مشورہ نے ان کے کریئر کو بدل دیا تھا۔ ​​۹۰؍کی دہائی کے وسط میں اظہرالدین نے ہندوستانی ٹیم کو یکسر بدل دیا تھا اور اسے ایک ایسی مسابقتی ٹیم  بنا دیا جس نے مخالف ٹیموں کو سخت ٹکر دی ۔ اظہرالدین نے سچن تینڈولکر کو بھی ٹاپ آرڈر میں ترقی دی  جو ماسٹر اسٹروک ثابت ہوا۔ تاہم ۱۹۸۹ءمیں اپنے کریئر کے ابتدائی حصے کے دوران اظہرالدین فارم کے لئے جدوجہد کر رہے تھے۔
 اظہر الدین نے کرکٹ پاکستان کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ۱۹۸۹ءمیں دورۂ پاکستان کیلئے منتخب ہونے کے بارے میں یقین نہیں تھا کیونکہ میں فارم کیلئے بری طرح جدو جہد کر رہا تھا۔ مجھے یاد ہے کراچی میں ظہیر بھائی گراؤنڈ پر ہمیں پریکٹس کرتے دیکھنے آئے تھے ۔ انہوں  نے مجھ سے پوچھا کہ میں جلدی آؤٹ کیوں ہورہا ہوں۔ میں نے انہیں  اپنے مسائل بتائے اور انہوں نے میری گرپ کو تھوڑا سا تبدیل کرنے کا مشورہ دیا ۔چونکہ میرے پاس کھونے کو کچھ نہیں تھا اور وہ خود ہی گراؤنڈ پر آئے تھے اور مجھے مشورہ دیا تھا میں نے سوچا کہ کیوں نہ کوشش کی جائے ۔جب سے  میں نے اپنی گرپ بدلی تو میں نے زیادہ آرام دہ اور پُر اعتماد محسوس کیا اور آزادانہ طور پر کھیلنا شروع کیا۔ آخر کار ، اس نے مجھے زیادہ جارحانہ بلے باز بننے میں بھی مدد کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK