امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران آج ہی جنگ ختم کرنے کے معاہدے کو قبول کر سکتا ہے، جبکہ ایک ایرانی اہلکار کے مطابق ایران نے پاکستانی ثالث کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت (MoU) طے کر لی ہے اور اب امریکی جواب کا انتظار کر رہا ہے۔
EPAPER
Updated: May 23, 2026, 10:02 PM IST | Washington
امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران آج ہی جنگ ختم کرنے کے معاہدے کو قبول کر سکتا ہے، جبکہ ایک ایرانی اہلکار کے مطابق ایران نے پاکستانی ثالث کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت (MoU) طے کر لی ہے اور اب امریکی جواب کا انتظار کر رہا ہے۔
امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران آج ہی جنگبندی معاہدے کو قبول کر سکتا ہے۔جبکہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ وہ معاہدے سے بہت دور اور بہت قریب دونوں ہیں۔ تاہم، الجزیرہ کو بتانے والے ایک ایرانی اہلکار کے مطابق ایران نے پاکستانی ثالث کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت (MoU) طے کر لی ہے اور اب امریکی جواب کا انتظار کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فرانس نے اسرائیلی کابینی وزیراتمار بین گوئیر کے فرانس میں داخلے پرپابندی عائد کی
دریں اثناءامریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے سنیچر کو کہا کہ امکان ہے کہ ایران مشرق وسطیٰ کی جنگ ختم کرنے کے معاہدے کو سنیچر کے دن ہی قبول کر لے۔ روبیو نے صحافیوں سے کہا، ’’ایسا موقع ہے کہ آج رات، کل، یا چند دنوں میں ہمارے پاس کہنے کو کچھ ہو سکتا ہے۔‘‘ساتھ ہی انہوں نے ’’اچھی خبر‘‘کی امید ظاہر کی۔روبیو نے کہا کہ ایرانی مسئلے پر کچھ پیش رفت ہوئی ہے، لیکن مسئلہ حل طلب ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا، آبنائے ہرمز بلا محصول کھلی رہنی چاہیے، اور ایران کو اپنا اعلیٰ افزودہ یورینیم واپس دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سفارتی راستہ صدر کا ترجیحی طریقہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ کے باعث ٹرمپ کا بیٹے کی شادی میں شرکت سے معذرت
بعد ازاں ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق ایران امریکہ کے سا تھ حتمی معاہدے کےمسودے کے ’’آخری مرحلے‘‘میں ہے۔ ایک ایرانی اہلکار نے الجزیرہ کو بتایا کہ ایران نے پاکستانی ثالث کے ساتھ مسودہ تیار کر لیا ہے اور امریکی جواب کے منتظر ہیں۔ بقائی نے کہا کہ مفاہمت کی یادداشت کے متن میں۳۰؍ اور۶۰؍ دن کی مدت شامل ہے۔مزید برآں روبیو نے ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہندوستان امریکہ کے انڈو-پیسفک نقطہ نظر کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی کمپنیوں نے امریکہ میں۲۰؍ بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ روبیو نے مزید کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی اور سب سے پرانی جمہوریتیں (ہندوستان اور امریکہ) فطری شراکت دار ہیں۔