Updated: October 20, 2026, 12:13 PM IST
| Madrid
اسپین کے وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز نے یونیورسٹی طلبہ کے لیے سستی رہائش کی فراہمی کے مقصد سے ۴۵؍ ملین یورو، یعنی تقریباً ۴ء۵۰؍ ملین ڈالر کے پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ ۷؍ منصوبوں کے ذریعے سرکاری یونیورسٹیوں میں تقریباً ۲؍ ہزار نئے رہائشی مقامات بنائے جائیں گے۔
اسپین کے وزیر اعظم پیدرو سانچیز۔ تصویر: آئی این این
اسپین میں بڑھتے کرایوں اور طلبہ کے لیے سستی رہائش کی قلت کے درمیان حکومت نے یونیورسٹیوں میں رہائشی سہولتوں کو وسعت دینے کے لیے ۴۵؍ ملین یورو کا پیکیج پیش کیا ہے۔ وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز نے پیر کو میڈرڈ کے مونکلوا محل میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وزرا کی کونسل منگل، ۲۰؍ اکتوبر کو اس فنڈ کی منظوری دے گی۔ اس رقم سے ابتدائی مرحلے میں ملک بھر کی سرکاری یونیورسٹیوں کے ۷؍ منصوبوں کے تحت تقریباً ۲؍ ہزار نئے رہائشی مقامات تیار کیے جائیں گے۔ سانچیز نے کہا کہ رہائش کا بحران اعلیٰ تعلیم تک مساوی رسائی میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ ان کے مطابق، ’’جب کوئی طالب علم اس شہر میں رہنے کا خرچ برداشت نہیں کرسکتا جہاں وہ تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے، تو بالآخر یونیورسٹی خوشحالی اور مساوی مواقع کا وہ ذریعہ نہیں رہتی جو ہم سب چاہتے ہیں۔‘‘ حکومت کا کہنا ہے کہ رہائش کے نئے منصوبوں کا مقصد طلبہ کو تعلیمی اداروں کے قریب نسبتاً سستی جگہ فراہم کرنا اور ان خاندانوں پر مالی دباؤ کم کرنا ہے جن کے بچے گھر سے دور رہ کر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: یوکرین نے روس پر ایک ہزار سے زائد ڈرونز داغے، ٹرمپ نے زیلنسکی پر جنگ کو طول دینے کا الزام عائد کیا
اس پیکیج کے ساتھ حکومت طلبہ کے نئے ضابطے کی بھی منظوری دینے کا ارادہ رکھتی ہے، جسے یونیورسٹی اسٹوڈنٹ اسٹیچیوٹ کہا جاتا ہے۔ اس ضابطے کا مقصد طلبہ کے حقوق کو واضح کرنا، یونیورسٹیوں میں ان کی نمائندگی بڑھانا اور تعلیمی ماحول میں تحفظ و سہولتوں کو بہتر بنانا ہے۔ اس میں ذہنی صحت سے متعلق معاونت، نفسیاتی مشاورت تک رسائی، طلبہ کی نقل و حرکت اور تعلیمی مواقع میں بہتری، اور تعلیمی و عملی تربیت کے نظام کو مضبوط بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔ مجوزہ ضابطے کے تحت طلبہ کے لیے ہراسانی اور سائبر ہراسانی سے تحفظ کو بھی تقویت دی جائے گی۔ اس میں جنسی ہراسانی، جنس، جنسی رجحان، صنفی شناخت یا اظہار کی بنیاد پر ہراسانی اور ذاتی طور پر نشانہ بنانے جیسے معاملات شامل ہیں۔ حکومت کے مطابق، خصوصی تعلیمی ضروریات، معذوری یا سیکھنے میں دشواری کا سامنا کرنے والے طلبہ کے لیے معاونت کو بھی بہتر بنایا جائے گا، تاکہ انہیں یونیورسٹی کی تعلیم جاری رکھنے میں غیر ضروری رکاوٹوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
نئے ضابطے میں ڈجیٹل حقوق بھی اہم حصہ ہیں۔ اس کے تحت طلبہ کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ، ڈجیٹل ماحول میں سلامتی اور ڈجیٹل رابطوں سے الگ ہونے کے حق کو تسلیم کیا جائے گا۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ طلبہ سے ہر وقت آن لائن دستیاب رہنے کی توقع نہ رکھی جائے اور ان کی ذاتی زندگی، آرام اور تعلیم کے درمیان بہتر توازن قائم ہوسکے۔ ضابطے میں تعلیمی رہنمائی، انٹرن شپ کے نظام اور طلبہ کو امتحانات و جانچ کے معیار سے متعلق واضح معلومات فراہم کرنے پر بھی توجہ دی گئی ہے۔حکومت کے اعلان کے مطابق، رہائشی منصوبوں کے لیے فنڈز ۷؍ مخصوص منصوبوں میں تقسیم کیے جائیں گے۔ اسپین کی خبر رساں ایجنسی ای ایف ای کے مطابق، ان میں میڈرڈ کی خودمختار یونیورسٹی، کاسٹیلا لا مانچا یونیورسٹی کے الباسیٹے کیمپس، سیویل کی پابلو دے اولاویدے یونیورسٹی، یونیورسٹی آف برگوس، یونیورسٹی جاومے اول، یونیورسٹی آف خایین اور شہر لِیئدا کا ایک منصوبہ شامل ہے۔ ان منصوبوں کے ذریعے ابتدائی مرحلے میں تقریباً ۲؍ ہزار رہائشی مقامات فراہم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فرانس: طلبہ کا احتجاج لوور میوزیم تک پہنچ گیا، مشہور عجائب گھر کے دروازے بند
اس اقدام کے پیچھے اسپین میں طلبہ کی رہائش کی بڑھتی ہوئی طلب اور دستیاب گنجائش کے درمیان فرق ایک اہم وجہ ہے۔ ایل پائیس کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ۵؍ برسوں میں اپنے خاندانی گھر سے مختلف صوبے یا علاقے میں تعلیم حاصل کرنے والے یونیورسٹی طلبہ کی تعداد میں ایک لاکھ ۱۰؍ ہزار سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اور یہ تعداد تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے مقابلے میں یونیورسٹی رہائش گاہوں اور کالجوں میں دستیاب مقامات کی تعداد تقریباً ۱۳۲۰۰۰؍ ہے۔ اس فرق کے باعث طلبہ کو نجی کرائے کی رہائش پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جہاں قیمتیں کئی شہروں میں ان کے بجٹ سے باہر ہوسکتی ہیں۔ رہائش کے منصوبوں میں صرف روایتی ہاسٹل بنانے کے بجائے مشترکہ رہائشی سہولتوں پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بعض منصوبوں میں طلبہ کے لیے کمرے اور مشترکہ جگہیں ہوں گی، جن میں مطالعے کے کمرے، لائبریریاں اور دیگر بنیادی سہولتیں شامل ہوسکتی ہیں۔ حکومت کی شرط ہے کہ ان منصوبوں کا عوامی مقصد برقرار رہے اور رہائش کی قیمتیں قابلِ برداشت ہوں۔ بنیادی خدمات، مثلاً بجلی، پانی اور انٹرنیٹ، کو بھی رہائشی اخراجات میں شامل رکھنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
سانچیز نے کہا کہ یونیورسٹیوں کو مناسب وسائل فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ وہ مساوی مواقع کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ ان کے مطابق، اعلیٰ تعلیم تک رسائی صرف داخلہ حاصل کرنے تک محدود نہیں، بلکہ طالب علم کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے تعلیمی ادارے کے قریب رہنے کے اخراجات برداشت کرسکے۔ حکومت کے اعلان میں رہائش اور طلبہ کے حقوق کو ایک ساتھ رکھنے کا مقصد اسی مسئلے کو حل کرنا ہے۔ منگل کو وزرا کی کونسل کی منظوری کے بعد ان منصوبوں کے نفاذ اور نئے ضابطے کی عملی تفصیلات اہم ہوں گی۔ رہائشی مقامات کی تعمیر کے لیے مقررہ مدت، طلبہ سے وصول کیے جانے والے کرایوں اور ذہنی صحت و ہراسانی سے متعلق سہولتوں کی دستیابی پر عمل درآمد کی کامیابی کا انحصار ہوگا۔ فی الحال حکومت نے فنڈز اور ضابطے کی منظوری کا اعلان کیا ہے؛ طلبہ کو ان سہولتوں سے حقیقی فائدہ منصوبوں کی تکمیل اور نئے حقوق کے مؤثر نفاذ کے بعد ہی مل سکے گا۔