پل دو پل کا شہزادہ

Updated: November 07, 2020, 4:10 AM IST | Qaisar Zahidi | Mumbai

یہ کہانی اختر نام کے ایک لڑکے کی ہے۔ اسے ایک گڑیا ملتی ہے جو ایک شہزادی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ اختر اس شہزادی کو اس کے والد تک پہنچاتا ہے۔ بادشاہ خوش ہوکر اس کی شادی اپنی بیٹی شہزادی نیلم سے طے کردیتا ہے۔ جانیں کہانی کے آخر میں کیا ہوتا ہے۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

اختر ایک دن جنگل میں کھیل رہا تھا تو اسے ایک گڑیا پڑی ہوئی ملی۔ اس نے سوچا کیوں نہ گڑیا لے جاکر اپنی چھوٹی بہن نجمہ کو دے دے۔ وہ گڑیا دیکھ کر بہت خوش ہوگی۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ گڑیا اٹھا لی اور اسے لے جاکر اپنی چھوٹی بہن نجمہ کو دے دیا۔نجمہ گڑیا دیکھ کر خوش تو ہوئی مگر زیادہ خوش نہیں ہوئی کیونکہ وہ گڑیا کافی میلی اور گرد سے اٹی ہوئی تھی۔ نجمہ نے سوچا کہ اگر وہ گڑیا کو نہلا دے تو صاف ہو جائے گی۔ یہ سوچ کر نہلانے لگی مگر جیسے ہی اس نے گڑیا کے سر پر پانی ڈالا۔ گڑیا یکایک ایک خوبصورت لڑکی میں تبدیل ہوگئی۔ نجمہ پہلے تو کچھ ڈری مگر پھر ہمت کرکے اس نے پوچھا کہ ’’تم کون ہو؟‘‘ اس لڑکی نے کہا کہ ’’میرا نام شہزادی نیلم ہے۔ مَیں ملک فارس کے بادشاہ کی لڑکی ہوں مگر تم لوگ کون ہو؟ اور مَیں یہاں کیسے آگئی؟‘‘نجمہ نے اسے پوری کہانی سنائی کہ ’’میرے بھائی جان گلی میں کھیل رہے تھے تو انہیں ایک گڑیا ملی وہ اسے اٹھا کر لائے۔ مَیں نے دیکھا کہ گڑیا کافی خوبصورت ہے مگر بہت میلی ہے۔ اس لئے مَیں نہلانے لگی۔ لیکن مَیں نے جیسے ہی اس پر پانی ڈالا گڑیا غائب ہوگئی اور اس کی جگہ تم کھڑی ہوگئیں ۔‘‘ تب شہزادی نے نجمہ کو اپنا حال سنایا۔ اُس نے کہا کہ ’’مَیں ایک دن اپنے باغ میں تتلی پکڑ رہی تھی کہ میرے پاس ایک آدمی آپہنچا۔ اس کے بال اور داڑھی کافی بڑے بڑے تھے۔ اسے دیکھ کر مَیں خوف زدہ ہوگئی۔ اس نے کہا کہ ’’شہزادی نیلم تمہارے ابّا بادشاہ ہیں ۔ ان کے پاس ہیرے جواہرات، سونا چاندی، ہاتھی، گھوڑے، فوج اور بہت کچھ ہے مگر پھر بھی مَیں تمہارے والد سے زیادہ طاقتور ہوں کیونکہ مَیں ایک جادوگر ہوں ۔ مَیں جادو کے اس زور سے تمہارے اس محل کو ایک جھوپڑی میں تبدیل کرسکتا ہوں ۔‘‘ پھر وہ قہقہہ لگانے لگا اور بولا ’’مَیں تمہیں شہزادی سے ایک گڑیا بنا دیتا ہوں اور تم اس وقت تک گڑیا رہو گی جب تک کہ کوئی تمہارے سر پر پانی نہ ڈالے گا۔‘‘ پھر مجھے کچھ یاد نہیں ۔‘‘اپنی داستان سنا کر وہ رونے لگی اور منّت سماجت کرنے لگی کہ ’’مجھے جلدی میرے محل میں پہنچا دو، میرے ابّا حضور اور امّی جان مجھے تلاش کر رہے ہوں گے۔‘‘ اختر قریب ہی کھڑا حیرت سے یہ سب دیکھ رہا تھا اس نے کہا ’’شہزادی نیلم آج رات تم یہاں ٹھہر جاؤ۔ کل صبح مَیں تمہارے محل پہنچا دوں گا۔‘‘آخر ایک رات وہاں رہنے کے لئے شہزادی نیلم تیار ہوگئی۔ اختر نے جلدی جلدی ملک فارس جانے کی تیاری شروع کر دی۔ صبح ہوتے ہی وہ شہزادی نیلم کے ساتھ ملک فارس روانہ ہوگیا۔
 جب وہ ملک فارس پہنچا تو سنا کہ بادشاہ نے یہ اعلان کر رکھا ہے کہ جو بھی شخص شہزادی نیلم کا پتہ بتائے گا یا کھوج لائے گا۔ بادشاہ اسے اپنی سلطنت کا آدھا حصہ دے دے گا یا اس کی شادی شہزادی نیلم سے کر دی جائے گی۔جب بادشاہ کو شہزادی نیلم کے آنے کی خبر ہوئی تو وہ نہایت خوش ہوا اور پورے ملک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ جب سپہ سالاروں نے شہزادی نیلم اور اختر کو بادشاہ کے سامنے پیش کیا تو بادشاہ نے اختر کو اپنے قریب بٹھایا اور کہا کہ ’’تم نے میری بیٹی کو مجھ تک پہنچایا ہے اس لئے مَیں تم سے بہت خوش ہوں اور آج سے تم اس محل کے خاص مہمان ہو۔ مَیں نے اعلان کر رکھا تھا کہ جو شخص بھی شہزادی نیلم کو کھوج لائے گا اسے اپنی سلطنت کا آدھا حصہ دے دوں گا یا اس کی شادی شہزادی نیلم سے کر دی جائے گی۔ تم شہزادی کو لائے ہو اس لئے تمہاری شادی شہزادی نیلم سے کر دی جائے گی.... اور اب جب تک تمہارے لئے الگ محل نہیں بن جاتا ہے تم اسی محل میں رہو گے۔‘‘اختر نے کہا کہ ’’بادشاہ سلامت لیکن میری امّی اور میری چھوٹی بہن نجمہ میرے لئے بہت پریشان ہوں گی اور گھبرائیں گی۔‘‘ بادشاہ نے کہا کہ ’’تم ان کی فکر مت کرو۔ مَیں ابھی سپاہیوں کو تمہارے ملک روانہ کرتا ہوں ۔ وہ انہیں یہاں لے آئیں گے اور اسی وقت چند سپاہی اختر سے اس کے شہر اور گھر کا پتہ معلوم کرکے اس کے ملک روانہ ہوگئے۔ کچھ ہی دنوں کے بعد سپاہی اختر کی امّی اور اس کی بہن نجمہ کو لے کر پہنچ گئے۔ اختر اپنی امّی اور نجمہ سے مل کر بہت خوش ہوا۔ شہزادی نیلم بھی نجمہ سے مل کر بہت خوش ہوئی۔
اس وقت تک اختر کے لئے الگ ایک محل بھی تیار ہوگیا تھا۔ بادشاہ نے کہا کہ ’’آج سے تم لوگ اس محل میں رہو گے۔‘‘ مگر شہزادی نیلم نے کہا کہ ’’ابّا حضور میں اس محل میں اکیلی رہتی ہوں ۔ ہمارا کوئی بھی بھائی بہن نہیں ہے۔ اکیلے کھیلنے میں میرا دل نہیں لگتا ہے۔ اس لئے نجمہ کو یہیں رہنے دیجئے مَیں اس کے ساتھ کھیلا کروں گی....‘‘ نجمہ بھی شہزادی کے ساتھ اس کے محل میں رہنے کے لئے تیار ہوگئی۔ اختر اور اس کی امّی دوسرے محل میں رہنے لگیں ۔ وہ محل بھی بادشاہ کے محل سے زیادہ دور نہیں تھا۔ جب بھی نجمہ کی طبیعت گھبراتی وہ اپنی امّی سے ملنے چلی جایا کرتی.... بادشاہ نے سپہ سالاروں کو یہ بھی حکم دے دیا کہ وہ اختر کی تعلیم و تربیت کا انتظام کر دے۔
 جس طرح شہزادوں کو تعلیم دی جاتی ہے اسی طرح اختر کو بھی تعلیم دی جانے لگی اور اسے پڑھنے لکھنے کے علاوہ شہ سواری، نیزہ بازی، غرض کہ تمام فن ِ جنگ سکھائے جانے لگے۔ جب اختر جوان ہوگیا اور اس کی تعلیم و تربیت پوری ہوگئی تو سپہ سالاروں نے اسے پھر بادشاہ کے سامنے پیش کیا۔ بادشاہ نے دیکھا کہ اب وہ جوان ہوگیا ہے۔ اس کو اپنا قول یاد آیا۔ اس نے کہا کہ ٹھیک ہے شادی کی تیاری کی جائے۔
 دونوں طرف محل میں شادی کی تیاریاں شروع ہوگئیں اب وہ اختر نہ کہا جاتا تھا بلکہ شہزادہ اختر پکارا جاتا تھا۔ نجمہ بھی اپنی امّی کے پاس چلی آئی۔ شہزادہ اختر کو نہلا دھلا کر دولہا بنایا گیا۔ خوب بینڈ باجے اور روشنی کے ساتھ برات روانہ ہوئی۔ برات کے آگے آگے لوگ طرح طرح کی آتش بازیاں چھوڑ رہے تھے۔ جس سے کبھی کبھی خوب روشنی اور چمک پیدا ہوجاتی ہے اور کبھی کبھی زوروں کی آواز ہوتی۔
 ایک بار پٹاخے کی آواز سن کر وہ گھوڑا بھڑک گیا جس پر اختر سوار تھا۔ گھوڑا بے تحاشہ بھاگنے لگا۔ جس سے اختر کو بہت ڈر لگنے لگا۔ اتنے میں اس کی نیند ٹوٹ گئی۔
 اس نے دیکھا کہ وہ تو اپنے بستر پر سویا ہوا تھا۔ آسمان میں بدلی چھائی ہوئی ہے اور کافی چمک اور کڑک کے ساتھ بارش ہو رہی ہے۔ نہ محل ہے اور نہ شہزادی نیلم ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK