اب تک کئی افسانے اور ناولٹ لکھ چکی ہیں۔ شہرت پسند نہیں ہیں مگر اپنی تخلیقات پر صحتمند تبصروں کی قدر کرتی ہیں۔ بی یو ایم ایس ہیں مگر مطب نہیں کرتیں، اُن کے شوہر نے اُنہیں لکھنے سے کبھی نہیں روکا۔ انقلاب نے اُن سے خاص بات چیت کی ہے۔ ملاحظہ کیجئے:
EPAPER
Updated: February 19, 2026, 4:45 PM IST | Mumbai
اب تک کئی افسانے اور ناولٹ لکھ چکی ہیں۔ شہرت پسند نہیں ہیں مگر اپنی تخلیقات پر صحتمند تبصروں کی قدر کرتی ہیں۔ بی یو ایم ایس ہیں مگر مطب نہیں کرتیں، اُن کے شوہر نے اُنہیں لکھنے سے کبھی نہیں روکا۔ انقلاب نے اُن سے خاص بات چیت کی ہے۔ ملاحظہ کیجئے:
اپنی تحریروں کے ذریعے خاتون کرداروں کو مضبوطی عطا کرنے والی آسیہ رئیس خان ممبئی کی مشہور افسانہ نگار ہیں۔ حالانکہ ان کا تعلق ادب کی زرخیز سر زمین مارول (خاندیش) سے ہے۔ جزوِ لاینفک، فش ٹینک، رفاقت، چار دیواری، بھرم، خاکی چھتری، کھڑکی، اظہار، ہائپر میٹروپیا، گرہ گیر، وجودِ زن، وادیٔ دل اور روبرو جیسی اپنی تخلیقات (افسانے اور ناولٹ) میں انہوں نے خواتین کے ایثار اور قربانی کے ساتھ ساتھ اُن کے مسائل کو بھی اُجاگر کیا ہے۔ آسیہ رئیس خان کم گو ہیں لیکن اُن کی تحریریں بولتی ہیں۔ انہیں سننا زیادہ پسند ہے۔ وہ دوسروں کی باتیں سنتی اور ان کا تجزیہ کرتی ہیں پھر اس سے استفادہ کے ذریعہ اپنی تحریروں کو ثروتمند بنانے کی کوشش کرتی ہیں۔ اُن کے شوہر رئیس خان اُن کے ادبی تخلیقی سفر میں کبھی حائل نہیں ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان کے اوقات کو خواتین کس طرح منظم کرسکتی ہیں؟
اُن کی کہانیوں میں موجود کردار اُن کے آس پاس کے لوگ ہی ہوتے ہیں۔ چائے نوشی کا اُن کا ذوق اتنا بلند ہے کہ اسے وہ کرداروں میں شامل بھی کرتی ہے۔ واضح رہے کہ آسیہ رئیس خان نے ڈاکٹری کی ڈگری حاصل کی ہے مگر قلیل مدت کے بعد پریکٹس چھوڑ دی تھی۔ بظاہر اس کی وجہ گھریلو ذمہ داری بالخصوص بچوں (اُن کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے) کی پرورش تھی مگر ایسا لگتا ہے کہ اُنہوں نے اپنی ادبی سرگرمیوں کیلئے ہی پریکٹس کو خیرباد کہا۔ بہرحال اُن کا ادبی سفر جاری ہے۔ دن بھر کی بھاگ دوڑ کے بعد رات کی تنہائی میں لکھنے پڑھنے ہی میں منہمک رہتی ہیں۔ حال ہی میں ان کی کتاب ’مہرکوش‘ منظرعام پر آئی ہے۔ انقلاب نے اُن سے گفتگو کی جس کے چند حصے اور اقتباسات نذر قارئین کئے جارہے ہیں:
س: افسانہ یا ناول لکھنا مشکل فن ہے، آپ نے اسے اتنا آسان کیسے بنایا کہ تخلیقات کا ڈھیر لگا دیا؟
ج: آسان کہاں بنایا؟ ابن صفی نے سات سو سے زائد ناول لکھے، رضیہ بٹ کے پچاس سے زائد ناول اور تین سو سے زیادہ افسانے ہیں۔ اتنے عرصے میں، میں نے جو چالیس بیالیس ناولٹ (جو ڈائجسٹ میں مکمل ناول کہلاتے ہیں) لکھے ہیں۔ اس لحاظ سے میری تحریروں کا ڈھیر تو ہرگز نہیں ہے۔ ہاں، کوشش ضرور کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’سیل‘‘ کے دوران خریداری کرتے وقت اِن باتوں کا خیال رکھیں
س: تخلیقی سفر کا آغاز کہاں سے یعنی کب ہوا؟
ج: اسکول کے وقت سے ہی کچھ نہ کچھ لکھتے رہنے کا شوق تھا۔ چھٹی ساتویں جماعت سے ہی لکھنا شروع کیا تھا مگر وہ اپنی ذات تک محدود تھا۔ کبھی کسی کو دکھایا بتایا نہیں تھا۔ تحریک، مطالعے کے بعد آس پاس سے ہی ملتی ہے۔ بے شمار کردار اور کہانیاں بکھری پڑی ہیں، مشاہدہ اور ایک تخلیق کار کی نظر ہو بس۔ مَیں یہی کرتی ہوں۔
س: اچھی نثر کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ جو نثر آپ نے لکھی اُسے کس درجے میں رکھتی ہیں؟ اُس سے کتنی مطمئن ہیں؟
ج: اچھی نثر میرے نزدیک وہ ہے جو قاری کو اپنے ساتھ باندھ لے۔ میرے افسانوں کو مقبول ادبی جرائد، فورمز اور مختلف پلیٹ فارمز پر جگہ ملی، پذیرائی حاصل ہوئی جہاں اس صنف کے مشہور تخلیق کار اور نقاد موجود ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ناولٹ یا طویل تحریریں پاپولر فکشن کے جرائد میں شائع ہوئیں، پسند کی گئیں لہٰذا میرے لئے یہ طے کرنا مشکل ہے کہ میری نثر کس زمرے میں آتی ہے۔ مَیں لکھنا چاہتی ہوں اور لکھ رہی ہوں۔
س: اپنی پہلی تحریر کے متعلق بتایئے؟
ج: باقاعدہ شائع ہونے والی پہلی تحریر ’گھر گھر کی کہانی‘ ایک مضمون تھا جو روزنامہ انقلاب میں ہی شائع ہوا تھا۔ اس کے بعد پہلا افسانہ ’روشنی کا در‘ بھی انقلاب ہی کی زینت بنا۔
یہ بھی پڑھئے: سحری میں اِن چار غذاؤں سے پرہیز کرنا چاہئے
س: افسانہ یا ناولٹ لکھنے پہلے آپ اس کیلئے کیا تیاری کرتی ہے؟
ج: تیاری تو ایک خیال یا آئیڈیا ذہن میں آتے ہی شروع ہو جاتی ہے۔ کہانی ذہن میں پکتی ہے، اٹھتے بیٹھتے، کام کرتے ہوئے یہ عمل جاری رہتا ہے۔ کہانی میں کسی ایسی بات کا ذکر ہو جس کے متعلق زیادہ علم نہ ہو تو تخلیقی عمل سے پہلے اس پر تھوڑی بہت تحقیق کرنا، یہی تیاری ہوتی ہے۔
س: اب تک سب سے زیادہ کس افسانہ، ناولٹ یا ناول کو پسند کیا گیا؟
ج: افسانہ ’ موسم ‘ اور ’ پیتل کا گلاس ‘ کافی پسند کیا گیا۔ ناولٹ سہو کار، لیٹر باکس، ہمت ِ دشوار پسند، اس وقت یہی یاد آرہے ہیں۔
س: سوشل میڈیا پر ملنے والا کوئی ایسا تبصرہ جو آپ کے ذہن میں محفوظ ہو گیا ہو؟
ج: تبصروں سے زیادہ قارئین کے وہ کمنٹس اور پیغام یادگار ہیں جن میں وہ بتاتے ہیں کہ کسی کہانی یا کردار سے انہوں کس طرح ری لیٹ کیا۔ جیسے ’اک راہ چنی ایسی‘ پر کسی نے لکھا تھا کہ یہ کہانی پڑھ کر ان کا برسوں سے رکا ایک فیصلہ آسان ہوگیا۔ سن ذرا، لیٹر باکس اور تنکا تنکا پر بطور خاص اس قسم کے اتنے پیغامات ملے تھے کہ میں حیران تھی۔ مجھے یقین نہیں آتا تھا کہ میری کہانیاں یا الفاظ اس قدر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ بھی اللہ کا کرم ہے۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان کے اوقات کو خواتین کس طرح منظم کرسکتی ہیں؟
س: حالیہ کتاب کا نام ’مہر کوش‘ کیوں رکھا؟
ج: پہلی وجہ تو یہ تھی کہ’ مہرکوش ‘ ناولٹ خاص کتاب کے لئے لکھا تھا لہٰذا کتاب کا نام وہی رکھا۔ دوسرے ’مہرکوش‘ کا مطلب محبت کی کوشش کرنے والا یا محبت کرنے والا ہے اور مجھے لگتا ہے ہر انسان کو ایسا ہی ہونا چاہئے۔ رنگ، نسل، اختلاف، مسائل، شکوے گلے، ناراضگی وغیرہ کے باوجود وہ کوشش کرے تو دنیا زیادہ خوش حال ہوسکتی ہے۔
س: آپ کا پسندیدہ مصنف کون ہے اور کیوں؟
ج: بہت سے ہیں۔ ابن ِ صفی کو میں نے بہت کم عمری میں پڑھا تھا۔ وہ ہمیشہ اس فہرست میں اول رہیں گے۔ شفیق الرحمان، راجندر سنگھ بیدی، کرشن چندر، عصمت چغتائی اور اے حمید کو بہت کم پڑھا مگر جتنا پڑھا بہت متاثر کن لگا۔
س: قارئین کو کیا پیغام دینا چاہیں گی؟
ج: جیسے بھی ممکن ہو لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کیجئے۔ اپنے آس پاس ہی دیکھئے کئی باصلاحیت تخلیق کار گم نامی کی زندگی جی رہے ہوں گے۔