’’جی، ہرکیولیس....‘‘ نجمہ نے مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔ ’’ہوں .... پتہ بھی ہے.... وہاں کتنا رش لگا ہے۔ ایڈوانس بکنگ میں بھی ٹکٹ آٹھ ٹھ دن پہلے لینے پڑتے ہیں۔ ‘‘
EPAPER
Updated: January 03, 2026, 11:54 AM IST | Masood Ansari | Mumbai
’’جی، ہرکیولیس....‘‘ نجمہ نے مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔ ’’ہوں .... پتہ بھی ہے.... وہاں کتنا رش لگا ہے۔ ایڈوانس بکنگ میں بھی ٹکٹ آٹھ ٹھ دن پہلے لینے پڑتے ہیں۔ ‘‘
’’کہاں کی تیاری ہے نجمی....؟‘‘ بھیّا نے نجمہ کے کمرے میں آتے ہوئے پوچھا۔ ’’آج تو ہمارا پکچر کا پروگرام ہے بھیّا، صوفی کے یہاں سب جمع ہوں گی اور وہاں سے ٹھیک ۶؍ بجے سب مل کر چلے جائیں گے....‘‘ نجمہ نے ربن باندھتے ہوئے جواب دیا۔ ’’اچھّا....؟ کون سی پکچر جا رہی ہو؟‘‘ بھیّا نے پوچھا۔
’’جی، ہرکیولیس....‘‘ نجمہ نے مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔ ’’ہوں .... پتہ بھی ہے.... وہاں کتنا رش لگا ہے۔ ایڈوانس بکنگ میں بھی ٹکٹ آٹھ ٹھ دن پہلے لینے پڑتے ہیں۔ ‘‘ بھیّا نے کہا۔ ’’وہ تو سب ہمیں معلوم ہی ہے.... ہم یوں ہی تھوڑی جا رہے ہیں ....؟ صوفی نے چھ ٹکٹ آٹھ روز پہلے ہی ایڈوانس میں لے لئے تھے....‘‘ نجمہ نے جواب دیا۔ ’’تب تو ٹھیک ہے۔ جلدی کرو ساڑھے پانچ تو ہوگئے....‘‘ بھیّا یہ کہتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف چلے گئے۔
کچھ ہی دیر بعد نجمہ دوڑتی ہوئی اپنے بھیّا کے کمرے کی طرف لپکی.... ’’بھیّا جی.... ذرا دروازہ تو کھولئے....!‘‘ نجمہ نے دروازہ بند دیکھ کر کہا.... اس نے آہستہ سے دروازہ کھٹکھٹایا مگر جواب ندارد۔ اُس نے ذرا زور سے پھر دوبارہ کھٹکھٹایا.... پھر بھی کوئی جواب نہیں ! اونہہ بھیّا کو کیا ہوگیا ہے.... کہیں سو تو نہیں گئے....! اُس کے ذہن میں خیال آیا، ’’نہیں۔ یہ بھی کوئی وقت ہے سونے کا....؟ اور پھر ابھی تو میرے کمرے سے واپس ہوئے تھے.... پھر....؟ وہ کچھ اور سوچنے لگی.... اس نے غور سے دروازے کو کان لگا کر سُنا! اندر سے عجیب عجیب بھیانک قسم کی آوازیں آرہی تھیں ....! ساتھ ہی قہقہے بھی بلند ہو رہے تھے! کون ہے اندر....؟ اُس نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا! بھیّا کی پیٹھ نجمہ کی طرف تھی اور وہ....؟ وہ تو اس وقت خاصے جوکر لگ رہے تھے....! اُسے بھیّا کا چہرہ دیکھ کر ہنسی آگئی.... بال بکھرے ہوئے.... ہاتھ نچا نچا کر پتہ نہیں کیا کیا بکے جا رہے تھے....! جس کا وہ ایک لفظ بھی تو سمجھ نہیں پا رہی تھی.... مگر زور سے چلّا رہے تھے کہ بس.... جیسے تقریر کر رہے ہوں ! نجمہ نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں، ’’ہائیں یہ کیا....؟‘‘ بھیّا کو اس قسم کی حرکتیں کرتے دیکھ کر وہ بڑبڑائی اُس نے اِدھر اُدھر جھک کر دیکھا.... وہاں تو کوئی اور نہیں تھا.... سوائے بھیّا کے۔ اُس نے پھر غور سے بھیّا کی باتیں سمجھنے کی کوشش کی....! مگر کچھ سمجھ میں نہیں آیا.... وہ تو پتہ نہیں کیا کیا اُوٹ پٹانگ بکے جا رہے تھے۔
افوہ! کیا گڑبڑ ہے؟ اندر کوئی نہیں .... اور پھر یہ حضرت کیا بے سَر پیر کی اُڑاتے جا رہے ہیں ! آخر انہیں ہو کیا گیا ہے؟ اب تو نجمہ سچ مچ پریشان ہوگئی.... خدا نہ کرے کہیں جن بھوت کا سایہ تو نہیں ہوگیا؟ یا پھر ہوسکتا ہے کہ اس گرمی نے اثر کیا ہو! نجمہ کے دل میں عجیب عجیب خیالات آرہے تھے!
’’اب کیا کیا جائے؟ امّی ابّا بھی دورے پر گئے ہوئے تھے۔ کریم بھی پتہ نہیں کدھر جا مرا۔ ‘‘ وہ بہت پریشان ہوگئی.... اس نے وقت دیکھا، چھ بجنے میں بیس منٹ باقی تھے.... اب کیا کیا جائے؟ وہ دوڑی دوڑی کریم کے پاس پہنچی۔
’’کریم.... اِدھر آؤ جلدی۔ ‘‘ اُس نے کریم کو آواز دی، ’’یہ بھیّا پتہ نہیں آپ ہی آپ کیا اُلٹی سیدھی ہانک رہے ہیں۔ ‘‘ نجمہ نے کریم سے کہا۔
’’کیا کہا بی بی جی؟ چھوٹے میاں بڑبڑا رہے ہیں ! اپنے آپ ہی؟ چلئے چل کر دیکھتا ہوں انہیں۔ ‘‘ کریم پہلے ہی کون سا عقلمند تھا۔ خود بھی پریشان نظر آنے لگا۔
’’ہاں .... ہاں .... چلو! اپنے کمرے میں دروازہ بند کرکے بیٹھے ہیں ! مَیں نے کھڑکی سے جھانک کر بھی دیکھا.... اندر تو کوئی نہیں ہے۔ مگر وہ برابر اوٹ پٹانگ ہانکے چلے جا رہے ہیں ! پتہ نہیں کیا بات ہے؟ نجمہ نے تفصیل بتا دی۔
پھر کریم اور نجمہ نے بھیّا کے کمرے کی کھڑکی سے جھانک کر دیکھا اب بھی وہی ’سین‘ چل رہا تھا! ساتھ ہی ساتھ ہاتھ پیر بھی چل رہے تھے جیسے کوئی کرتب دکھا رہے ہوں .... یا ’’بھارت ناٹیم‘‘ کا کوئی رقص پیش کرنے کی کوشش میں ہوں۔ کریم نے بھی یہ دیکھا.... وہ حیران رہ گیا! ’’کیا ہوگیا ہے چھوٹے سرکار کو....؟ بڑے سرکار اور بیگم صاحبہ بھی نہیں ہیں عجیب پریشانی ہے!‘‘ کریم بڑبڑایا۔
’’نجمہ بی بی.... کہیں عقیل میاں ’پاگل‘ تو نہیں ہوگئے؟ مَیں نے جمن سے پرسوں ہی سنا تھا کہ پاگل آدمی اسی طرح اپنے ہی آپ بے تکی باتیں کئے جاتے ہیں !‘‘ کریم نے اسے اور دہلا دیا۔
’’ہاں کریم یہ تو مَیں نے بھی سُنا ہے.... مگر بھیّا تو ابھی ایک گھنٹہ پہلے اچھے خاصے تھے.... آخر اتنی جلدی انہیں کیا ہوگیا۔ ‘‘
’’نہیں .... بی بی.... مَیں نے تو سُنا تھا کہ اس گرمی کا اثر منٹوں میں ہو رہا ہے! چھوٹے سرکار بھی ضرور اسی گرمی کا شکار ہوئے ہیں !‘‘ کریم پریشان تھا۔
’’پرسوں اخبار میں تو مَیں نے پڑھا تھا کہ اس بلا کی گرمی کا اثر لوگوں پر دیکھتے ہی دیکھتے ہو رہا ہے! مگر....‘‘ نجمہ پھر کچھ سوچنے لگی۔
’’کریم.... تم اندر جاؤ نا اس کھڑکی سے! آخر دیکھو تو سہی کیا بات ہے؟‘‘ نجمہ نے کریم سے کہا۔
’’نا.... بی بی.... مَیں تو یہ نہیں کرسکتا....! سُنا ہے کہ پاگل کسی کا خیال نہیں کرتے! جو چیز ہاتھ میں آئی.... پھینک ماری.... ٹھہریئے میں کسی کو بلاتا ہوں !‘‘
’’نہیں کریم.... تم ٹھہرو.... مَیں جاتی ہوں اندر....‘‘ نجمہ نے اندر جانے کے لئے ضد کی۔
’’افوہ! بی بی جی.... یہ نہ کیجئے گا.... مَیں کسی کو بلا لوں آپ اکیلی تو ہرگز نہ جایئے گا.... مَیں نہیں جانے دوں گا آپ کو۔ ‘‘ کریم نے نجمہ کو روک دیا۔
’’آپ یہیں ٹھہریئے! مَیں جمن کو بلاتا ہوں۔ ‘‘ کریم باہر چلا گیا۔ اور نجمہ کھڑی بھیّا کو اسی طرح اچھلتا، کودتا دیکھتی رہی۔
مگر تھوڑی ہی دیر بعد اچانک بھیّا رک گئے، بکواس بھی بند کر دی اپنی۔ آئینہ کے سامنے کھڑے ہو کر بال سیدھے کئے۔ قمیص اور پاجامہ بھی درست کیا۔
’’ہائیں .... یہ سب کیا ہو رہا ہے!‘‘ نجمہ سوچنے لگی.... ’’بھیّا ذرا دروازہ تو کھولئے....‘‘ اس نے ہمت کرکے پھر ایک بار بھیّا کو پکار ہی لیا۔ ’’ہاں ! اچھا ٹھہرو ابھی کھولتا ہوں ....‘‘ بھیّا نے جواب دیا اور دروازہ کھول دیا۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا! وہ تو اچھے خاصے لگ رہے تھے۔ نجمہ نے غور سے اُن کی صورت دیکھی۔
’’کیوں بھئی نجمی کیا بات ہے....؟ کیوں دیکھ رہی ہو اس طرح؟‘‘ بھیّا نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
’’توبہ ہے.... مَیں تو اتنی دیر سے آپ کو دیکھ رہی تھی.... آخر کیا ہوا تھا آپ کو؟ پاگل تو نہیں ہوگئے ہیں آپ؟‘‘ نجمہ پوچھ بیٹھی.... مگر پکچر کا وقت گزر جانے کا اُسے خیال بھی نہ تھا۔
’’پاگل ہوگیا تھا مَیں .... ہاہاہاہاہاہاہا.... ہا....‘‘ بھیّا نے زور دار قہقہہ لگایا! ’’بھیّا.... خدا کے لئے یوں نہ ہنسئے۔ مجھے ڈر لگتا ہے۔ ‘‘ نجمہ گھبرا گئی۔ ’’نجمی صاحبہ اس وقت کیا بجا ہے؟‘‘ بھیّا نے اچانک مسکراتے ہوئے سوال کیا۔
’’چھ بج گئے....‘‘ اس نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا.... اور وہ فوراً ہی چونک پڑی! ’’پکچر نہیں گئیں آپ؟‘‘ بھیّا نے اسی لہجے میں پوچھا۔ ’’ارے.... ہاں ! پکچر تو مَیں بھول ہی گئی....‘‘ نجمہ نے جواب دیا۔ ’’بس.... مَیں پاگل واگل نہیں ہوا تھا.... البتہ ’پاگل‘ تو تم ہوئی ہو اب۔ ‘‘ بھیّا نے ہنستے ہوئے نجمہ سے کہا!
’’کیوں ....؟‘‘
’’اجی.... میرا مقصد یہی تھا کہ تمہیں آج پکچر جانے سے روکوں ....‘‘ بھیّا ہنس پڑے.... ’’اور شکر ہے کہ مَیں اپنے مقصد میں کامیاب ہو ہی گیا....!‘‘
’’اچھا....؟ تو یہ بات تھی....؟‘‘ اس کی ناک بھنوئیں چڑھ گئیں ....! اور پھر اُسے بھیّا کے اس دن کے جملے یاد آگئے۔ جب اُس نے بھیّا کی پکچر جانے کی شکایت ابّا سے کی تھی تو بھیّا نے کہا تھا.... ’’یاد رکھنا.... آج تم نے مجھے ڈانٹ کھلوائی ہے.... مَیں بھی تمہارا پروگرام کینسل کروں گا.... ایک نہ ایک دن....!‘‘ اور وہ ’ایک دن‘ شاید آج ہی تھا۔
اتنے میں کریم اور جمن بھی آگئے، ’’ارے عقیل میاں .... آپ اچھے ہوگئے؟‘‘ ’’مجھے کیا ہوا تھا....‘‘ بھیّا مسکرائے۔
’’کیونکہ نجمہ بی بی....؟ آپ ہی تو....‘‘ کریم نے کہا۔
’’ہو.... پاگل ہوں گے خود ہی....‘‘ نجمہ یہ کہتی ہوئی پیر پٹختی ہوئی کمرے میں چلی گئی....! اور کریم اور جمن عقیل میاں کو تکتے رہ گئے.... لیکن وہ کوئی فیصلہ نہ کر پائے.... آخر پاگل ہے کون.... عقیل میاں، نجمی بی بی یا وہ دونوں ؟