Gerardus Mercator کی وجہ شہرت’مرکٹر پروجیکشن‘ ہےجو بحری نقشہ سازی میں انتہائی اہم مانا جاتا ہے۔
EPAPER
Updated: September 11, 2026, 7:57 PM IST | Mumbai
Gerardus Mercator کی وجہ شہرت’مرکٹر پروجیکشن‘ ہےجو بحری نقشہ سازی میں انتہائی اہم مانا جاتا ہے۔
جیرارڈس مرکٹرسولہویں صدی کے عظیم فلیمش ماہرِ نقشہ ساز، جغرافیہ داں، ریاضی داں، ماہرِ فلکیات اور نقشہ کندہ کار تھے۔ وہ سائنسی آلات بنانے میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ جیرارڈس مرکٹر۵؍ مارچ۱۵۱۲ءکو فلیمش علاقے کے شہر روپل مونڈےمیں پیدا ہوئے تھے۔ مرکٹر نے اپنی ابتدائی عمر گینگلٹ میں گزاری، جو موجودہ جرمنی کے قریب واقع تھا۔ بعد ازاں وہ اعلیٰ تعلیم کیلئے یونیورسٹی آف لووین میں داخل ہوئےجہاں انہوں نے فلسفہ، ریاضی اور جغرافیہ کا مطالعہ کیا۔ وہاں انہیں معروف فلیمش عالم اور ریاضی داں گِیما فریزیئس (Gemma Frisius) کی رہنمائی حاصل ہوئی۔ فریزیئس اس دور میں فلکیات، جغرافیہ، سروے اور نقشہ سازی کے اہم ماہر تھے۔ مرکٹر نے ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے ریاضی، فلکیاتی پیمائش اور نقشہ سازی کے عملی اصولوں کو گہرائی سے سمجھا۔ مرکٹر نے فریزیئس کے ساتھ مل کر زمینی اور فلکیاتی گلوبز کی تیاری میں بھی حصہ لیا، جو۱۵۳۷ء تک مکمل ہوئے۔
گلوب سازی میں اہم خدمات
مرکٹر نے زمین کی گول شکل کو سمجھنے اور اسے گلوب کی صورت میں پیش کرنے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ ۱۵۴۱ءمیں انہوں نے اپنا مشہور زمینی گلوب تیار کیا جس پر اس زمانے میں معلوم دنیا کے مختلف علاقوں کی جغرافیائی معلومات درج تھیں۔ بعد میں ۱۵۵۱ءمیں انہوں نے ایک فلکیاتی گلوب بھی تیار کیا۔ ان کے بنائے ہوئے گلوبز میں امریکہ سمیت دنیا کے مختلف خطوں کو اس دور کے دستیاب علمی مواد کی بنیاد پر دکھایا گیا تھا۔ ۱۵۴۱ء کا مرکٹر گلوب امریکہ، پیرو اور شمالی مقناطیسی قطب سمیت متعدد اہم جغرافیائی معلومات پیش کرتا تھا۔ مرکٹر نے ابتدائی عالمی نقشہ سازی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھئے: تھیوڈور نولڈیکے: وسیع المطالعہ ماہرلسانیات، محقق، مترجم اور مؤرخ
یورپ کا عظیم نقشہ
ڈوئسبرگ میں مرکٹر نے اپنی نقشہ سازی کو مزید وسعت دی۔ ۱۵۵۴ءمیں انہوں نے یورپ کا ایک بڑا، چھ پینلوں پر مشتمل نقشہ تیار کیا۔ یہ اس زمانے کا ایک غیر معمولی اور فنی کارنامہ تھا۔
مرکٹر پروجیکشن: سب سے بڑا کارنامہ
مرکٹر کی شہرت کا سب سے اہم سبب’ مرکٹر پروجیکشن‘ ہے۔ ۱۵۶۹ء میں انہوں نے دنیا کے نقشے کو ایک ایسے نئے طریقے سے پیش کیا جس میں طول البلد اور عرض البلد کی لکیروں کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا کہ سمندری سفر کے دوران مستقل سمت والے راستے (rhumb lines) کو سیدھی لکیر کی صورت میں نقشے پر دکھایا جا سکے۔ اس خصوصیت نے سمندری ملاحوں کیلئے سمت کا تعین اور سفر کی منصوبہ بندی بہت آسان بنا دی۔ امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق مرکٹر نے ۱۵۶۹ء میں ایسا چارٹ متعارف کرایا جس میں سمندری سمتوں کو سیدھی لکیروں سے ظاہر کرنا ممکن ہوا۔
زندگی کے آخری ایام اور وفات
جیرارڈس مرکٹر نے اپنی زندگی کے آخری کئی عشرے ڈوئسبرگ میں گزارے اور وہیں علمی اور نقشہ سازی کا کام جاری رکھا۔ ۲؍ دسمبر۱۵۹۴ء کو تقریباً ۸۲؍ برس کی عمر میں ان کا انتقال ہوا تھا۔