Inquilab Logo Happiest Places to Work

جیت یا ہار

Updated: May 23, 2026, 11:06 AM IST | Syed Asad Tabish | Mumbai

کھیل میں ایمانداری کا تقاضا بھی ہے، کسی کا بھرم بھی رکھنا ہے،سینئر جماعت کی خوشیوں پر پانی بھی نہیں پھیرنا ہے،تو فیصلہ کیا ہوا؟

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

شعیب میاں پر جیسے کرکٹ کا جنون سوار تھا۔ اسکول کے بعد ہر وقت وہ بلّا تھامے گلی اور میدان میں کرکٹ کھیلتے نظر آتے۔ متوسط گھرانے کے شعیب جسمانی اور ذہنی اعتبار سے اپنی عمر سے کچھ زیادہ ہی شعور مند تھے۔ کرکٹ کا جنون پہلے پہل تو اساتذہ اور سرپرست کو بڑا کھٹکتا مگر جب دیکھا گیا کہ ان میں کچھ شخصی بالیدگی بڑھی ہے تو انھیں روکنا ٹوکنا کم ہوگیا۔ رہن سہن بہتر ہوا اور سوجھ بوجھ بھی ان کی عمر سے زیادہ نظر آنے لگی تھی۔ حالانکہ وہ ابھی جماعت ہفتم کے طالب علم تھے، مگر نہایت ہی سلجھے ہوئے۔ وہ جب بھی بلّے بازی کرتے میدان میں شعیب،شعیب! کے نعرے لگتے اور مخالف ٹیم کے پسینے چھوٹ جاتے۔
اسکول کی سالانہ گیدرنگ ہونے والی تھی۔ تین دن کی گیدرنگ میں دو دن میدانی کھیل اور ایک دن ثقافتی پروگرام ہونے تھے۔ بین المدارس کرکٹ میچ بھی ہونے تھے۔ حسبِ توقع ، شعیب کی جماعت کی ٹیم فائنل میں پہنچ گئی، جہاں ان کا مقابلہ ایک انگلش پرائیویٹ اسکول کی ٹیم کے ساتھ ہونے والا تھا۔ اس ٹیم کے کپتان ظفر ایک بااثر گھرانے کے چشم و چراغ تھے اور کھیلتے بھی خوب تھے۔
فائنل مقابلے میں ظفر نے ٹاس جیت کر پہلے بلّے بازی کرنے کا فیصلہ کیا۔ میدان طلباء ، اساتذہ اور سرپرستوں سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ پندرہ اوور کے میچ میں ظفر کی ٹیم نے ایک سو دس رن بناڈالے۔ اس اننگ میں ظفر نے کافی سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کرتے ہوئے کپتانی پاری کھیلی اور بیش قیمت ۴۶؍ رن بنائے۔ ظفر نے اپنی بلّے بازی میں میدان کے چاروں طرف شارٹس لگائے۔ خاص طور پر میدان میں جہاں کمزور فیلڈرس کھڑے تھے ان کی کمزوری کو بھانپتے ہوئے ادھر لمبے شارٹس مار کر چوکے اور چھکوں کی برسات کر دی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ظفر نے اپنی ٹیم کو اطمینان بخش اسکور تک پہنچا دیا۔
اب جماعت ہفتم کی ٹیم کی باری تھی۔ انہیں  ۱۱۱؍ رن جیت کے لیے درکار تھے۔ میدان شعیب، شعیب! کے فلک شگاف نعروں سے گونج رہا تھا۔ اوپنر بلّے بازوں کے طور پر جنید اور طارق کو اتارا گیا۔ دونوں نے سنبھل کر کھیلنا شروع کیا۔ ۵؍ ویں اوور میں اسکور۲۳؍ رن تھا تب ظفر نے خود گیند بازی کرتے ہوئے پہلا وکٹ چٹخایا۔
اوور کی آخری گیند پر بھی ظفر نے دوسرا وکٹ، وکٹوں کے پیچھے کیچ آؤٹ کرکے حاصل کیا۔ اس طرح جماعت ہفتم کی ٹیم پر بھاری پریشر آگیا۔ چھ اوور میں ان کے ۲۶؍ رن پر دو وکٹ گر چکے تھے۔ شعیب بلّے بازی کے لئے میدان میں اترے تو شائقین نے تالیاں بجا کر ان کا استقبال کیا۔ عرفان اور شعیب نے سنبھل کر بلّے بازی کی۔
۱۳؍ویں اوور میں ان دونوں نے اپنی ٹیم کو ۹۰؍ رن کے اسکور تک پہنچا دیا۔ اگلے دو اوور میں ٹیم کو ۲۲؍ رن درکار تھے۔ شعیب کے ہوتے ہوئے یہ ناممکن بھی نہیں تھا مگر میدان کا وہ حصہ جہاں جماعت دہم کے سرپرست بیٹھے ہوئے تھے، ایسا خاموش تھا جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔ ان سب میں ایک شخص تھے جو ادھر ادھر دیکھ رہے تھے ،وہ تھے ظفر کے والد ،حاجی سلطان سیٹھ۔ انہوں نے کبھی ہار نہیں دیکھی تھی۔ وہ اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے اور پہلو بدلتے رہتے۔ میدان میں ظفر فیلڈ تبدیل کرتے اور باربار بالر کو ہدایت کرتے۔ شعیب کے ساتھی بلِے باز عرفان کریز پر تھے۔ بالر نے تیز رفتاری سے گیند کی جو عرفان کے پیروں پر لگی۔ عرفان اس تیز رفتار گیند سے تھوڑے زخمی ہوئے اور کچھ دیر کھیل روکنا پڑا۔

یہ بھی پڑھئے: مختصر کہانی: چل رے کدو ٹھمک ٹھمک

اسے تین مہینے پہلے کا ایک واقعہ یاد آگیا۔ کسی فلم کی طرح اس واقعہ کا ایک ایک لمحہ وہ اپنے تخیل کے پردے پر دیکھ رہا تھا۔ شعیب بازار سے سبزی لئے اپنی سائیکل پر جا رہا تھا۔ رہائشی  علاقے  کی سڑک کی دونوں جانب فٹپاتھ بنی ہوئی تھی۔ سڑک پر جیسے ہی پیچھے سے ایک اسکوٹر کی آواز آئی شعیب نے اپنی سائیکل تیز دوڑانی شروع کر دی۔ اسکوٹر کبھی آگے تو کبھی سائیکل آگے نکل جاتی۔ اسکوٹر والے انکل جیسے شعیب کی شرارت سمجھ گئے تھے اور وہ یہ بھی سمجھ رہے تھے کہ اس سے ضد کریں تو کہیں شعیب کوئی حادثہ نہ کر بیٹھے۔ اس لئے انھوں نے اپنے اسکوٹر کو شعیب کی سائیکل سے پیچھے رکھنے میں ہی عافیت سمجھی۔ سڑک کا موڈ آتے ہی شعیب فرّاٹے بھرتا ہوا اور شکریہ انکل کہتا ہوا اپنے گھر کی طرف چلا گیا۔  ناظرین کے شور سے شعیب فلیش بیک سے میچ میں لوٹ آیا مگر اس پر یہ عقدہ ضرور کھل گیا کہ اسکوٹر  والے انکل اس سے دانستہ طور پر پیچھے رہے تھے۔ اس کی سوچ کی موجوں میں ایک طغیانی بپا تھی۔ ظفر میچ جتنے کی انتھک کوشش کر رہے تھے۔ ان کا چہرہ تمتما رہا تھا۔ مخالف ٹیم کے دیگر کھلاڑی ناامید لگ رہے تھے۔ اسٹیڈیم میں ظفر کے والد تھے جنھیں لگتا تھا ان کا بیٹا نہیں ہار سکتا، وہ پر اعتماد تھے۔ تب شعیب یہ سب دیکھ رہے تھے ،وہ تھوڑا بہت پریشر میں تھے۔ حالانکہ مخالف ٹیم کے گیند باز نے بھی بوکھلاہٹ میں دو گیندیں ایسی پھینکی جن پر شعیب نے بڑی آسانی سے چھ رن لیے۔ اب آٹھ گیندوں پر ۱۶؍ رنز درکار تھے۔ اگلی گیند پر ایک ہی رن ملا، دو گیندوں پر عرفان ایک ہی دن بنا سکے اور آخری اوور میں پندرہ رن کا ٹارگٹ سامنے تھا۔ عرفان ہی کریز پر تھے۔ ظفر اپنے گیند باز کو ہر بال سے پہلے سمجھاتے اور فیلڈر کو اشارہ کرکے ادھر ادھر سیٹ کرتے۔ عرفان نے پہلی گیند پر ایک رن لیا اور شعیب کو اسٹرائیک دی۔ پانچ گیندیں اور ۱۴؍ رن کا فاصلہ۔ ہر گیند کا وقفہ ایسے گزر رہا تھا جیسے ایک زمانہ کروٹ لے رہا ہو۔ شعیب نے اپنی امیج کو ثابت کیا اور لگاتار دو گیندوں پر دو چوکے جڑ دیئے۔ اب دو گیندوں پر چھ رن کی دوری۔ شعیب جیت سے قریب مگر میچ کے شور شرابہ اور ہنگاموں سے دور اپنے خیالوں میں گم تھے۔ وہ سوچ رہے تھے،مجھے اپنی سینئر جماعت کی خوشیوں پر پانی نہیں پھیرنا چاہئے… نہیں مجھے اپنے کھیل کے تئیں ایماندار رہتے ہوئے ٹیم کو جیت سے ہمکنار کرنا چاہئے… ظفر جیت گیا تو اس کے والد سیٹھ صاحب کا بھرم رہ جائے گا، بے چارے اتنے پرامید بیٹھے ہیں… ہمارے بھی تو والدین میچ دیکھ رہے ہیں، ان کی بھی امیدیں ہیں…ارے کیا ہوا ہمیں کیا فرق پڑ جائے گا اس ایک ہار سے… میں کھیل اور ٹیم کو دھوکا نہیں دے سکتا۔
مگر بالر کی پانچویں گیند شعیب کو دھوکا دے گئی۔ بالر نے گیند کو دھیمی رفتا سے پھینکا ،شعیب لمبا شاٹ کھیلنے کے لئے کریز چھوڑ چکے تھے اور وہ وکٹوں کے پیچھے اسٹمپ ہوگئے۔ ایک گیند بچی تھی مگر میچ ختم ہو گیا تھا۔ شائقین پر جوش ہوکر تالیاں بجا رہے تھے۔ ظفر کے والد فاتحانہ قہقہے لگا رہے تھے۔ شعیب اپنی ٹیم کے پاس آچکے تھے اور سوچ رہے تھے۔ یہ جیت ہے یا ہار؟ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK