ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے سرفہرست ۱۰؍ غذائی بحران سے متاثر ممالک میں شامل ہے، یہاں ایک کروڑ ۶۰؍ لاکھ افراد خطرے میں ہیں، جنہیں ۲۰۲۶ء میں انسانی امداد کی ضرورت ہوگی۔
EPAPER
Updated: October 19, 2026, 9:09 AM IST | Islamabad
ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے سرفہرست ۱۰؍ غذائی بحران سے متاثر ممالک میں شامل ہے، یہاں ایک کروڑ ۶۰؍ لاکھ افراد خطرے میں ہیں، جنہیں ۲۰۲۶ء میں انسانی امداد کی ضرورت ہوگی۔
بین الاقوامی انسانی تنظیم ’’ بھوک کے خلاف عمل‘‘ (Action Against Hunger) کی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے شدید ترین غذائی بحران سے متاثر دس ممالک میں شامل ہے، کیونکہ شدید غربت، موسمیاتی آفات اور کم ہوتی انسانی امداد لاکھوں لوگوں کو مناسب غذائیت سے محروم کر رہی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ۲۰۲۶ء میں پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ ۶۰؍ء لاکھن افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہوگی۔’’ ٹین لارجیسٹ فوڈ کرائسیس‘‘ عنوان سے یہ رپورٹ ورلڈ فوڈ ڈے سے پہلے جاری کی گئی۔ واضح رہے کہ یہ انتباہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک میں بحالی کی کوششیں اور بعض معاشی اشاریوںمیں بہتری دیکھی جا رہی ہے، جو میکرو اکنامک ترقی اور کمزور گھرانوں کی حقیقتوں کے درمیان فرق کو اجاگر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ورلڈ فوڈ ڈے: دنیا میں ہر ۱۳؍ واں شخص بھوک کا شکار، سالانہ ۱۰۵؍ کروڑ ٹن غذا ضائع
ذہن نشین رہے کہ دنیا بھر میں تقریباً۱۷۷؍ ملین لوگ ان۱۰؍ ممالک میں رہتے ہیں جہاں بڑی تعداد میں لوگ بھوک کا سامنا کر رہے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی میں شدید بھوک دگنی ہو گئی ہے، جس سے ۴۷؍ ممالک میں تقریباً۲۶۶؍ ملین لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ نائیجیریا، جمہوریہ کانگو، سوڈان، یمن، افغانستان، میانمار، بنگلہ دیش، پاکستان، جنوبی سوڈان اور شام سب سے بڑےغذائی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔بعد ازاں پاکستان کے اندر، کھانے پینے کی قیمتوں میں اضافہ، رہن سہن کے بڑھتے اخراجات، بے روزگاری، گھریلو آمدنی میں کمی اور وسیع تر معاشی عدم استحکام نے بنیادی غذائی ضروریات کے لیے خاندانوں کی قوت خرید کو ختم کر دیا ہے۔ زرعی قیمتوں کی خراب صورتحال نے معاش پر دباؤ کو بڑھا دیا ہے، جس سے کم آمدنی والے طبقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ چونکہ انسانی امداد بڑھتی ہوئی مانگ کے مقابلے میں پیچھے رہ رہی ہے، بہت سے خاندان کھانے چھوڑنے، آمدنی پیدا کرنے والے اثاثے بیچنے اور بڑھتے ہوئے مالی دباؤ سے نمٹنے کے لیے بچوں کو اسکول سے نکالنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کچھ حقائق متنازع ہیں نہ غیر واضح: نیتن یاہو کے مؤقف پر واشنگٹن پوسٹ کا ردعمل
تاہم، ایسے اقدامات طویل مدتی حل کے طور پر کام نہیں کر سکتے کیونکہ آخر میں لوگ غربت، غذائی قلت اور تعلیمی محرومی میں اضافہ دیکھتے رہیں گے، جبکہ مستقل حل نہ ملنے تک گھرانوں کی مستقبل کے بحرانوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کمزور ہوتی رہے گی۔ صورتحال خاص طور پر دیہی اور آفات سے متاثرہ علاقوں میںصحت کی دیکھ بھال، غذائیت کے پروگراموں، صاف پینے کے پانی، صفائی ستھرائی اور سماجی تحفظ تک ناکافی رسائی کی وجہ سے بھی خراب ہو رہی ہے ۔