Inquilab Logo Happiest Places to Work

ونود کھنہ نے فلموں اور زندگی میں کئی طرح کے رول نبھائے

Updated: April 28, 2026, 10:58 AM IST | Agency | Mumbai

ونود کھنہ بالی ووڈکےان چند اداکاروں میں سےایک تھے جنہوں نے نہ صرف اپنی مردانہ وجاہت اور جاندار اداکاری سےکروڑوں دل جیتے، بلکہ شہرت کی بلندیوں پر ہوتے ہوئے سب کچھ چھوڑ کر روحانیت کی راہ اختیار کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔

Vinod Khanna.Photo:INN
ونود کھنہ۔ تصویر:آئی این این
ونود کھنہ بالی ووڈکےان چند اداکاروں میں سےایک تھے جنہوں نے نہ صرف اپنی مردانہ وجاہت اور جاندار اداکاری سےکروڑوں دل جیتے، بلکہ شہرت کی بلندیوں پر ہوتے ہوئے سب کچھ چھوڑ کر روحانیت کی راہ اختیار کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔بطور ویلن اپنےکریئرکاآغاز کرنے والے اورپھرفلم انڈسٹری میںبطورہیرو شہرت کی بلندیوں تک پہنچنے والے صدا بہار اداکار ونود کھنہ نےاپنی اداکاری سے مداحوں کے درمیان اپنے انمت نقوش چھوڑےہیں۔ پاکستان کے پیشاور میں۶؍ اکتوبر۱۹۴۶ءکوپیدا ہوئے ونود کھنہ نےگریجویشن کی تعلیم ممبئی سے پوری کی۔ اسی دوران انہیںایک پارٹی کے دوران ڈائریکٹر پروڈیوسر سنیل دت سے ملنے کا موقع ملا۔سنیل دت ان دنوں اپنی فلم من کی بات کیلئے نئے چہرے کی تلاش میں تھے۔ انہوں نے فلم میں ونود کھنہ سے بطور معاون ہیرو کام کرنے کی پیش کش کی جسے ونود کھنہ نے بخوشی منظور کرلیا۔ 
اس فیصلےکےبعدگھرپہنچنےپرونود کھنہ کو اپنے والد سے کافی ڈانٹ بھی سننی پڑی۔ یہاں تک کہ ونود کھنہ نے جب اپنے والد سے فلم میںکام کرنے کے بارےمیںکہاتوان کےوالدنےان پر بندوق تان لی اور کہا اگر تم نےفلموںمیں کام کرنا شروع کیا تو میں تمہیںگولی ماردوں گا۔ بعد میں ونود کھنہ کی ماں کے سمجھانے پر ان کے والدنے ونود کھنہ کو فلموں میں۲؍سال تک کام کرنے کی اجازت دے دی اور کہا اگر فلم انڈسٹری میں کامیاب نہیںہوئےتوگھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹانا ہوگا۔ 
۱۹۶۸ءمیںریلیزفلم من کی بات باکس آف پر ہٹ رہی۔فلم کی کامیابی کےبعدونود کھنہ کو آن ملو سجنا، میرا گاؤں میرا دیش، سچا جھوٹا، جیسی فلموں میں ویلن کا رول نبھانے کا موقع ملا لیکن ان فلموں کی کامیابی کے باوجود ونود کھنہ کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔ 
 
 
ونود کھنہ کو ابتدائی کامیابی گلزار کی فلم میرے اپنے سے ملی ۔ اسے محض ایک اتفاق ہی کہا جائے گا کہ گلزار نے اس فلم سے بطور ڈائریکٹر شروعات کی تھی۔اسٹوڈینٹس پولیٹکس پر مبنی اس فلم میں مینا کماری نےبھی اہم کردار ادا کیا تھا۔فلم میں ونود کھنہ اور شتروگھن سنہا کے درمیان ٹکراؤ دیکھنے لائق تھا۔۱۹۸۰ءمیں فلم قربانی ونود کھنہ کے کریئرکی ایک سپرہٹ فلم ثابت ہوئی۔ فیروز خان کی ہدایت میں بنی اس فلم میں ونود کھنہ کی دمدار اداکار ی کیلئے انہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔فلموںمیںکئی طرح کے کردارادا کرنےکےبعد ونود کھنہ نےسماج سیوا کیلئے ۱۹۹۷ءمیںسیاست میںقدم رکھا اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ٹکٹ پر۱۹۹۸ءمیںگرداس پور سےچناؤ لڑ کر لوک سبھا کے ممبر بنے۔ بعد میں انہوں نے کابینی وزیر کےطور پر بھی کام کیا۔ 
 
 
۱۹۹۷ءمیںاپنے بیٹے اکشے کھنہ کو فلم انڈسٹری میں لانے کیلئے ونود کھنہ نےفلم ہمالیہ پتربنائی۔فلم باکس آفس پر بری طرح ناکام رہی۔ ناظرین کی پسند کا خیال رکھتے ہوئے ونود کھنہ نے چھوٹے پردے کی بھی جانب رخ کیا اور مہارانہ پرتاپ اور میرے اپنے جیسے سیریلوں میں اپنی کارکردگی کےجوہر دکھائے۔ونود کھنہ نے اپنے ۴؍دہائیوں پر مشتمل فلمی کریئرمیںتقریباً ۱۵۰؍فلموںمیں اداکاری کی۔ اپنی دمدار اداکاری سےناظرین کومحظوظ کرنے والے ونود کھنہ ۲۷؍اپریل۲۰۱۷ءکو اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK