• Fri, 11 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: دھاگے کا ٹکڑا

Updated: September 11, 2026, 8:01 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

معروف فرانسیسی مصنف گی دی موپاساں کی شہرہ آفاق کہانی ’’دی پیس آف اِسٹرنگ‘‘ The Piece of String کا اردو ترجمہ۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

نورمنڈی کے ایک چھوٹے سے قصبے میں ہفتے کا بازار لگا ہوا تھا۔ آس پاس کے دیہات سے کسان اپنی گاڑیوں، گھوڑوں اور مویشیوں کے ساتھ صبح ہی صبح شہر پہنچ گئے تھے۔ کہیں سبزیاں فروخت ہو رہی تھیں، کہیں انڈے اور مکھن، کہیں مرغیاں اور بطخیں، اور کہیں کھیتوں سے لائی ہوئی اشیاء۔ بازار میں لوگوں کی آوازیں، جانوروں کی چیخ پکار اور سودا سلف کی بحثیں مل کر ایک ایسی گہماگہمی پیدا کر رہی تھیں جو ہر ہفتے اس چھوٹے سے شہر کی پہچان بن جاتی تھی۔ اسی ہجوم میں اوشت کورنی نامی ایک غریب کسان بھی تھا۔ وہ اپنے علاقے کے لوگوں میں خاصا مشہور تھا۔ نہ دولت مند تھا، نہ بہت تعلیم یافتہ، لیکن اپنی محنت اور سادگی کی وجہ سے اسے سب جانتے تھے۔ اس دن وہ بھی بازار میں کچھ خریداری کرنے آیا تھا۔ اس کے کپڑے پرانے تھے، جوتے گرد سے اٹے ہوئے تھے۔ وہ بازار میں گھومتا ہوا مختلف دکانوں اور اسٹالوں کو دیکھ رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر زمین پر پڑی ایک چیز پر جا ٹھہری۔ وہ ایک چھوٹا سا دھاگے کا ٹکڑا تھا۔ 
بہت معمولی سا۔ ایسا ٹکڑا جسے کوئی دوسرا شخص شاید دیکھے بغیر بھی گزر جاتا۔ مگر کورنی نے فوراً اسے اٹھانے کیلئے جھکنے کی کوشش کی۔ اسی لمحے اس کی نظر پڑی کہ قصبے کا ایک بااثر شخص، ماسٹر مالانڈین، اسے دیکھ رہا ہے۔ 
مالانڈین کو کورنی سے پہلے ہی کچھ خاص محبت نہ تھی۔ دونوں کے درمیان پرانی رنجشیں تھیں، اور ایک دوسرے کے بارے میں ان کی رائے بھی اچھی نہ تھی۔ کورنی جانتا تھا کہ مالانڈین اسے معمولی سمجھتا ہے، اور وہ خود بھی مالانڈین کی سخت مزاجی سے خوش نہ تھا۔ کورنی نے دھاگے کا ٹکڑا اٹھایا، اسے اپنے ہاتھ میں لپیٹا اور اپنی جیب میں رکھ لیا۔ اس نے شاید ہی کبھی سوچا ہو گا کہ یہ معمولی سا عمل اس کی پوری زندگی کو بدل دینے والا ہے۔ اسی وقت قصبے کے ایک اور شخص نے اسے دیکھا۔ وہ زور سے بولا، ’’ارے کورنی! زمین سے کیا اٹھا رہے تھے؟‘‘
کورنی نے فوراً جواب دیا، ’’یہ تو بس دھاگے کا ایک ٹکڑا ہے۔ ‘‘ اس نے جیب سے دھاگہ نکال کر دکھایا۔ 
کچھ لوگ ہنسنے لگے۔ ’’ہم نے بھی دیکھا تھا کہ تم کچھ اٹھا رہے تھے، ‘‘ ایک شخص نے کہا۔ کورنی نے کندھے اچکائے۔ ’’تو کیا ہوا؟ دھاگہ تھا۔ میں نے سوچا کسی کے کام آ جائے گا۔ ‘‘ اس نے بات ختم کر دی اور آگے بڑھ گیا۔ مگر مالانڈین خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک ایسی چمک تھی جسے کورنی نے محسوس نہیں کیا۔ اسی روز بازار میں ایک بڑا ہنگامہ مچ گیا۔ ایک کسان، ماسٹر ہاپوشے، اپنا ایک قیمتی پرس کھو بیٹھا تھا۔ پرس میں خاصی رقم تھی۔ اس نے پریشانی کے عالم میں بازار کے کئی چکر لگائے، لوگوں سے پوچھا، دکانداروں سے دریافت کیا اور آخرکار پولیس کو اطلاع دی۔ قصبے میں خبر پھیل گئی کہ کسی کا پرس چوری ہو گیا ہے۔ لوگوں کے درمیان سرگوشیاں ہونے لگیں۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: کینٹروِل کا بوڑھا بھوت

اسی دوران ایک شخص نے کہا، ’’میں نے کورنی کو زمین سے کچھ اٹھاتے دیکھا تھا۔ ‘‘ یہ بات سنتے ہی چند لوگوں کی نگاہیں کورنی کی طرف اٹھ گئیں۔ کورنی کچھ فاصلے پر کھڑا تھا اسے اس بات کا اندازہ بھی نہیں تھا کہ ایک چھوٹے سے دھاگے نے اچانک اسے شک کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ تھوڑی دیر بعد پولیس کا ایک اہلکار اس کے پاس آیا۔ ’’کورنی، تم نے آج بازار میں زمین سے کچھ اٹھایا تھا؟‘‘ کورنی نے فوراً جواب دیا، ’’ہاں، ایک دھاگے کا ٹکڑا۔ ‘‘ ’’وہ کہاں ہے؟‘‘ 
کورنی نے اپنی جیب سے دھاگہ نکال کر دکھایا۔ اہلکار نے اسے غور سے دیکھا۔ 
’’تمہیں یہ کہاں ملا؟‘‘ ’’بازار کے راستے میں۔ ‘‘
’’اور اس وقت تمہارے آس پاس کون تھا؟‘‘
کورنی نے چند لوگوں کے نام بتائے۔ پولیس اہلکار نے دھاگہ واپس کیا اور چلا گیا۔ کورنی نے سوچا کہ معاملہ ختم ہو گیا۔ اگلے دن اچانک خبر آئی کہ گمشدہ پرس مل گیا ہے۔ ایک شخص اسے راستے میں پڑا ہوا لے کر پولیس کے پاس پہنچا تھا۔ سب کچھ واضح ہو جانا چاہئے تھا۔ پرس مل گیا تھا۔ چور کا سوال ختم ہو جانا چاہئے تھا۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ کیونکہ ماسٹر مالانڈین نے ایک ایسی بات کہہ دی جس نے معاملہ مزید پیچیدہ کر دیا۔ 
اس نے دعویٰ کیا کہ کورنی نے دراصل پرس اٹھایا تھا، اور جب اسے پولیس کی آمد کا علم ہوا تو اس نے پرس کسی دوسرے راستے سے منتقل کر دیا۔ کورنی نے یہ بات سنی تو اس کے ہوش اڑ گئے۔ ’’یہ جھوٹ ہے!‘‘ وہ چیخ اٹھا۔ ’’میں نے پرس کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ میں نے صرف دھاگہ اٹھایا تھا!‘‘ لیکن اب مسئلہ یہ تھا کہ لوگ اس کی بات سننے کیلئے تیار نہ تھے۔ 
اس نے جتنی شدت سے اپنی صفائی پیش کی، اتنا ہی اسے محسوس ہوا کہ لوگ اسے مشکوک نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ اس نے بار بار کہا، ’’میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں، میں نے پرس نہیں اٹھایا۔ ‘‘ مگر مالانڈین خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔ اور کورنی کو پہلی بار احساس ہوا کہ کبھی کبھی کسی بے گناہ انسان کیلئے اپنی بے گناہی ثابت کرنا بھی سب سے مشکل کام بن جاتا ہے۔ 
کورنی کو یقین تھا کہ بات چند منٹ میں صاف ہو جائے گی۔ آخر اس نے جو چیز اٹھائی تھی، وہ اب بھی اس کی جیب میں موجود تھی۔ اس نے دھاگے کا وہ معمولی سا ٹکڑا نکال کر میئر کے سامنے رکھ دیا تھا۔ اس نے اپنی پوری دیانتداری سے بتایا تھا کہ اس نے اسے سڑک سے اٹھایا تھا، اور اس کے پاس پرس کا نام و نشان تک نہیں۔ لیکن سچ بول دینا ہمیشہ کافی نہیں ہوتا۔ میئر نے اسے غور سے دیکھا اور کہا، ’’تم یہ توقع نہیں کر سکتے کہ میں مان لوں کہ مالانڈین نے ایک دھاگے کے ٹکڑے کو پرس سمجھ لیا۔ وہ ایک معتبر آدمی ہے۔ ‘‘ یہ بات کورنی کے دل پر تیر کی طرح لگی۔ ’’لیکن یہی سچ ہے!‘‘ اس نے تقریباً چیختے ہوئے کہا۔ ’’میں نے صرف یہ دھاگہ اٹھایا تھا۔ اگر آپ کو یقین نہیں تو مجھے تلاش کر لیجئے۔ ‘‘
اس کی تلاشی لی گئی۔ اس کی جیبیں الٹ دی گئیں۔ پرس کہیں نہیں تھا مگر اس کے باوجود شبہ ختم نہ ہوا۔ مالانڈین کو بھی بلایا گیا۔ اس نے وہی بات دہرائی کہ اس نے کورنی کو سڑک سے کوئی چیز اٹھاتے دیکھا تھا اور پھر دیر تک زمین کی طرف جھکے دیکھا تھا، جیسے وہ کسی قیمتی چیز کو تلاش کر رہا ہو۔ کورنی غصے سے کانپنے لگا۔ 
’’تم جانتے ہو کہ میں نے کیا اٹھایا تھا!‘‘ مالانڈین نے بے تاثر لہجے میں جواب دیا، ’’میں نے جو دیکھا، وہی بتایا ہے۔ ‘‘ دونوں کے درمیان تلخ کلامی شروع ہو گئی۔ کورنی بار بار اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش کرتا رہا، لیکن جتنا وہ بولتا، اتنا ہی معاملہ الجھتا جاتا۔ آخرکار میئر نے اسے جانے دیا، مگر یہ کہتے ہوئے کہ معاملہ اعلیٰ حکام کے سامنے رکھا جائے گا۔ کورنی باہر نکلا تو اسے محسوس ہوا جیسے پورا بازار اس کی طرف دیکھ رہا ہو۔ 
لوگوں کو خبر ہو چکی تھی۔ وہ جہاں سے گزرتا، لوگ اسے روک کر پوچھتے، ’’کیا ہوا تھا؟‘‘ وہ رک جاتا اور پوری تفصیل سناتا۔ بتاتا کہ کس طرح اس نے سڑک سے دھاگہ اٹھایا تھا، کس طرح مالانڈین نے اسے دیکھا تھا، اور کس طرح اس پر پرس اٹھانے کا الزام لگا دیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: صنوبر کا درخت

لیکن لوگ اس کی بات سن کر ہنسنے لگتے۔ 
کوئی کہتا، ’’ارے بوڑھے لومڑ، اب یہ کہانی کسی اور کو سنانا۔ ‘‘ کوئی طنزیہ انداز میں پوچھتا، ’’پرس کہاں چھپایا ہے؟‘‘ کورنی غصے سے سرخ ہو جاتا۔ ’’میں خدا کی قسم کھاتا ہوں، میں نے پرس نہیں لیا!‘‘ وہ اپنی جیبیں الٹ کر دکھاتا، جیسے اس طرح اپنی بے گناہی ثابت کر دے گا۔ مگر کسی کو یقین نہ آتا۔ پڑوسی سنتے رہے مگر ان کے چہروں سے صاف معلوم ہوتا تھا کہ وہ بھی اس کی بات سے مطمئن نہیں ہیں۔ اس رات کورنی سو نہ سکا۔ وہ بستر پر لیٹا رہا اور بار بار اسی واقعے کو اپنے ذہن میں دہراتا رہا۔ اسے سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی تھی کہ لوگ اسے چور سمجھ رہے تھے۔ اگر اس پر کوئی اور الزام لگتا تو شاید وہ برداشت کر لیتا، مگر ایک ایماندار آدمی کیلئے چوری کا الزام اس کی عزت پر حملہ تھا۔ 
اگلے دن دوپہر کے قریب اچانک خبر پھیلی کہ گمشدہ پرس مل گیا ہے۔ ماریوس پومیل نامی ایک مزدور اسے لے کر مالک، ماسٹر بریتون، کے پاس گیا تھا۔ پومیل نے بتایا کہ اسے پرس راستے میں ملا تھا۔ چونکہ وہ پڑھنا نہیں جانتا تھا، اس لئے وہ پرس گھر لے گیا اور اپنے مالک کے حوالے کر دیا۔ پرس میں موجود تمام رقم اور دوسری چیزیں بھی محفوظ تھیں۔ یہ خبر جب کورنی تک پہنچی تو وہ بے حد خوش ہوا۔ اسے لگا کہ اب آخرکار اس کی عزت واپس آ جائے گی۔ وہ فوراً لوگوں کے پاس جانے لگا اور اپنی کہانی سنانے لگا۔ ’’دیکھا! میں سچ کہہ رہا تھا۔ پرس مل گیا۔ میں نے اسے ہاتھ تک نہیں لگایا تھا۔ ‘‘ اب اس کے پاس اپنی بات ثابت کرنے کیلئے ایک بہت اہم دلیل تھی۔ وہ سارا دن یہی واقعہ لوگوں کو سناتا رہا۔ راستے میں کسی سے ملاقات ہوتی تو اسے روک لیتا۔ ہر کسی کو پوری داستان سناتا۔ چرچ سے نکلنے والے لوگوں کو بھی وہ راستے میں روک کر اپنی صفائی پیش کرتا۔ وہ کہتا، ’’مجھے پرس کے گم ہونے کا اتنا دکھ نہیں تھا جتنا اس بات کا کہ مجھے جھوٹا سمجھا گیا۔ ایک ایماندار آدمی کیلئے اس سے بڑی ذلت کیا ہو سکتی ہے کہ لوگ اسے چور سمجھیں اور پھر اس کی بات پر یقین بھی نہ کریں ؟‘‘
اب بظاہر اس کا دل مطمئن ہونا چاہئے تھا۔ پرس مل چکا تھا۔ اس کے پاس کچھ نہیں ملا تھا۔ اس نے خود بھی صاف صاف بتایا تھا کہ اس نے کیا اٹھایا تھا۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ لوگوں کے رویے میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ وہ اس کی بات سنتے تو مسکراتے۔ کچھ لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ہنستے۔ کورنی کو یہ بات محسوس ہونے لگی کہ لوگ اب بھی اس کے بارے میں کچھ اور سوچ رہے ہیں۔ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ آخر کیوں۔ 
اسے کیا معلوم تھا کہ قصبے کے لوگوں نے اس کیلئے ایک نئی کہانی بنا لی ہے۔ ان کا خیال تھا کہ اگر کورنی نے پرس نہیں چرایا تھا تو پھر وہ کس طرح ملا؟ اور پھر اچانک ایک خطرناک خیال لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہوا۔ شاید کورنی نے خود پرس اٹھایا تھا، مگر جب اسے پولیس کی تفتیش کا علم ہوا تو اس نے کسی ساتھی کے ذریعے پرس واپس کروا دیا۔ کورنی کو ابھی اس شک کا اندازہ نہیں تھا۔ وہ صرف یہ جانتا تھا کہ لوگ اس کی بات پر پہلے سے کم یقین کر رہے ہیں۔ اور یہی چیز اس کیلئے سب سے زیادہ تکلیف دہ تھی۔ اب لوگ اسے چالاک اور بدمعاش کہہ رہے تھے۔ شام میں جب وہ ایک چوک پر بیٹھا اور دوبارہ اپنی داستان سنانے لگا تو ایک گھوڑوں کے تاجر نے اسے روک دیا۔ ’’بس کرو، بوڑھے لومڑ! ہم تمہاری دھاگے والی کہانی جانتے ہیں۔ ‘‘
کورنی نے بے بسی سے کہا، ’’لیکن پرس تو مل گیا!‘‘ 
تاجر نے ہنس کر جواب دیا، ’’ہاں، ایک آدمی اسے ڈھونڈتا ہے اور دوسرا اسے واپس کر دیتا ہے۔ اب ہمیں کیا معلوم تم دونوں کے درمیان کیا معاملہ تھا؟‘‘ یہ سنتے ہی کورنی کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ اب اسے سمجھ آ گیا۔ لوگ اب بھی اسے چور سمجھ رہے تھے۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر، وہ سمجھتے تھے کہ اس نے اپنا کوئی ساتھی بنا کر پرس واپس کروایا ہے۔ اس نے میز پر بیٹھے لوگوں کو اپنی صفائی دینے کی کوشش کی، مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کرتا، پورا میز قہقہوں سے گونج اٹھا۔ کورنی کیلئے وہ ہنسی ناقابلِ برداشت تھی۔ چند ہفتے بعد اسے عدالت میں طلب کیا گیا۔ پرس مل چکا تھا، اس میں موجود رقم بھی پوری تھی۔ 
اور اس کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ملی تھی جس سے ثابت ہو کہ وہ چور تھا۔ آخرکار عدالت نے اسے بری تو کر دیا، کیونکہ اس کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں تھا۔ لیکن بری ہو جانا اور بے گناہ سمجھا جانا دو الگ باتیں تھیں۔ کورنی عدالت سے باہر نکلا تو اسے محسوس ہوا کہ لوگ اب بھی اسے شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ وہ گھر لوٹ آیا مگر اس کا ذہن اس واقعے سے آزاد نہ ہو سکا۔ دن گزرتے گئے۔ ہفتے گزر گئے۔ پھر مہینے گزرنے لگے۔ لیکن دھاگے کا وہ معمولی سا ٹکڑا اس کی زندگی سے نہیں نکلا۔ وہ جہاں جاتا، کسی نہ کسی شکل میں اس کا ذکر ضرور ہو جاتا۔ لوگ اسے دیکھ کر مسکراتے اور کہتے، ’’آ گئے ہمارے دھاگے والے؟‘‘ کبھی کوئی طنز کرتا، ’’آج زمین پر کچھ اور ملا؟‘‘ اور کبھی بچے بھی اس کے پیچھے آوازیں لگاتے۔ کورنی پہلے غصے میں آ جاتا، پھر انہیں سمجھانے کی کوشش کرتا، پھر قسمیں کھاتا اور آخرکار خاموش ہو جاتا لیکن اندر ہی اندر یہ بات اسے کھاتی جا رہی تھی۔ اس کی عمر بڑھ رہی تھی اور اس کی صحت بھی خراب ہونے لگی تھی۔ وہ پہلے جیسا مضبوط نہ رہا۔ اسے بھوک کم لگتی، رات کو نیند نہ آتی اور معمولی باتوں پر بے چین ہو جاتا۔ اس کے ذہن میں ہر وقت ایک ہی خیال گردش کرتا رہتا: ’’لوگ مجھے چور سمجھتے ہیں۔ ‘‘ کچھ عرصے بعد اس کی صحت مزید گر گئی۔ وہ اکثر بستر پر پڑا رہتا اور کبھی کبھی غصے میں بڑبڑاتا، ’’میں نے صرف دھاگا اٹھایا تھا!‘‘ گھر والے اسے سمجھاتے کہ اب اس بات کو بھول جاؤ، مگر وہ بھول نہیں سکتا تھا۔ اس کیلئے وہ دھاگا اب صرف دھاگا نہیں تھا۔ وہ اس کی عزت، اس کی ساکھ اور اس کی پوری زندگی کا نشان بن چکا تھا۔ ایک سرد صبح وہ بستر سے اٹھا تو اس کی حالت بہت خراب تھی۔ اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ تبھی اسے وہ بازار یاد آ گیا جہاں یہ سب شروع ہوا تھا۔ اسے زمین پر پڑا وہ معمولی سا دھاگا یاد آیا۔ 
اس نے سوچا، ’’اگر میں اس دن اسے اٹھاتا ہی نہ تو؟‘‘ شاید کچھ بھی نہ ہوتا۔ شاید وہ آج بھی سکون سے زندگی گزار رہا ہوتا۔ لیکن زندگی میں بعض اوقات ایک معمولی سا عمل ایسی زنجیر بنا دیتا ہے جس کی آخری کڑی تک پہنچتے پہنچتے انسان اپنی پوری قوت کھو دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: انمول رتن

کورنی نے آنکھیں بند کر لیں۔ اس کی بیماری دن بہ دن بڑھتی گئی۔ ایک دن قصبے کا ایک آدمی اس سے ملنے آیا۔ اس نے بتایا کہ لوگوں میں اب بھی اس واقعے کا ذکر ہوتا ہے مگر کوئی بھی اسے سنجیدگی سے یاد نہیں کرتا۔ زندگی آگے بڑھ چکی تھی۔ بازار میں نئے واقعات ہو رہے تھے، لوگوں کے اپنے مسائل تھے، اور پرانی باتیں آہستہ آہستہ دوسروں کی یاد سے مٹ رہی تھیں۔ مگر کورنی کیلئے وقت وہیں رک گیا تھا۔ اس نے کمزور آواز میں کہا، ’’لوگ بھول سکتے ہیں لیکن میں کیسے بھولوں ؟ میں جانتا ہوں کہ میں نے کچھ نہیں کیا۔ ‘‘ وہ شخص کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر بولا، ’’شاید تمہیں دوسروں سے زیادہ خود اپنے دل کے سامنے بے گناہ ہونے کی ضرورت ہے۔ ‘‘
کورنی نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس رات اس کی حالت اچانک بہت خراب ہو گئی۔ گھر والے اس کے گرد جمع ہو گئے۔ اس کی سانسیں بھاری ہو رہی تھیں۔ اس نے آنکھیں کھولیں اور جیسے کسی دور کی چیز کو دیکھنے کی کوشش کی۔ پھر اس کے ہونٹ ہلے۔ ’’بازار...‘‘
کسی نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ وہ پھر بولا، ’’زمین پر... دھاگا پڑا تھا...‘‘ اس کی آواز بہت کمزور ہو چکی تھی۔ 
’’میں نے اسے اٹھایا...‘‘ اس کے بعد کچھ لمحوں کیلئے وہ خاموش رہا۔ پھر اس نے آخری بار پوری قوت سے کہا، ’’میں نے پرس نہیں لیا تھا۔ ‘‘
یہ کہتے ہوئے اس کی آواز ٹوٹ گئی۔ اس کے بعد وہ زیادہ دیر زندہ نہ رہ سکا۔ کورنی مر گیا۔ 
وہ اپنی آخری سانس تک اسی بات پر قائم رہا کہ اس نے چوری نہیں کی تھی۔ لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں واپس لوٹ گئے۔ کسی نے شاید اس کے بارے میں سوچا بھی نہیں کہ ایک بے بنیاد الزام کس طرح ایک انسان کے ذہن کو اندر سے کھا سکتا ہے۔ 
مگر کورنی کی کہانی ایک تلخ حقیقت چھوڑ گئی۔ کبھی کبھی الزام کا نقصان اس وقت بھی ختم نہیں ہوتا جب اصل حقیقت سامنے آ جائے۔ پرس مل گیا تھا۔ عدالت نے کورنی کو مجرم نہیں ٹھہرایا تھا۔ پھر بھی لوگوں کے دل میں پیدا ہونے والا شک ختم نہ ہو سکا۔ 
ایک معمولی سا دھاگا، جس کی کوئی قیمت نہ تھی، اس کیلئے زندگی بھر کی اذیت بن گیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK