• Sun, 25 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

رادھیکا آپٹے نے خاتون مرکزی کردار والی فلموں کے نہ چلنے پر سوال اٹھائے

Updated: October 25, 2026, 5:06 PM IST | Mumbai

بالی ووڈ اداکارہ رادھیکا آپٹے کے مطابق، موجودہ حالات میں خواتین کی مرکزی کردار والی فلموں کو سنیما گھروں میں مضبوط آغاز دلانا مشکل ہوگیا ہے؛ پروڈیوسر بڑی اسٹارز پر زیادہ بھروسا کرتے ہیں، جبکہ دوسری اداکاراؤں کو ایسی فلموں میں کام کرنا پڑتا ہے جن میں مرد مرکزی کردار ادا کررہے ہوں۔ رادھیکا نے تشدد کو تفریح کے طور پر پیش کرنے والی فلموں پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ ماں بننے کے بعد ان کی ترجیحات اور کام کے اوقات سے متعلق توقعات بدل گئی ہیں۔

Radhika Apte.Photo:INN
رادھیکا آپٹے۔ تصویر:آئی این این

ہندی فلم انڈسٹری میں خواتین کی مرکزی کردار والی فلموں کو درپیش کاروباری مشکلات پر بحث کے درمیان اداکارہ رادھیکا آپٹے نے کہا ہے کہ موجودہ ماحول میں کسی ایسی فلم کو سنیما گھروں میں کامیاب آغاز دلانا مشکل ہے جس میں وہ خود مرکزی کردار ادا کررہی ہوں۔ ان کے مطابق، پروڈیوسروں کے لیے باکس آفس پر فلم کی کارکردگی کا اندازہ لگانا مشکل ہوگیا ہے اور اسی غیر یقینی صورتِ حال میں بڑی اسٹارز پر انحصار بڑھ جاتا ہے۔ رادھیکا نے اس سلسلے میں عالیہ بھٹ اور دپیکا پڈوکون کا نام لیتے ہوئے کہا کہ ان جیسی مقبول اداکاراؤں کی فلموں سے کم از کم سنیما گھروں میں اچھی شروعات کی امید کی جاسکتی ہے، لیکن وہ خود اس مقام پر نہیں ہیں۔ پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کو دیے گئے انٹرویو میں رادھیکا نے کہا، ’’گزشتہ چند برسوں میں سنیما گھروں میں ریلیز ہونے والی فلموں کے معاملے میں ہمیں خود معلوم نہیں کہ کیا چل رہا ہے اور کیا نہیں۔ اگر میں مرکزی کردار میں ہوں تو ممکن ہے کہ میری فلم، چاہے کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو، باکس آفس پر ناکام ہوجائے۔ میرے پاس وہ صلاحیت نہیں ہے؛ میرا مطلب ہے کہ میں عالیہ بھٹ یا دپیکا پڈوکون نہیں ہوں، جن کے بارے میں کم از کم یہ امید کی جاسکتی ہے کہ ان کی فلم کو اچھا آغاز ملے گا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:یوپی میں انتخابی فہرستوں کی آزادانہ جانچ کا مطالبہ

انہوں نے مزید کہا، ’’میں پوری ایمانداری سے بات کررہی ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ایسی فلم میں کام کرنا پڑتا ہے جس میں مرکزی کردار مرد ادا کررہے ہوں۔‘‘ ان کے بیان سے ہندی فلموں کی اس کاروباری حقیقت پر سوال اٹھتا ہے جس میں کسی فلم کو سنیما گھروں میں ریلیز کرنے سے پہلے ہی اس کے مرکزی اداکار کی مقبولیت اور ممکنہ ابتدائی کمائی کو اہمیت دی جاتی ہے۔ تاہم، رادھیکا کا یہ تبصرہ ان کا ذاتی تجربہ اور صنعت کے بارے میں ان کی رائے ہے؛ اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ تمام خواتین کی مرکزی کردار والی فلمیں ناکام ہوتی ہیں۔ رادھیکا نے فلموں میں تشدد کے بڑھتے رجحان پر بھی سخت اعتراض کیا۔ ان کے مطابق، اس وقت سنیما گھروں میں جو فلمیں کاروبار کررہی ہیں، ان میں تشدد ایک نمایاں عنصر ہے، لیکن وہ ایسے مواد کا حصہ بننے سے گریز کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’اس وقت جو چیز کام کررہی ہے، وہ تشدد ہے، اور میں اس کی سخت مخالف ہوں۔ اس لیے صورتِ حال پیچیدہ ہے۔ میں ایسی فلمیں نہیں دیکھتی، مجھے وہ بے معنی لگتی ہیں۔‘‘
تشدد کے مناظر کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ یہ نہیں سمجھ پاتیں کہ لوگ سنیما میں بیٹھ کر پاپ کارن کھاتے ہوئے ۵۰؍  مردوں یا عورتوں کو بری طرح پٹتے ہوئے کیسے دیکھ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق، اگر کسی فلم میں ایک کردار کا سر سنک پر پٹخ کر توڑا گیا ہے تو اگلی فلم میں اسی تشدد کو کسی دوسرے پتھر یا سطح پر دکھانے کا خیال انہیں ناقابلِ فہم لگتا ہے۔ اسی لیے وہ ایسی فلموں میں کام کرنے سے گریز کرنا چاہتی ہیں۔ رادھیکا آپٹے آزاد اور مرکزی دھارے کے سنیما، دونوں میں اپنے کام کے لیے پہچانی جاتی ہیں۔ ’’شور اِن دی سٹی‘‘، ’’بدلاپور‘‘، ’’مانجھی: دی ماؤنٹین مین‘‘، ’’پارشڈ‘‘، ’’پیڈ مین‘‘ اور ’’اندھا دھن‘‘ جیسی فلموں کے علاوہ انہوں نے ’’سیکریڈ گیمز‘‘ اور ’’گھول‘‘ سمیت مختلف ویب سیریز میں بھی کام کیا ہے۔ ان کی آخری سنیما ریلیز ہونے والی فلم ’’میری کرسمس‘‘ تھی، جو ۲۰۲۴ء میں ریلیز ہوئی۔ ان کے حالیہ کئی منصوبے، جن میں ’’لسٹ اسٹوریز ۳‘‘ ، ’’سالی محبت‘‘، ’’مسز انڈرکور‘‘ اور ’’مونیکا، او مائی ڈارلنگ‘‘ شامل ہیں، او ٹی ٹی پلیٹ فارموں پر ریلیز ہوئے۔ رادھیکا نے واضح کیا کہ وہ کسی منصوبے کا انتخاب صرف اس بنیاد پر نہیں کرتیں کہ وہ سنیما میں ریلیز ہوگا یا او ٹی ٹی پر۔ ان کے مطابق، فلم کی ریلیز کا فیصلہ کئی کاروباری عوامل پر منحصر ہوتا ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ ان کا کام کسی نہ کسی شکل میں ناظرین تک پہنچے۔

یہ بھی پڑھئے:اشوک کمارنےاداکاری کا انداز تبدیل کردیا تھا

اداکارہ نے یہ بھی بتایا کہ ماں بننے کے بعد ان کی ذاتی اور پیشہ ورانہ ترجیحات بدل گئی ہیں۔ رادھیکا اور ان کے شوہر، برطانوی وائلن نواز اور موسیقار بینیڈکٹ ٹیلر کے ہاں ۲۰۲۴ء میں بیٹی پیدا ہوئی تھی۔ اب وہ اپنی بیٹی کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنا چاہتی ہیں اور کام کے اوقات کو بھی محدود رکھنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’اب میری شرائط بدل گئی ہیں۔ میری بس اتنی خواہش ہے کہ کام کا دن ۱۲؍ گھنٹے کا ہو، ۱۶؍ گھنٹے کا نہیں، یا پھر مجھے کچھ وقت کی چھٹی مل جائے۔ لیکن ایسا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنی بیٹی کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنا چاہتی ہیں، کیونکہ وہ ابھی بہت چھوٹی ہے۔ ان کے مطابق، ’’میرا کام میری پوری زندگی نہیں ہے۔ یہ ہمیشہ سے میری زندگی کا ایک حصہ رہا ہے۔‘‘ رادھیکا نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے کچھ وقت کے لیے کام سے وقفہ لیا تاکہ لکھنے پر توجہ دے سکیں، لیکن ماں بننے کے بعد اس مقصد کے لیے وقت نکالنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مستقبل میں زیادہ کام بھی کرسکتی ہیں اور ممکن ہے کہ سب کچھ چھوڑ کر کسی اور سمت چلی جائیں؛ فی الحال وہ اپنی ذاتی زندگی، بیٹی اور کام کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ رادھیکا آپٹے اب اداکارہ کیرتی سریش کے ساتھ نیٹ فلکس کی نئی سیریز ’’اکّا‘‘ میں نظر آئیں گی۔ ۱۹۸۰ء کی دہائی کے پس منظر میں بنائی گئی یہ گینگسٹر ڈراما سیریز ۳۰؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو ریلیز ہوگی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK