ہالی ووڈ کے معروف اداکار ٹام کروز کی نئی فلم ’ڈیگر‘ (Digger) باکس آفس پر توقعات کے مطابق کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث فلم ساز ادارے وارنر برادرز کو تقریباً ۲۵۰؍ ملین ڈالر، یعنی ۲۵؍کروڑ ڈالر تک کے بھاری نقصان کا خدشہ ہے۔
EPAPER
Updated: October 13, 2026, 5:05 PM IST | New York
ہالی ووڈ کے معروف اداکار ٹام کروز کی نئی فلم ’ڈیگر‘ (Digger) باکس آفس پر توقعات کے مطابق کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث فلم ساز ادارے وارنر برادرز کو تقریباً ۲۵۰؍ ملین ڈالر، یعنی ۲۵؍کروڑ ڈالر تک کے بھاری نقصان کا خدشہ ہے۔
ہالی ووڈ کے معروف اداکار ٹام کروز کی نئی فلم ’ڈیگر‘ (Digger) باکس آفس پر توقعات کے مطابق کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث فلم ساز ادارے وارنر برادرز کو تقریباً ۲۵۰؍ ملین ڈالر، یعنی ۲۵؍کروڑ ڈالر تک کے بھاری نقصان کا خدشہ ہے۔ فلم کی ہدایت کاری معروف فلم ساز الیخاندرو گونزالیز انیاریتو نے کی ہے، جبکہ ٹام کروز نے اس میں ایک طاقتور اور سنکی تیل کے ارب پتی کاروباری شخص کا کردار ادا کیا ہے۔ فلم سے توقع کی جارہی تھی کہ ٹام کروز کی عالمی شہرت اور ان کی مقبولیت اسے باکس آفس پر بڑی کامیابی دلائے گی، لیکن کمزور ابتدائی کمائی اور ناظرین کی محدود دلچسپی نے ان توقعات کو متاثر کردیا۔
یہ بھی پڑھئے:رجنی کانت کی ’جیلر ۲‘ ہندی میں بڑے ملٹی پلیکسز پر ریلیز نہیں ہوگی
باکس آفس کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق،’ ’ڈیگر‘‘ نے دنیا بھر میں اب تک تقریباً ۳ء۳۵؍ملین ڈالر کا کاروبار کیا ہے، جبکہ شمالی امریکہ میں اس کی ابتدائی ہفتے کی کمائی صرف ۸؍ ملین ڈالر کے قریب رہی۔ فلم کو ۲؍ اکتوبر ۲۰۲۶ءکو امریکہ میں ریلیز کیا گیا تھا۔ اس کی کمزور شروعات اور دوسرے ہفتے میں ٹکٹوں کی فروخت میں نمایاں کمی نے تجارتی کامیابی کے امکانات کو مزید متاثر کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، فلم کی تیاری پر تقریباً ۱۶۳؍ سے ۱۸۰؍ ملین ڈالر خرچ ہوئے، جبکہ تشہیر اور مارکیٹنگ کے اخراجات تقریباً ۱۰۰؍ ملین ڈالر بتائے گئے ہیں۔ اس طرح فلم پر مجموعی سرمایہ کاری بہت زیادہ رہی۔ تجارتی اندازوں کے مطابق، لاگت پوری کرنے کے لیے فلم کو دنیا بھر میں تقریباً ۳۰۰؍ سے ۳۵۰؍ ملین ڈالر کی کمائی درکار ہوسکتی تھی۔ موجودہ کاروبار اس ہدف سے کافی کم ہے، اسی لیے وارنر برادرز کے لیے تقریباً ۲۵۰؍ ملین ڈالر تک کے نقصان کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ یہ نقصان کا تخمینہ ہے، حتمی مالی حساب نہیں؛ سینما گھروں کی آمدنی میں تقسیم اور فلم کی بعد از نمائش فروخت بھی آخری نتیجے پر اثر انداز ہوں گی۔
یہ بھی پڑھئے:پونے: ایم پی ایس سی امیدواروں کا احتجاج رنگ لایا
’’ڈیگر‘‘ ایک طنزیہ فلم ہے جس میں ٹام کروز نے ڈیگر راک ویل نامی ایک ارب پتی تیل کے کاروباری شخص کا کردار ادا کیا ہے۔ کہانی میں وہ ایک ایسے بحران کو روکنے کی کوشش کرتا ہے جسے پیدا کرنے میں خود اس کا کردار رہا ہے۔ فلم میں ماحولیاتی تباہی، طاقت، دولت اور انسانی ذمہ داری جیسے موضوعات کو طنزیہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ فلم میں ٹام کروز کے ساتھ رض احمد، جان گڈمین، سینڈرا ہولر، مائیکل اسٹلبرگ اور جیسی پلیمنز بھی اہم کرداروں میں نظر آتے ہیں۔ ہدایت کار الیخاندرو گونزالیز انیاریتو اپنی منفرد فلم سازی کے لیے معروف ہیں، جبکہ ٹام کروز نے اس فلم کے ذریعے روایتی ایکشن کرداروں سے ہٹ کر ایک مختلف نوعیت کا کردار ادا کیا ہے۔
فلم کو ناقدین کی جانب سے ملی جلی رائے ملی، جبکہ اس کے موضوع اور پیش کش نے بھی ناظرین کو یکساں طور پر متاثر نہیں کیا۔ ہالی ووڈ میں ٹام کروز اپنی کامیاب ایکشن فلموں اور عالمی شہرت کے لیے جانے جاتے ہیں، لیکن ’ڈیگر‘ کی ابتدائی کارکردگی ظاہر کرتی ہے کہ کسی بڑے ستارے کی موجودگی بھی بھاری بجٹ والی فلم کی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتی۔ اب فلمی صنعت کی توجہ اس بات پر ہے کہ’’ڈیگر‘‘ اپنی مزید نمائش اور بعد از نمائش آمدنی کے ذریعے نقصان کو کس حد تک کم کرپاتی ہے۔ اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو یہ فلم وارنر برادرز کے لیے حالیہ برسوں کے بڑے تجارتی نقصانات میں شمار ہوسکتی ہے۔