Inquilab Logo Happiest Places to Work

تھیوڈور نولڈیکے: وسیع المطالعہ ماہرلسانیات، محقق، مترجم اور مؤرخ

Updated: August 28, 2026, 9:57 PM IST | Mumbai

Theodor Nöldeke کے کام میں قرآن و اسلام کے ساتھ عہدنامۂ قدیم، عربی شاعری، سریانی ادب اور سامی زبانوں کی تقابلی تحقیق بھی شامل ہے۔

Theodor Noldeke was the author of more than 100 books. Photo: INN
تھیوڈور نولڈیکے ۱۰۰؍ سے زائد کتابوں کے مصنف تھے۔ تصویر: آئی این این

تھیوڈور نولڈیکےانیسویں اور بیسویں صدی کے ممتاز جرمن مستشرقین، سامی زبانوں کے ماہر، مؤرخ اور قرآن و اسلامیات کے اہم مغربی محققین میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی علمی شہرت خاص طور پر قرآن مجید کی تاریخ، ترتیبِ نزول، عربی زبان و ادب، سریانی و آرامی زبانوں، قدیم ایران اور ساسانی تاریخ کے مطالعات کی وجہ سے قائم ہوئی۔ ان کی سب سے مشہور تصنیف’’ Geschichte des Qorans‘‘ (قرآن کی تاریخ) ہے جس نے مغربی علمی دنیا میں قرآنی مطالعات پر گہرا اثر ڈالا اور نولڈیکے کو قرآن کے جدید مغربی مطالعات کے بانیوں میں شامل کر دیا۔ انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا کے مطابق نولڈیکے اپنے عہد کے اہم ترین ایرانیات کے ماہرین میں بھی شمار ہوتے تھے۔ 
تھیوڈور نولڈیکے ۲؍مارچ۱۸۳۶ء کو ہاربرگ میں پیدا ہوئے تھے، جو اس زمانے میں مملکتِ ہانوور کا حصہ تھا اور آج ہیمبرگ کے علاقے میں شامل ہے۔ ان کے والد ایک تعلیم یافتہ اور انتظامی عہدے پر فائز شخص تھے اور نولڈیکے کو ابتدائی عمر ہی سے کلاسیکی زبانوں اور قدیم علوم سے دلچسپی پیدا ہوگئی تھی۔ انہوں نے۱۸۴۹ء سے۱۸۵۳ءتک لنگن (Lingen) کے جمنازیم میں تعلیم حاصل کی جہاں انہیں قدیم یونانی، لاطینی اور دیگر کلاسیکی علوم کی مضبوط بنیاد حاصل ہوئی۔ ۱۸۵۳ء میں نولڈیکے نے گوٹنگن یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ یہاں ان کی علمی زندگی پر مشہور جرمن عالم ہائنرش آگسٹ ایوالڈ کا گہرا اثر پڑا۔ ۱۸۵۶ءمیں انہوں نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے ویانا اور لیڈن میں قدیم مخطوطات کا مطالعہ کیا اور مختلف کتب خانوں میں عربی و مشرقی مخطوطات سے براہِ راست استفادہ کیا۔

یہ بھی پڑھئے: سلواڈور ڈالی مشہور ہسپانوی مصور، مجسمہ ساز، ڈیزائنراور مصنف تھے

نولڈیکے نے۱۸۶۱ء میں گوٹنگن یونیورسٹی میں تدریس شروع کی اور۱۸۶۴ء میں انہیں وہاں سامی زبانوں کے شعبے میں غیر معمولی پروفیسر کا منصب ملا۔ ۱۸۶۸ءمیں وہ کیل (Kiel) یونیورسٹی میں پروفیسر مقرر ہوئے اور۱۸۷۲ء میں اسٹراسبرگ یونیورسٹی میں مشرقی زبانوں کے پروفیسر بن گئے۔ اسٹراسبرگ میں انہوں نے کئی دہائیوں تک تدریس اور تحقیق کی اور ۱۹۰۶ء میں سبکدوش ہوئے۔ نولڈیکے کی مشہور ترین تصنیف’’ Geschichte des Qorans‘‘ ہے۔ اس کتاب میں نولڈیکے نے قرآن کے متن، سورتوں کی ترتیب، اسلوب، زبان اور تاریخی پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے سورتوں کی ایک زمانی ترتیب پیش کرنے کی کوشش کی۔ نولڈیکے عربی زبان کے انتہائی ماہر محقق تھے۔ انہوں نے کلاسیکی عربی کے صرف و نحو، قدیم عربی شاعری اور عربی ادبی متون پر متعدد تحقیقات کیں۔ نولڈیکے نے سیرتِ نبویؐ کے بارے میں بھی کام کیا۔ ان کی۱۸۶۳ء میں شائع ہونے والی کتاب’’ Das Leben Mohammeds ‘‘(محمدؐ کی زندگی) ان کی ابتدائی معروف تصانیف میں شامل ہے۔ تھیوڈور نولڈیکے نے طویل علمی زندگی گزاری اور۲۵؍ دسمبر۱۹۳۰ء کو کارلسروہے، جرمنی میں وفات پائی۔ ان کی عمر تقریباً ۹۴؍برس تھی۔ 
(وکی پیڈیا اور برٹانیکا ڈاٹ کام)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK