جنوبی افریقہ کے کپتان ٹیمبا باؤما کا ماننا ہے کہ تیز گیندباز کگیسو ربادا کے اتوار کو آسٹریلیا کے خلاف ہونے والے دوسرے آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میچ میں کھیلنے کا امکان ہے۔
EPAPER
Updated: October 14, 2026, 8:00 PM IST | New Delhi
جنوبی افریقہ کے کپتان ٹیمبا باؤما کا ماننا ہے کہ تیز گیندباز کگیسو ربادا کے اتوار کو آسٹریلیا کے خلاف ہونے والے دوسرے آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میچ میں کھیلنے کا امکان ہے۔
جنوبی افریقہ کے کپتان ٹیمبا باؤما کا ماننا ہے کہ تیز گیندباز کگیسو ربادا کے اتوار کو آسٹریلیا کے خلاف ہونے والے دوسرے آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میچ میں کھیلنے کا امکان ہے۔مئی میں انڈین پریمیئر لیگ میں گجرات ٹائٹنز کے لیے کھیلنے کے بعد سے رباڈا نے کوئی کرکٹ نہیں کھیلی ہے۔ ٹریننگ کے دوران ہیمسٹرنگ میں لگی چوٹ سے صحت یاب ہونے کے باعث وہ آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں نہیں کھیل سکے تھے۔
ربادا اب مسابقتی کرکٹ میں واپسی کے قریب ہیں۔ باوما نے اشارہ دیا کہ ۳۱؍ سالہ کھلاڑی تیزی سے صحت یاب ہو رہے ہیں اور گکیبرہا میں ہونے والے اہم دوسرے ٹیسٹ کے لیے پروٹیز ٹیم میں ان کی واپسی ہوسکتی ہے۔ڈربن میں پہلے ٹیسٹ میں آسٹریلیا سے ۲۱۴؍ رنز سے شکست کے بعد باؤما نے کہاکہ کگیسو ربادا ٹھیک نظر آرہے ہیں۔ میرے خیال میں سپر اسپورٹ (جنوبی افریقہ کا براڈکاسٹر) انہیں بڑی اسکرین پر گیندبازی کرتے ہوئے دکھا رہا تھا۔ وہ ڈریسنگ روم میں ہمیشہ کی طرح خوش مزاج ہیں۔ انہیں ٹیم میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ احتیاطاً کیا گیا تھا تاکہ انہیں کچھ اضافی دن مل سکیں۔ اب انہیں وہ اضافی دن مل گئے ہیں۔ ہم دیکھیں گے کہ وہ کس طرح بہتری لاتے ہیں، لیکن ربادا بہت اچھی حالت میں ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:مودی کی ٹیم انڈیا کے ساتھ تقریب کے باعث آئی پی ایل سے متعلق اہم اجلاس ملتوی
آئی سی سی کے مطابق اگر ربادا دوسرے ٹیسٹ کے لیے واپس آتے ہیں تو امکان ہے کہ ساتھی تیز گیندباز اینرک نورکیا کو اپنی جگہ چھوڑنی پڑے، جنہوں نے ڈربن میں ٹیسٹ کرکٹ میں کامیاب واپسی کی تھی۔ اس کے علاوہ آسٹریلیا کے خلاف خراب فارم کے باعث کئی دیگر کھلاڑیوں کو بھی ٹیم میں اپنی جگہ برقرار رکھنے کے لیے سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
اوپنر ریان رکیلٹن کنگز میڈ میں اپنی دونوں اننگز میں دہائی کا ہندسہ بھی عبور نہیں کرسکے، جارح مزاج بلے باز ٹرسٹن اسٹبس بھی متاثر کرنے میں ناکام رہے، جبکہ وکٹ کیپر کائل ویرین بھی دونوں اننگز میں سستے میں آؤٹ ہوگئے اور آسٹریلیا نے آسانی سے کامیابی حاصل کرلی۔ دوسرے ٹیسٹ کے لیے پروٹیز ٹیم جیرالڈ کوئٹزی، کوربن بوش اور ڈین پیٹرسن جیسے تیز گیندبازی کے متبادل پر غور کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ اسکواڈ میں شامل بغیر کیپ والے بلے باز مارکس ایکرمین اور بولنگ آل راؤنڈر سینوران متھوسامی بھی دعویداری میں ہوسکتے ہیں، جو ڈربن میں نہیں کھیلے تھے۔ تاہم باوما نے بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی ضرورت سے انکار کیا۔ جنوبی افریقہ کے کپتان نے اشارہ دیا کہ وہ پہلے ٹیسٹ میں کھیلنے والی ٹیم کے ساتھ ہی برقرار رہ سکتے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ جب سیریز گکیبرہا میں آگے بڑھے گی تو ٹیم بہتر کارکردگی کے لیے تیار ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے:سیف علی خان کی بہن صبا پٹودی پر ایک ہزار کروڑ کی خاندانی وراثت سنبھالنے کی ذمہ داری
باؤما نے کہاکہ میدان پر اترنے والے کھلاڑیوں پر ہمیں پورا اعتماد ہے۔ آگے چل کر کچھ بات چیت ضروری ہوگی۔ کھلاڑی سمجھتے ہیں کہ پیشہ ورانہ اور اعلیٰ سطح کے کھیل میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ اگر آپ اچھی کارکردگی نہیں دکھا رہے ہیں اور کوئی دوسرا کھلاڑی موقع ملنے کا انتظار کررہا ہے تو اسے وہ موقع ملے گا۔ یہ مایوس کن ہے۔ ہم سیریز کا آغاز اس طرح نہیں کرنا چاہتے تھے، چاہے وہ کسی بھی طرح کی سیریز ہو، اور آسٹریلیا جیسی ٹاپ ٹیم کے خلاف تو بالکل نہیں۔ ظاہر ہے کہ جذبات ابھی بھی کچھ تیز ہیں۔ بات چیت شروع کرنے سے پہلے شاید آپ چاہیں گے کہ جذبات پرسکون ہوجائیں، لیکن کچھ واضح چیزیں ہیں جن میں ہم یقینی طور پر بہتری لاسکتے ہیں۔ نتیجہ دیکھتے ہوئے ڈریسنگ روم میں کوئی بھی خوش نہیں ہے۔