• Sat, 03 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مختصر کہانی: کہو تو کہہ دوں ....

Updated: January 03, 2026, 11:56 AM IST | Asifa Shafi | Mumbai

آگے چل کر اس نے دیکھا کہ ایک جگہ قوالی ہو رہی ہے۔ وہ وہاں بیٹھ گیا۔ ایک قوال گا رہا تھا۔ کچھ لوگ داد دے رہے تھے مصرع تھا ’’کہو تو کہہ دوں ....‘‘

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ایک مرتبہ ایک دیہاتی اپنی سسرال جا رہا تھا۔ راستہ جنگل سے ہو کر جاتا تھا۔ قریب ہی اس کو ایک گولر کا بڑا پیڑ دکھائی دیا۔ جس پر لال لال گولر لگے ہوئے تھے۔ گولروں کو دیکھ کر دیہاتی کے منہ میں پانی آگیا۔ پاس پہنچنے پر اسے ایک بہت ہی پکا گولر کوڑے کے ڈھیر میں پڑا ہوا دکھائی دیا۔ دیہاتی سے صبر نہ ہوسکا۔ اُس نے چاروں طرف دیکھا کوئی اسے دیکھ تو نہیں رہا ہے۔ اطمینان کر لینے پر اُس نے گولر اُٹھا کر کھا لیا۔ 
آگے چل کر اس نے دیکھا کہ ایک جگہ قوالی ہو رہی ہے۔ وہ وہاں بیٹھ گیا۔ ایک قوال گا رہا تھا۔ کچھ لوگ داد دے رہے تھے مصرع تھا ’’کہو تو کہہ دوں ....‘‘ یہ سنتے ہی دیہاتی سٹپٹا گیا۔ اور دل میں کہنے لگا کہ مَیں نے تو اتنے احتیاط سے گرلر کھایا پھر اس نے کہاں دیکھ لیا۔ دیہاتی نے قوال کا منہ بند کرنے کے لئے جو کچھ اس کے پاس روپے تھے سب دے دیئے۔ مگر پھر بھی وہ قوال یہ ہی رٹے گیا۔ تب اس نے اپنے کپڑے تک اتار کر قوال کو دے دیئے۔ اب اس کے پاس ایک دھوتی رہ گئی مگر قوال یہ مصرع رٹے ہی جا رہا تھا۔ اب تو دیہاتی بہت پریشان ہوا اور اس کو قوال پر بہت غصہ آیا۔ اور اس نے کھڑے ہو کر کہا، ’’تو کیا کہے گا، لے مَیں خود سب کو بتائے دیتا ہوں۔ ‘‘ اور اس نے اپنے گولر کھانے کی بات سب کو بتا دی۔ یہ سن کر سب قہقہہ مار کر ہنس پڑے۔ 
قوال نے کہا، ’’میاں میں سمجھا میرا گانا آپ کو پسند آیا ہے اور یہ سب مجھ کو انعام مل رہا ہے۔ ‘‘
بعد میں اس قوال نے سب روپے اور کپڑے دیہاتی کو واپس کر دیئے اور وہ خوش خوش سسرال چلا گیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK